سانحۂ قصور: پولیس کی شرمناک تاویلیں

سانحۂ قصور: پولیس کی شرمناک تاویلیں
سانحۂ قصور: پولیس کی شرمناک تاویلیں

  



قصور پولیس نے بری کارکردگی کی جو تاریخ رقم کی ہے ،اُس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی، حیرانی اس بات پر ہے کہ ڈی پی او اور آ رپی او سطح کے افسر انتہائی ڈھٹائی سے اپنی شرمناک پولیسنگ کا دفاع کر رہے ہیں۔ پولیس آرڈر میں کہاں لکھا ہے جب کسی جرم کی پولیس کو اطلاع ملے گی، تب وہ حرکت میں آئے گی۔ پولیس کا کام تو جرائم کو روکنا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے قصور کے ایک علاقے میں گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا تھا اور پولیس بے خبر تھی۔ بوس و کنار کرتے جوڑوں کی تلاش میں گیسٹ ہاؤسوں پر چھاپے مارنے والی پولیس کو آخر اتنے بڑے واقعہ کا علم کیوں نہیں ہو سکا۔ آر پی او کی یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ پولیس نے مساجد میں اعلان کرائے کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو شہادت پیش کی جائے، مگر کوئی نہ آیا۔ دوسری طرف کئی ماہ سے اس مسئلے پر لوگ سڑکوں پر آ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، جس نے پولیس کے اعلیٰ افسروں کو بھی حقائق پر پردہ ڈالنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ ڈی پی او کی اس بات پر سوائے ہنسی آنے کے اور کوئی تاثر نہیں اُبھرتا کہ وہ بے گناہوں کو گرفتار نہیں کر سکتے، کیونکہ پولیس انصاف کے تقاضے پورے کرنا چاہتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ عام کیسوں میں تو پولیس شک کی بنیاد پر درجنوں لوگوں کو پکڑ لیتی ہے۔ یہ اس قدر سنگین کیس ہے کہ جس نے معاشرے کی بنیاد یں ہلا دی ہیں، اس میں اگر شک کی بنیاد پر کچھ لوگوں کو حراست میں لیا جانا ضروری ہے تو ایسی آئیڈیل قسم کی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ مَیں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کیس پاکستان میں سیاسی مداخلت اور دباؤ کی بدترین مثال ہے، جس نے قانون کو بالکل ہی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، حتیٰ کہ تمام تر شواہد اور ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود پولیس افسران ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور اس کے پس پردہ دور کی کوڑیاں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ حقائق کو توڑ مروڑ سکیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے اس قدر واقعات کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 400 بچوں کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا گیا اور ان کی ویڈیوز بنا کر ورثاء سے کروڑوں روپے بھی بٹورے گئے ہیں۔ ورثاء دھائی دے رہے ہیں کہ انہوں نے کئی بار پولیس کو اس کی اطلاع دی، مگر کارروائی نہ ہوئی۔ باقاعدہ ایف آئی آرز بھی کٹوائی گئیں، لیکن پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی۔ حکومتی جماعت کے ایک رکن اسمبلی کا نام سامنے آ چکا ہے، جس نے اس سارے معاملے کو دبانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ مظاہرین اس کا نام سرعام لے رہے ہیں، لیکن مجال ہے کہ اس کے خلاف کسی سطح پر کوئی آواز اُٹھی ہو یا کارروائی کی گئی ہو۔ پنجاب میں اگر قانون کی دھجیاں اسی طرح اڑائی جاتی رہیں اور سیاسی مصلحتیں آڑے آتی رہیں تو پھر کراچی میں ہونے والا آپریشن واقعی ایک خاص جماعت کے خلاف قرار پائے گا، کیونکہ اگر کراچی سے زیادہ سنگین جرائم پنجاب میں ہوتے ہیں اور مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو یہ سمجھا جائے گا کہ پنجاب جرائم پیشہ لوگوں کی نپاہ گاہ بن گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کوٹیسٹ کیس نہ بنایا تو اپوزیشن اس کی بنیاد پر پنجاب میں بھی رینجرز کے آپریشن کا تقاضا کرے گی اور یہ مطالبہ بلا جواز بھی نہیں ہوگا۔

پولیس افسران اور معاملے کی سنگینی کو کم کرنے والوں کی یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس سانحہ کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی کار فرما ہیں۔ عوامل چاہے کچھ بھی ہوں، اصل بات تو یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ان کے ورثاء کو لوٹا گیا ہے، ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ ان کی عزت و آبرو کو بھی نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ پولیس افسران اس سانحہ کے پس پردہ عوامل تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں مگرجو حقائق سامنے آ چکے ہیں اُن پر کارروائی سے گریزاں ہیں، مگر یہ انتہائی شرمناک صورت حال ہے۔ بالفرض یہ معاملہ زمین کے جھگڑے کا ہے تو کیا اس کی وجہ سے اس بات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ بچوں کے ساتھ شرمناک زیادتی کی گئی۔ زمین کے ایشو کو گاؤں کے سینکڑوں بچوں کے ساتھ زیادتی سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟ پھر ویڈیو بنانا اور اسے دکھا کر والدین کو بلیک میل کرنا کس طرح زمین کے جھگڑے کا شاخسانہ قرار پا سکتا ہے۔ اس کیس میں واضح طور پر بدترین جرم سرزد ہوا ہے۔ مگر افسوس کہ ڈی پی او اور آر پی او کی سطح کے افسران بھی ایس ایچ او کی سطح پر آ کر تاویلیں پیش کر رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں اس سانحہ کی سب سے بڑی ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ پولیسنگ سے ہم جرائم کو کنٹرول کرنے کی توقع کر سکتے ہیں، کیا دہشت گردوں کو ڈھونڈنے کے لئے ایسی لولی لنگڑی پولیس کام آ سکتی ہے، جو جرم کا انکشاف ہونے کے باوجود مساجد میں اعلان کر کے شہادتیں مانگ رہی ہو۔

برسوں پہلے لاہور میں جاوید اقبال نامی ایک درندے کا واقعہ سامنے آیا تھا جو زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کر کے ان کی نعشیں تیزاب کے ڈرم میں ڈال دیتا تھا، جو اس میں گل جاتی تھیں۔ اس نے سو بچے قتل کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ اس کیس میں بھی پولیس کی نا اہلی کھل کر سامنے آئی تھی، کیونکہ سو بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آرز کے باوجود پولیس اس کے گھناؤنے ’’شوق‘‘ کا کھوج لگانے میں ناکام رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ پولیس اس سے باقاعدہ تفتیش کرتی، اس کے جرم کی نوعیت اور طریقہ کار کو سمجھتی تاکہ مستقبل میں ایسے کسی دوسرے درندے کو پنپنے نہ دیا جاتا، جاوید اقبال کو پُر اسرار طور پر ہلاک کر دیا گیا۔ اگرچہ اس کے ساتھ ہی یہ کہانی اپنے انجام کو پہنچ گئی، لیکن خوف کی ایک ختم نہ ہونے والی فضا معاشرے میں چھوڑ گئی۔ اب قصور کا یہ اندوہناک سانحہ سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگ کوس رہے ہیں کہ ہم ایک درندہ صفت معاشرے کا حصہ ہیں۔ جہاں بھری پری آبادی میں طویل عرصے تک درندگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ آوازیں اُٹھتی ہیں مگر قانون سویا رہتا ہے۔ بظاہر یہ سانحہ ایک افسانوی کہانی لگتی ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زندہ معاشرے میں جہاں قانون بھی موجود ہو اور قانون کے نام پر کام کرنے والے ادارے بھی، میڈیا بھی ہو اور عدالتیں بھی اس کے باوجود لوگوں کے بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کی ویڈیوز بنائی جاتی ہوں، اُنہیں بھتے کے لئے استعمال کیا جاتا ہو، پولیس کے چھوٹے بڑے افسران اس کھیل سے آگاہ بھی ہوں، لیکن ٹس سے مس نہ ہوتے ہوں، یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے سلطان راہی پنجابی فلموں میں بندے پہ بندہ مارتا تھا اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا تھا، نہ پولیس نہ ہی عدالتیں، مگر یہاں تو ہم مملکت خداداد پاکستان میں جی رہے ہیں جو اپنا 68 واں یوم آزادی منانے جا رہی ہے۔ اس آزاد مملکت میں ہم نے یہ کیسا جنگل بنا رکھا ہے کہ جہاں سب کچھ ممکن ہے۔ پولیس جس قسم کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور پولیس افسران کا جو مائینڈ سیٹ ہے، اُسے دیکھتے ہوئے تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سنگین ترین سانحہ کا کوئی سنجیدہ نوٹس لیا جائے گا اور ایک مضبوط چالان پیش کر کے درندہ صفت ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اچھا نہیں لگتا کہ ہر بات پر جنرل راحیل شریف کی توجہ دلائی جائے، لیکن یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا اُنہیں بھی نوٹس لے کر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے انصاف کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرانا چاہئے۔ یہ کام پنجاب میں قائم اپیکس کمیٹی کے ذریعے فوری اجلاس بلا کے کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام میں احساسِ تحفظ پیدا ہوگا جو فی الوقت انتہائی ضروری ہے۔

مزید : کالم


loading...