مذہبی و سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کشمیر کے حل اور نظریہ پاکستان کے احیاء کیلئے تحریک چلانے کا اعلان

مذہبی و سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کشمیر کے حل اور نظریہ پاکستان کے احیاء کیلئے ...

  



لاہور( خصوصی رپورٹ)ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین ، جیدعلماء کرام، وکلاء رہنماؤں اور دانشور حضرات نے نظریہ پاکستان کے احیاء اور مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے تحت ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حوالہ سے جلدایک بڑی سپریم کونسل اور کور کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں سیاسی و مذہبی قائدین اور دانشوروں سمیت ہر طبقہ فکر کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ 14اگست کو لاہور سمیت پورے ملک میں نظریہ پاکستان کارواں، جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیاجائے گا۔پاکستان کا پرچم صرف گھروں اور گاڑیوں پر ہی نہیں ہر دل پر لگنا چاہیے۔ اتحادویکجہتی کی قوت سے پاکستان بن سکتا ہے تو کشمیر کیوں آزاد نہیں ہو سکتا؟ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے۔حکمران مسئلہ کشمیر پر بھارت سے ووٹوک انداز میں بات کریں ۔ انڈیا سے آلو پیاز کی تجارت کی بجائے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کھل کر مددوحمایت کی جائے۔ نظریہ پاکستان کے احیاء کی تحریک کو تحصیل و شہر کی سطح پر منظم کیا جائے گا۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں نظریہ پاکستان کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے شہر شہر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد اور لیٹریچر شائع کیا جائے گا۔ ان خیالا ت کا اظہار نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ہونے والی قومی مجلس مشاورت سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، لیاقت بلوچ،صاحبزادہ سلطان احمد علی،اعجاز الحق، غلام محمد صفی،حافظ عبدالرحمن مکی، پیر اعجاز ہاشمی، سید یوسف نسیم ، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر،حافظ عبدالغفار روپڑی، سید کفیل شاہ بخاری، علامہ زبیر احمد ظہیر،سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، پیر مسعود چشتی،مولانا امیر حمزہ، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی، سلمان غنی، سمیع ابراہیم، رانا تجمل حسین،شیخ نعیم بادشاہ، مولانا محمد شفیع جوش، اسداللہ غالب ،عطاء الرحمن، قدرت اللہ چوہدری، سید احسن باری جیلانی، اسرار بخاری، سید فہیم الحسن تھانوی، میاں سیف الرحمن، محمد عمران خاں ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیاجبکہ مولانا سیف اللہ خالد، قاری یعقوب شیخ،حافظ خالد ولید،مولانا ابوالہاشم، محمد یحییٰ مجاہد ودیگر بھی موجود تھے۔ قومی مجلس مشاورت کی صدارت حافظ محمد سعید نے کی ۔ اس موقع پر زندگی کے تمام شعبہ جات اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات موجود تھیں۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا امیر حمزہ نے سرانجام دیے جبکہ تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری یعقوب شیخ نے حاصل کی۔ قومی مجلس مشاورت کے اختتام پر سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں کے والد سردار عبدالقیوم کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ جماعۃالدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ قیام پاکستان کی طرح آج بھی نظریہ پاکستان کے احیاء کی ملک گیر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔یہ سیاسی سطح کا فورم نہیں ہے‘ اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ہے۔ بہت جلد ایک بڑا اجلاس منعقد کریں گے جس میں نظریہ پاکستان کی اس تحریک کے حوالہ سے سپریم کونسل اور کور کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ پنجاب کی طرح سندھ، بلوچستان اور فاٹا سمیت پورے ملک میں اس مسئلہ کو اجاگر کرنا ہے۔ جتنا یہ نظریہ مضبوط ہو گا اسی قدر ملک مضبوط ہو گا اور اسی کی بنیاد پر ہم بھارت سے کشمیر لے سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 14اگست کو ہم اپنے گھروں و گاڑیوں پر جھنڈے تو لہراتے ہیں اور یوم آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جھنڈا ہر دل پر لگنا چاہیے۔ ہم یوم آزادی کے موقع پر 14اگست کو لاہور سمیت پورے ملک میں نظریہ پاکستان کارواں، جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کریں گے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ چاروں اطراف سے ہم خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔قیام پاکستان کے مقاصد اور نظریہ پاکستان سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ اور قوم منتشر ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری تعلیم اوروحدت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ مساجد و مدارس کو ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے،قومی ایکشن پلان میں دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیداہوا تھا لیکن غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا۔اب یہ باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ بھارت را کے ذریعہ کس طرح پاکستان کو عدم استحکام کرنا چاہتا ہے۔کشمیری عوام نے از سرنو مسئلہ کشمیر کو زندہ کیا ہے ۔بھارت ہمیں کور ایشوز سے پیچھے ہٹانا چاہتا ہے۔قومی جماعتوں کو ہر چیز سے بالا تر ہو کر متحد ہو جانا چاہئے۔تنظیم العارفین پاکستان کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ پیر سلطان احمد علی نے کہا کہ اس وقت ایسے فورم کی اشد ضرور ت ہے جو نظریہ پاکستان کو اجاگر کرسکے۔پاکستان کی قیادت بھارت کے ساتھ تجارت چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب کشمیری پاکستان کا پرچم لہرا کر قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قائداعظم کہتے تھے کہ پاکستان قلعہ اسلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اس ملک سے آواز اٹھائی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ(ض) کے صدر اعجاز الحق نے کہا کہ نظریہ باقی نہ رہے تو زندہ قومیں بھی مردہ ہو جاتی ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ ایک سازش کے تحت مسلم امہ کو کمزور کیا گیا ۔کہا جارہا ہے کہ آپ کشمیر و فلسطین کو چھوڑ دیں ،پاکستان کی بات کریں اسکے نتیجہ میں لوگوں نے ان مسائل پر بات کرنے سے کترانا شروع کر دیا۔آل پارٹیز حریت کانفرنس آزادی کشمیرکے چیئرمین غلام محمد صفی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کونسل کے تحت قومی مشاورت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔یہ نظریہ کل بھی زندہ تھا،آج بھی ہے اورہمیشہ رہے گا۔قوم علاقے،زبان ،رنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر بنتی ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا تو پھر بنگلہ دیش کیوں الگ ہو گیا ،ان لوگوں کو بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیش میں کھڑے ہو کر جواب دے دیا جس میں مودی نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارت کا ہاتھ تھا۔جماعۃ الدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کے خلاف اس وقت بہت سازشیں کی جا رہی ہیں اور نوجوان نسل کو اس نظریہ سے دور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔کبھی وقت تھا کہ ہماری کتب میں نظریہ پاکستان کی اساس اور اسکی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا جاتا تھا ۔اس موقع پر انہوں نے1971میں شائع ہونے والی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب پیش کی اور اس میں نظریہ پاکستان کے حوالہ سے درج عنوانات پیش کئے تو حاضرین نے ان کی گفتگو کی مکمل طور پر تائید کی۔انہوں نے کہاکہ جس ملک میں فیملی کا تصور ختم ہو رہا ہے تعلیم کے حوالہ سے اس ناروے جیسے ملک کے ایڈوائیزر لئے گئے ہیں۔قوم کو انتشار سے محفوظ رکھنے کے لئے نظریہ پاکستان کے احیاء کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔جمعیت علماء پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہاشمی نے کہاکہ اب نظریہ پاکستان کو ایک تحریک کی شکل میں چلانا ہو گا۔نصاب تعلیم میں نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے کے لئے اسباق شامل کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی کور کمیٹی حامد ناصر چٹھہ کے بعدعملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔جو کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ سمجھتے ہیں وہ کشمیر کے لئے بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما پروفیسر سید یوسف نسیم نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو سیاچن و دیگر امور پر مذاکرات کی بجائے کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر مذاکرات کرنے چاہئے۔نظریہ پاکستان کے ساتھ ساتھ تکمیل پاکستان کی ضرورت ہے اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کی تکمیل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اقتصادی،معاشی پسماندگی نہیں،کشمیری مسلمانوں کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں۔کشمیری جوان سرینگر و جموں سیکرٹریٹ پر بھارتی ترنگا کی بجائے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دیکھنا چاہتے ہیں۔ہر کشمیری پاکستان سے محبت کرتا ہے۔جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود سے نظریہ کو نکال دیں تو تحریک پاکستان کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ سندھ، بلوچی و پنجابی کا پس منظرو روایات اور ہیں۔ کلمہ طیبہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو ان سب کو متحد کرتا ہے۔ اگر پاکستان کو باقی رکھنا چاہتے ہیں تو اسے نظریاتی ریاست کے طور پر زندہ رکھنا ہو گا۔امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ دوقومی نظریہ پر عمل کرنا بہت ضرور ی ہے۔ اس کے بغیر دشمنان اسلام کی سازشوں پر قابو پاناممکن نہیں ہے۔مجلس احرار اسلام کے نائب امیر سید محمد کفیل شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ،یہی نظریہ پاکستان ہے اورتحریک پاکستان میں اسی نظریہ کو اجاگر کیا گیا تھا۔اب پاکستان کوبنے 68برس گزر گئے ۔پاکستان کی بقاء ہمارا ایمان،اور اسکی دفاع ،سلامتی و تحفظ کے لئے اور دہشت گردی و شدت پسندی کے خاتمے کے لئے حکومت کے ہر اس فیصلے کی تائید کریں گے جس سے ملک امن کا گہوارہ بنے ۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہاکہ تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کرنا نظریہ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔ایک منظم سازش کے تحت نظریہ پاکستان کی جڑیں کاٹی جارہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے حکومت نے سیکورٹی کے تمام امور فوج کے حوالہ کر دیئے ہیں‘ اسی طرح آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ نظریہ پاکستان کا تحفظ صرف دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کی دعویدار حکومت نے پنجاب کے نصاب میں تبدیلی کی اور ایسے لوگوں کے ذمہ یہ کام لگایا گیا جو پیدائشی سیکولر تھے۔یہ سنجیدہ معاملہ ہے اس پر سوچنا چاہئے۔پاکستان میں میڈیا پر بھی سیکولر لوگوں کا قبضہ ہے۔ٹی وی چینل کا ایک پروگرام نوجوان نسل کو کنفیوژ کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔میڈیا مالکان سے ملاقاتیں کر کے انہیں نظریہ پاکستان کے حوالہ سے پروگراموں پر آمادہ کیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ بارکے صدر پیر مسعود چشتی نے کہا کہ نوجوان نسل میں نظریہ پاکستان اجاگر کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔نظریہ پاکستان کے حوالہ سے پورے ملک میں ایسی نشستیں ہونی چاہئے۔تحریک حرمت رسول ﷺ کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ ،قاری محمد یعقوب شیخ ، مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے مرکزی رہنمامولانا محمد شفیع جوش اور جسٹس(ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ مسلمانوں کو باہمی اختلافات میں الجھایا جارہا اور تاریخ کو مسخ کیاجارہا ہے۔ معروف تجزیہ نگار سلمان غنی نے کہاکہ و ہ قومیں جو نظریاتی اساس پر توجہ دیتی ہیں وہ دنیا میں سرخرو اور قومی مفادات کے تحفظ میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے رانا تجمل حسین، اسداللہ غالب ، سمیع ابراہیم، عطاء الرحمن،قدرت اللہ چوہدری ،خدمت علم فاؤنڈیشن کے رہنما سید احسن باری جیلانی، اسرار بخاری، سید فہیم الحسن تھانوی، میاں سیف الرحمن، محمد عمران خاں و دیگرنے کہاکہ نظریہ پاکستان کے احیاء کی ملک گیر تحریک منظم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...