ناگاساکی پر جوہری حملے کی 70 ویں برسی‘ہزاروں افراد کی شرکت

ناگاساکی پر جوہری حملے کی 70 ویں برسی‘ہزاروں افراد کی شرکت

  



ٹوکیو(آئی این پی)جاپانی شہر ناگاساکی پر امریکی جوہری حملے کی 70 ویں برسی منائی گئی ،ناگاساکی میں ہزاروں افراد نے مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، اس موقع پر منعقدہ تقریب میں 75 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں امریکا کی نمائندگی جاپان میں تعینات امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی شامل ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جاپانی شہر ناگاساکی پر امریکی جوہری حملے کو 70 برس مکمل ہوگئے ۔ امریکیوں نے6 اگست کو پہلے ایٹم بم کے ذریعے ہیروشیما کو نیست و نابود کرنے کے بعد9 اگست 1945ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرایا تھا۔ اسی تناظر میں ٹھیک اسی وقت ناگاساکی میں ہزاروں افراد نے مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں 75 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں امریکا کی نمائندگی جاپان میں تعینات امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی نے کی۔

امریکہ ایٹم بم کے استعمال کو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی توجیح کے طور پر پیش کرتا ہے، اس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والی فوجی اور شہری ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جاپان پہلے ہی ہتھیار پھیکنے کے لیے تیار تھا اور امریکہ کی جانب سے ایٹم بم محض اپنی فوجی برتری کے اظہار کے لیے گرائے گئے تھے۔واضح رہے کہ ناگاساکی پر گرانے جانے والے ایٹم بم کو امریکہ کی جانب سے ’فیٹ مین‘ کا نام دیا گیا تھا9 اگست 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے صنعتی شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا تھا۔اس ایٹمی حملے کے چھ روز بعد جاپان نے ہتھیار پھینک دیے تھے۔ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے نتیجے میں کم از کم 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل گذشتہ تین روز میں ہیروشیما پر دنیا کے پہلے ایٹمی حملے میں کم از کم ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...