ساون کے موسم کا ہمارے مزاج سے تال میل

ساون کے موسم کا ہمارے مزاج سے تال میل
ساون کے موسم کا ہمارے مزاج سے تال میل

  



قوموں کے مزاج پر موسموں کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔قوموں کا مزاج ہی انہیں ترقی وخوشحالی کے سفر پر مضبوط قوت ارادی سے گامز ن رکھتا ہے۔کسی بھی قوم کا مزاج اس کا اصل سیکرٹ ہوتا ہے۔ہم جس خطے میں رہتے ہیں، اس کا مزاج گرم ہے ،اس پر ایک مخصوص وقت ،یعنی جولائی اگست میں آنے والا ساون کا موسم گہرے اثرات چھوڑتا ہے ،اچھا بھلا چمکتا سورج دن کی رفتار کے ساتھ لوگوں کے روزمرہ کے معمول کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے کہ اچانک کہیں سے کالے بادل نمودار ہوجاتے ہیں اور ہر طرف اندھیرا کر دیتے ہیں۔کچھ وقت کے لئے خوب گھن گرج سے برستے ہیں اور سارے معمولات زندگی تلپٹ ہو جاتے ہیں۔آپ کو کبھی لاہور ریلوے سٹیشن کے سامنے لوہے کے گول جنگلے پر سجے بازار اور اس سے تھوڑے فاصلے پر نولکھا بازار میں ریڑھیوں پر سجی منی موبائل دکانیں اس موسم میں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو تو زندگی کا سفر پوری رفتار سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے ،مگر جونہی سورج کے سامنے کالے بادل اپنے مہیب سایوں کے ساتھ آبسیرا کرتے ہیں اور ہر طرف اندھیرا چھانے لگتا ہے تو سامنے جنگلے پر سجی دنیا چند منٹوں میں پلاسٹک کے لفافوں میں پیک ہو کر وہاں سے کسی محفوظ مقام کی طرف بڑھنے لگتی ہے، نولکھا بازار میں سجی ریڑھیاں اچانک غائب ہونے لگتی ہیں اور دن کا سارا منظر اچانک تبدیل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی ریل پیل کی جگہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجب ویرانی چھا جاتی ہے۔

مری سے ایبٹ آباد اور سیالکوٹ بلکہ لاہور تک اس موسم کے بڑے گہرے اثرات لوگوں کے مزاج میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔اچھے بھلے روشن اجالے کو چند لمحوں میں اندھیرے میں بدلنے کی جھلک اکثر اس خطے کے باسیوں میں بھی دیکھی جاتی ہے ،مگر بد قسمتی سے جب یہی لوگ کسی اہم قومی منصب پر فائز ہوکر ایسے مزاج کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے پورے ملک پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ہمارے اسی مزاج نے ہمیں بے تکی بڑھکیں مارنے کا ایسا فطری بانکپن عطا کیا ہے کہ سات لاکھ پچانوے ہزار مربع میل پر پھیلا یہ خطہ دو اڑھائی سو مربع میل کے مزاج کا خراج ادا کرنے پر مجبورہے۔ہم عمل سے زیادہ بڑھکوں کے عادی ہو چکے اور بڑھکوں کی گرجدار آوازوں سے اپنی بنیادیں ہلا کر ہی محظوظ ہوتے ہیں۔

آزادی حاصل کئے ابھی ہمیں بمشکل اٹھارہ سال ہی مکمل ہوئے تھے ، ہمارے سب ادارے تشکیل کے مراحل میں تھے،ملکی ترقی کے لئے ہم نے ایک مثبت سفر کا آغاز کر دیا تھا ۔1960ء میں امریکن کمپنی TAMS نے تربیلا ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر دی تھی اور منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1961ء میں کر دیا گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی نہروں کا وسیع جال بچھایا جا رہا تھا، جس سے زرعی انقلاب کا روشن سویرا صاف نظر آنے لگا تھا۔ دوسری طرف ان دونوں بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بعد سستی بجلی سے صنعتی ترقی کی روشنی بھی نظر آنے لگی تھی، مگر ان ابتدائی مراحل میں ہی اچانک دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کا سفر جنگ کے گہرے بادلوں کی لپیٹ میں چلا گیا۔اس جنگ کو ہر صورت میں ٹالا جانا چاہئے تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ اس ابتدائی سفر کو آنے والے خطرات سے بچا کر آگے بڑھنے دیا جاتا،بجائے اس کے کہ سفر کے دوران بھونکنے والے ہر کتے کے پیچھے پتھر اٹھا کر بھاگنے اور اسے گھر تک چھوڑنے کی جدوجہد میں وقت ضائع کیا جاتا، مگر ایوب خان نے پتھر اٹھا کر سفر کا رخ موڑدیا۔ ڈیم بننے کا جو ایک انقلابی عمل شروع ہوا تھا ،وہ انہی دو ڈیموں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ترقی کے سفر کے آگے ہم نے اپنی مخصوص طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک بڑا سپیڈ بریکر لگا دیا۔

پاکستان جس کے پاس قدرت کے نایاب تحفے زرخیز زمین اور پانی کی دولت موجود تھی اور اس نے ابتدا میں اس دولت سے فائدہ اٹھانے کا جو سفر شروع کیا تھا، اسے اپنی ہی گرجنے کی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر روک دیا۔ہم اگر مری سے دو سو میل ہٹ کر دیکھیں تو یہاں سے جتنے بھی حکمران آئے ،کسی نے جنگ کی بڑھک نہیں ماری اور ہمیشہ امن کی بات کی۔ہمسایوں سے بہتر تعلقات بنانے کے کوشش کرتے رہے ۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ درمیان میں اس خطے کی مخصوص ساخت سے مبراذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا۔لاڑ کانہ سے تعلق رکھنے والے بھٹو نے ترقی کے سفر سے اتری ٹرین کو دوبارہ سیدھا کر کے سفر کا آغاز کر دیا۔ کراچی سٹیل ملز، واہ فیکٹری، ایٹمی ٹیکنالوجی اور پاکستانیوں کو عرب ممالک میں روزگار کے ذریعے سرمایہ لانے سمیت بھٹو نے پاکستان کی ترقی کے لئے کئی مثبت کام کئے، مگر بھٹو کو ضیاء الحق کی نظر لگ گئی۔ضیاء الحق کا سارا دور گرجنے اور چمکنے میں ضائع ہوا،مگر ملکی ترقی کے لئے بس تسلیاں دلاسے ہی دیئے جاتے رہے۔کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ضیاء الحق کے دور میں آسانی سے مکمل ہو سکتا تھا، مگر انہوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے نت نئے منصوبوں کے سوا کچھ نہ کیا۔

ایک طویل اندھیری رات کے بعد پھر سے ایک روشن صبح ہمیں نصیب ہو رہی ہے۔ترقی کے سفر سے اتری ٹرین کو پھر سے سیدھا کرکے چلانے میں کامیابی یقینی نظر آ رہی ہے۔ہماری آرمی دہشت گردوں کے خلاف اپنے دلیرانہ اقدامات سے امن کے لئے جدوجہد کر رہی ہے اور اسے بہت بڑی کامیابی مل رہی ہے۔ دوسری طر ف حکومت پر شدید عوامی دباؤ ہے کہ وہ توانائی کے بحران کو ختم کرے، جس کے لئے سولر ،کوئلے اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔چین کے ساتھ ایک عظیم الشان تجارتی شاہراہ کی تعمیر پر کام شروع ہو رہا ہے جو مستقبل میں انقلاب برپا کرے گی۔ سڑکوں ،پلوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر جاری ہے۔آہستہ آہستہ ٹرین پٹڑی پر چلنا شروع ہو گئی ہے،مگر مری سے دوسو میل دور مخصوص موسمیاتی سوچ سے متاثر لوگ پھر سے متحرک ہو گئے ہیں۔سیالکوٹ کے حکومتی وزیر خواجہ آصف کا بیان کہ ’’ہم نے ایٹم بم شب برات پر چلانے کے لئے نہیں رکھا‘‘ ۔۔۔کیا اس بیان کی ضرورت ہے؟ کسے علم نہیں کہ اسے استعمال کرنے کے زمانے گزر چکے، دنیا انسانوں کو محفوظ بنانے اور انہیں تباہیوں سے بچانے کے لئے سر جوڑے بیٹھی ہے،امن کے نوبل انعام دے رہی ہے ،اب اس گلوبل ورلڈ میں ایٹم بم کے استعمال کا اعلان کرنا اپنے آپ کو ایک غیر ذمہ دار قوم کے طور پر متعارف کرانے کا اعلان ہے، جو لوگ جنگ کی بات کرتے ہیں۔یہ سب انہی موسمیاتی اثرات سے متاثر لوگ ہیں، جنہیں اچھے بھلے روشن دن میں گرج چمک سے سب کچھ تلپٹ کرنے کا جنون سوار ہے۔ہماری پوری قوم کی طرف سے ان سب سے جان کی امان پا کردونوں ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ خدا کے لئے اب جنگی جنون سے باہر نکلو۔ گرجنے اور برسنے کی عادت میں کچھ تبدیلی لاؤ۔

خدا کے لئے اس جنگی جنون سے باہر نکلئے، ہندوستان سے لڑائی کا شوق ضرور پورا کیجئے گا، لیکن ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔۔ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘۔۔۔ہمیں دو ٹوک فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہندوستان سے ہمیں لڑائی جاری رکھنی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف جنگی جنون طاری رکھنا ہے یا ہندوستان سے بھی آگے دوسرے ممالک کے سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں لا کر یہاں خوشحالی لانی ہے۔ہمیں مستقبل میں سمندر پر سڑک اور ریلوے لائن بچھا کر دنیا کا اکنامک ہب بننا ہے یا ایٹم بم کے جنون میں مبتلا ہو کر بیانات داغتے رہنا ہے۔کیا ہم کسی نئے معرکے کے متحمل ہیں،جبکہ بنیادی طور پر وہی معیشت میں بہتری،دہشت گردی کا مکمل خاتمہ، توانائی بحران کو کم کرنا،ڈیموں کی تعمیر،بے روزگاری، پینے کے صاف پانی کی فراہمی،زرعی ترقی، شرح تعلیم میں اضافہ ،کرپشن کا خاتمہ،اداروں کی مضبوطی جیسے کئی بڑے بڑے چیلنجوں سے نمٹنا ضروری ہے۔خدا کے لئے پہلے ملک کو درپیش ان چیلنجوں سے مل کر نمٹ لیں جب یہ چیلنج ختم ہو جائیں گے تو پھر کھل کر بھڑکیں ماریئے گا۔

ہمارے مخصوص مزاج نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ہمارے ہاں ایک فلم مولا جٹ بنی تھی۔ اس کے بعد آج تک ہم مولا جٹ ہی نام بدل بدل کر بنائے جا رہے ہیں، جبکہ انڈیا نے شعلے بنائی، مگر وہ بہت جلد اس کے سحر سے نکل گیا۔ہندوستانی وزیراعظم نے بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف تقریر کی ،مگر وہ روس کے شہر اوفامیں وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں امن کی بات کر رہا تھا، اسی کو انٹرنیشنل ڈپلومیسی کہتے ہیں ،جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک اس تقریر کے حوالے سے جذباتی فضا کو قائم رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ہندوستان اور ہمارے مزاج کے اسی فرق کی وجہ سے ہندوستان ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے ،جبکہ ہم ابھی تک ترقی کی شاہراہ پر اپنی ٹرین چلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...