صوبائی محتسب کا ادارہ: مظلوم کے لئے امید کی کرن

صوبائی محتسب کا ادارہ: مظلوم کے لئے امید کی کرن
صوبائی محتسب کا ادارہ: مظلوم کے لئے امید کی کرن

  

صوبائی محتسب کا ادارہ مظلوم شہریوں کے لئے روشنی کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے جو ان کو ریلیف فراہم کررہا ہے۔اگریہ کہا جائے کہ یہ ادارہ آئین پاکستان میں دی گئی شہری حقو ق کی ضمانتوں کے مطابق شہریوں کو سستا اور فوری انصاف فراہم کررہا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔چند روزقبل صوبائی محتسب جاوید محمود نے گورنر پنجاب کو ادارے کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق سال 2014ء میں کل 21899 درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ 9776کیس زیرالتواء تھے اور 2014ء میں 26622کیسوں کو نمٹایا گیا۔ سب سے زیادہ شکایات محکمہ پولیس کے خلاف 3714تھیں، محکمہ تعلیم کے خلاف 2797، محکمہ مال کے خلاف 2102 شکایات، لوکل گورنمنٹ کے خلاف 1980 اور محکمہ صحت کے خلاف 1280شکایات وصول ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق پولیس کے خلاف زیادہ تر شکایات ایف آئی آر درج نہ کرنے، مقدمات کی تفتیش کے لئے پولیس ٹاؤٹوں سے رابطہ کرنا، ایف آئی آر کی عدم دستیابی، تفتیشی افسر کا اپنے ہاتھ سے ضمنی نہ لکھنا، مجرموں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے سے متعلقہ تھیں۔اِسی طرح انکوائریوں کے لئے کیس انہی آفیسرز یا اہلکاران کو بھجوادیئے جاتے ہیں جن کے خلاف شکایت کنندہ نے شکایت کی ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کے خلاف زیادہ تر درخواستیں رزلٹ کارڈ اور رول نمبر جاری کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرنے، سرکاری سکولوں میں سہولیات کی عدم دستیابی، سکولوں کی چار دیواری نہ ہونے، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ، سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی، پنشن کیسوں میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے بارے میں ہیں۔

صوبائی محتسب نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے پنجاب کی سو سے زائد تحصیلوں کے ریونیوریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرکے شاندار کام کیا ہے۔اب توقع کی جاسکتی ہے کہ ریونیور ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے فرد ملکیت کا اجراء آسان ہوگا، زمین مالک کے لئے انتقالات کی رجسٹریشن اب کوئی مسئلہ نہیں رہے گا، ریونیور اہلکاروں کی طرف سے کرپشن کے رجحان میں کمی ہوگی ، ریونیور ریکارڈ اپ ڈیٹ ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریونیواہلکاروں کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ابھی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔شکایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریونیوآفیسرز انتقالات شیٹ پر اپنے ہاتھ سے آڈر نہیں لکھتے اور نہ ہی ’’اجلاس عام‘‘ میں ایسا کرتے ہیں۔

اِسی طرح محکمہ لوکل گورنمنٹ کے خلاف زیادہ تر شکایات پنشن کیسز تیار کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرنے سے متعلق وصولی ہوئی ہیں ۔ان شکایات میں غفلت اور پنشن رولز سے متعلق معلومات نہ ہونا جیسے مسائل ہیں۔پیدائش سرٹیفکیٹ، ڈیتھ سر ٹیفکیٹ، نکاح نامہ اور طلاق نامہ جاری کرنے میں غیر ضروری تاخیرکی شکایات عام ہیں۔سٹرکوں اور عوامی رستوں پر تجاوزات کا قیام عام ہے اور تجاوزات کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی جاتی۔تجاوزات سے پیدل چلنے والوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ترقیاتی سکمیوں کے علاوہ تعمیر ومرمت اور آرائش و تزئین کے منصوبوں میں غیرضروری تاخیر کی جاتی ہے ، جس سے بدانتظامی اور رشوت کی شکایات عام ہیں۔

صوبائی محتسب کے لاہور میں ہیڈ آفس کے علاوہ ملتان، راولپنڈی اور سرگودھا میں تین ریجنل دفاترقائم تھے اور یہ چاروں دفاتر پورے صوبے کے سائلین کی شکایات کے حل کے لئے کام کرتے ہیں۔ صوبائی محتسب پنجاب جاوید محمود کو اس امر کا کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے محتسب کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے صوبے کے 36اضلاع اور تحصیل کی سطح پر دفاتر قائم کردیئے ہیں۔اس سے لوگوں کی شکایات تیزی سے حل ہوں گی اورلوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ اس سے نہ صرف سرکاری افسروں و ملازمین کی سفری مشکلات میں کمی ہوگی، بلکہ ان کے اوپر ٹی اے/ ڈی اے کی شکل ان پر اٹھنے والے حکومتی اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی۔ صوبائی محتسب جاوید محمود نے حکومت پنجاب کی سپورٹ اور کوآرڈی نیشن سے ڈی سی او آفسزاور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے دفاتر میں محتسب کے دفاترقائم کر کے فعال کر دیئے ہیں۔ اسی طرح جاوید محمود نے صوبائی محتسب آفس میں ’’ محتسب پنجاب پنشن سیل‘‘ کا قیام بھی احسن اقدام ہے۔پنشن رولز سے متعلقہ حکومت پنجاب کی ہدایات اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کے مطابق پنشن کیسوں کی منظوری دینے والے حکام اس بات کے پابند ہیں کہ تمام ریٹائرڈ ہونے والے افسران و اہلکاران کے پنشن کے کیس ان کے ریٹائر ہونے سے ایک سال قبل تیار کرلئے جائیں، مگر مجاز حکام رولز/آرڈی ننس کو نظر انداز کردیتے ہیں،جس کی وجہ سے بد انتظامی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

صوبائی محتسب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں پراونشل پنشن کیسز ڈسپوزل کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔ پنشنرز کے مسائل کے حل کے لئے محتسب پنجاب پنشن سیل اس کمیٹی کی معاونت اور کوآرڈینیشن سے کام کررہا ہے۔محتسب پنجاب ہیڈ آفس لاہور کے علاوہ صوبہ کے 36اضلاع میں ہر ماہ کی 15تاریخ کو پنشن ڈے منایا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں ریٹائرڈ ملازمین شرکت کرتے ہیں اور زیادہ تر کی شکایات موقع پر ہی حل کردی جاتی ہیں۔

شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی شکایات اور ان کی بدانتظامی اور متعلقہ حکام کو ان سے آگاہ کرنے کے لئے خبروں، میڈیا رپورٹس اور کالموں سے استفادہ کرنے کے لئے ایک پالیسی مرتب کی گئی ہے۔اب سرکاری محکموں کی بدانتظامی سے متعلق اخباری تراشوں اور میڈیارپورٹس ضروری کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کو بھجوائی جاتی ہیں جسے نہ صرف محکموں کی کارکردگی کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے، بلکہ گڈ گورننس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔صوبائی محتسب کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران 11505 میڈیا رپورٹس، متعلقہ ایجنسیوں اور محکمہ جات کو مزید کارروائی کے لئے بھجوائی گئیں،جن میں سے زیادہ ترکیسوں پر عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا گیا اور صوبائی محتسب کو تعمیل کی رپورٹ پیش کی گئی۔

حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم قرآن وسنت کی پیروی کریں اورمعاشرے میں ہم آہنگی، برداشت تحمل کی فضاکو پیداکرنے اور انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کو پہچانیں تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ معاشرتی بگاڑکی وجہ سے آج ہم پستی کی طرف جارہے ہیں۔ ہم خود احتسابی کے ذریعے اپنے اندر کے خود غرض اورلالچی نفس کومار ہی سرخرو ہو سکتے ہیں۔حضرت علی کا قول۔۔۔’’معاشرہ کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے ظلم اور نا انصافی کے ساتھ نہیں‘‘۔

مزید :

کالم -