ننھے فلسطینی علی کے والد سعد الدواشہ بھی اسرائیلی ہسپتال میں دم توڑ گئے

ننھے فلسطینی علی کے والد سعد الدواشہ بھی اسرائیلی ہسپتال میں دم توڑ گئے

  



غزہ(اے این این) انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے لگائی گئی آگ میں جل کر جاں بحق ہونے والے ننھنے فلسطینی علی الدوابشہ کے والد سعد الدوابشہ بھی اسرائیلی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اس امر کا اعلان متوفی کے اہل خانہ اور ایک فلسطینی عہدیدار نے ہفتے کے روز کیا۔عرب میڈیا کے مطابق شمالی غرب اردن کے مقبوضہ گاوں دوما جہاں الدوابشہ کا آبائی گھر واقع ہے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار غسان دغلس نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکام سعد الدوابشہ کے جسد خاکی تدفین کی غرض سے علاقے میں بھجوانے کے انتظامات کرنے کے لئے رابطے میں ہیں۔شمال غرب اردن میں یہودی آبادکاری فائل کے نگران دغلس کا کہنا تھا کہ سعد الدوابشہ کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی دوما گاوں کے قریبی شہر نابلس میں تدفین کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق فلسطینی نونہال علی الدوابشہ دوما گاوں پر یہودی آبادکاروں کے دوما گاوں میں دو گھروں پر حملے کے بعد آتشزدگی میں جھلس کر شہید ہو گیا تھا۔ حملے میں ننھنے شہید فلسطینی کے والد سعد، والدہ رھام اور ان کا بھائی احمد بھی جھلس گئے تھے۔ڈاکٹروں کے مطابق علی الدوابشہ کی والدہ کو تیسرے درجے کی برن انجری ہوئی جس میں ان کا نوے فیصد جسم جھلس گیا جبکہ سعد الدویشہ 80 فیصد اور بیٹے کا جسم 60 فیصد جل چکا تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...