عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ!

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ!
عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ!

  



عدالت عظمیٰ میں اٹھارویں اور اکیسویں ترمیم کے علاوہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر اپیلوں کا فیصلہ آگیا ہے۔ ترامیم کو عدالت نے جواز فراہم کیاہے اور اپیلیں خارج کر دی ہیں۔ سترہ ججوں پر مشتمل عدلیہ کے چودہ ججوں نے اٹھارویں ترمیم کے حق میں اور تین نے مخالفت میں رائے دی۔ جبکہ اکیسویں ترمیم کے جواز میں نسبت گیارہ اور چھ کی رہی۔ اس طرح فوجی عدالتوں کے قیام کو عدالت عظمیٰ نے جواز فراہم کر دیا۔ ان فیصلوں میں بعض اہم چیزیں سامنے آئی ہیں اور ان پر رد عمل کا اظہار بھی مختلف انداز میں کیا جارہا ہے۔ لوگ حق میں بھی رائے دے رہے ہیں اور مخالفت میں بھی اور کچھ لوگ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ نظریۂ ضرورت کے حوالے بھی سامنے آرہے ہیں۔ بہرحال ججوں نے کثرتِ رائے سے جو فیصلہ دے دیا ہے وہ لاگو ہوگا۔

فوجی عدالتوں کے حوالے سے عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ مثبت بات لکھ دی ہے کہ ان کے فیصلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا۔ ظاہر ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام پر تمام سیاسی پارٹیوں اور پارلیمانی گروپوں نے اتفاق کیا تھا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے اگرچہ بعض کا اتفاق مشروط تھا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام پر قومی اتفاق رائے کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ عام لوگوں اور ذرائع ابلاغ نے بھی اسے سراہا تھا۔ قانون دان حلقوں نے البتہ اس کی مخالفت کی تھی اور اس کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں کیس دائر کیے تھے جن کے خلاف فیصلہ آچکا ہے۔ مدعیان کی طرف سے اب بھی نظر ثانی کی اپیل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ججوں میں جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل ہیں، جو سترہ اگست کو پاکستان کے 23ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں۔ ہرچند کہ ان کا عہدہ چند دنوں کے لئے ہے پھر وہ ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ ان کی یہ مدت صرف 26 دن کے لئے ہوگی اور 10ستمبر کو ان کی ریٹائرمنٹ ہوجائے گی۔پھر جسٹس انور ظہیر جمالی صاحب اس منصب پر فائز ہوں گے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے بطور جج جرأت مندانہ فیصلے کیے اور نیک نامی کمائی۔ اردو زبان کے حق میں بھی دستور کے مطابق انھوں نے ہی فیصلہ دیا۔ موجودہ فیصلوں کے دوران انھوں نے اپنا اختلافی نوٹ بھی اردو میں لکھا اور یہ مثال قائم کی کہ عدالت عظمیٰ کا ایک جج قومی زبان میں نوٹ لکھ رہا ہے۔ اللہ کرے کہ اس ملک کا قبلہ درست ہوجائے اور قومی زبان کو اس کا مقام مل جائے۔

فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کی مدت محدود ہے اور ان کے فیصلے بھی سامنے آرہے ہیں۔ اگر جرائم کا خاتمہ اور دہشت گردی کا انسداد ہوجائے تو اس سے بڑی ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر شخص کو مکمل انصاف ملے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے جو فیصلے سنائے جائیں ان میں برکت بھی ہوتی ہے اور قبولیتِ عامہ بھی۔ انصاف کا قیام اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اساسی حکم ہے۔ جو معاشرے بے انصافی کا شکار ہوجائیں وہ مٹ جاتے ہیں۔ ایک بات قابل غور ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے قبل بھی سول عدالتوں میں انسداد دہشت گردی کے بینچ قائم تھے، جو اب بھی کام کر رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں اور سول عدالتوں کے ذریعے سیکڑوں مجرموں کو ان کے گھناؤنے جرائم پر سزائیں دی گئیں۔ ان جرائم پر سزائے موت پانے والے بھی سیکڑوں سے متجاوز تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد عالمی قوتوں کے دباؤ پر معطل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال قومی اتفاق رائے سے اس دباؤ سے نکل کر سزا یافتہ مجرموں کو تختۂ دار پر لٹکانے کا سلسلہ شروع ہوا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ اب تک کئی سزا یافتہ مجرم سزا پاچکے ہیں، جبکہ بہت سے ابھی منتظر ہیں۔

عالمی اداروں کا معیار خیر و شر انتہائی عجیب بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ آپ اندازہ کیجیے کہ دو روز پہلے کراچی میں ایک مجرم شفقت حسین کو سزائے موت دی گئی تو اس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بہت احتجاج کیا۔ اس سزا پر عمل درآمد کو ظالمانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ یہ کون سی انسانیت اور یہ کہاں کی تہذیب ہے کہ جرم سے مکمل طور پر قطع نظر کرکے محض سزا پانے والے فرد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ قانون کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ادھر جرم ہوا اور ادھر متعلقہ فرد کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جرم کی نوعیت بھی ذرا دیکھیے پھر ان انسانیت کے نام نہاد ہمدردوں کا چہرہ آپ کو ٹھیک ٹھیک نظر آجائے گا۔ مجرم نے ایک چھ سالہ معصوم بچے کی آبرو ریزی کی ، پھر اسے قتل کیا اور مہینے سے زیادہ اس کی لاش گٹر میں گلتی سڑتی رہی۔ ان ماں باپ اور بہن بھائیوں پر کیا قیامت گزری ہوگی، جن کے چمن کا یہ پھول اس ظلم کی بھینٹ چڑھا۔ اس درندگی کا ارتکاب کرنے والے سے ہمدردی اور دوستی کرنے والے اگر درندہ صفت نہیں تو کیا ہیں؟ ان کی نظروں سے مظلوم کیوں اوجھل ہوجاتے ہیں؟

ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری موجود عدالتوں نے بھی اکثر کیسوں کے فیصلے سنائے تھے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کراچی اور بعض دیگر علاقوں میں دن دیہاڑے قتل کرنے والے اور ایک نہیں بیسیوں انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے عدالتوں سے سزا پانے کی بجائے دندناتے پھرے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں کوئی مظلوم داد رسی نہ پاسکا۔ پولیس بھی بے بس اور گواہان بھی اپنی جان کے خطرے سے خاموش۔ ظاہر ہے ایسے میں عدالتیں کیا فیصلہ کرسکتی ہیں؟ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اگر فوجی عدالتیں قائم کی جائیں اور مجرموں سے ٹھیک تفتیش کے ساتھ گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تو ممکن ہے کہ ایسے مجرم قانون کے دائرے میں لائے جاسکیں۔ فوجی عدالتوں کے ذمہ داران کو جو تحفظ حاصل ہے، وہ سویلین ، عدلیہ کو حاصل نہیں ہے۔

بہت سے تفتیشی افسران اور سویلین جج کیسوں کی سماعت کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی۔ راولپنڈی میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر خان نیازی کو ان کے گھر کے باہر اندھا دھند فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔ موصوف کے پاس کئی ہائی پروفائل کیس اور قتل کے مقدمات زیرسماعت تھے۔ تین حملہ آور ان کے گھر پر آئے اور بیل دی۔ جب نیازی صاحب نے دروازہ کھولا تو مجرموں نے فائرنگ کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تینوں مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسے واقعات کے بعد اکثر لوگ اس بات کے قائل ہوگئے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو بھی ممکن ذرائع اور طریقے ہوں، انھیں استعمال کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اسی چیز نے فوجی عدالتوں کے قیام کی راہ ہموار کی۔اب فوجی عدالتوں کا بھی بڑا امتحان ہے کہ ان کے فیصلے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دہشت گردی پر کیسے قابو پاتے ہیں۔ دہشت گردی کا قلع قمع ہوگیا تو یہ بہت بڑی نیکی اور خیر ہوگا۔

مزید : کالم


loading...