ٹیکسوں کیخلاف تاجروں نے آج لاہور میں ملک گیر کنونشن طلب کرلیا

ٹیکسوں کیخلاف تاجروں نے آج لاہور میں ملک گیر کنونشن طلب کرلیا

  



لاہور (اسد اقبال )مختلف تاجر و ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے حکو مت کی جانب سے عائد کر دہ ٹیکسوں کی بھر ما ر کے خلاف اپنی جدو جہد کو تیز کر نے، اپنی طاقت کو شو کر نے او رایف بی آر کی کاروبار دشمن ٹیکس پالیسوں کے خلاف سخت فیصلے کر نے کے لیے آج لاہور میں اپنے اپنے ملک گیر کنو نشن طلب کر لیے ہیں جس میں ڈویژن، ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر عہدیداران کثیر تعداد میں شر کت کر یں گے جس میں قوی امکان ہے کہ تاجر و ٹرانسپورٹرز سخت لائحہ عمل تر تیب دینے اور حکو متی ایوانوں میں اپنی بازگشت پہنچانے کے لیے تاجر شٹر ڈاؤن اور ٹرانسپورٹرز پہیہ جام ہڑتال کی کال دے سکتے ہیں تفصیلات کے مطابق تاجروں کا بینکوں سے لین دین پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس اورگڈز ٹرانسپورٹروں پر 16فیصد پنجاب سروسز ٹیکس کے خلاف آئندہ کے احتجاج کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ملک گیر کنونشنز آج صوبائی دارالحکومت میں ہونگے ملک گیر کنونشن نعیم میر گروپ اور آل پاکستان انجمن تاجران اشرف بھٹی گروپ کی جانب سے بلایا گیا ہے جس میں قومی تاجر اتحاد کی جانب سے اس میں شرکت کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا ہے ۔ کنونشن میں ملک بھر کی مارکیٹوں کے تاجر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے ۔ اشرف بھٹی گروپ کی جانب سے خالد پرویز گروپ کو بھی کنونشن میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم خالد پرویز گروپ سے منسلک مارکیٹوں کے عہدیداروں کی شرکت کی امید کم ہی ہے ۔دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے رہنماؤ ں نبیل محمو د طارق اور مرزا ارشد اقبال بیگ نے حکو مت پنجاب کی جانب سے 16فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پنجاب بھر کے ٹرانسپورٹروں کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں ٹرک ٹرالہ ایسو سی ایشن سمیت پنجاب بھر سے فارورڈنگ ایجنسیوں کے رہنما کثیر تعداد میں شر کت کر یں گے کنو نشن میں سروسز ٹیکس کے خلاف لائحہ عمل تر تیب دیتے ہوئے سخت فیصلے متو قع ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرو ں نے اس ظالم ٹیکس کے خلاف ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کر نے کا عندیہ بھی دے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ ملک بھر کے تاجر ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں یکم اگست کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن کیا گیا تھا اس ک بعد پانچ اگست کو بھی شٹر ڈاؤن ہوا ۔ ملک گیر ہڑتالوں کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے تاجروں کے حقیقی نمائندوں سے مشاورت کی کوئی کوشش نہیں کی گئی دوسری جانب ایف بی ار کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ٹیکس کو کسی صورت میں بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ تاجر کسی بھی صورت میں ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ تاجروں نے بینکوں سے لین دین میں کمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے بینکوں کے ڈیپازٹس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے ۔ تاجروں نے یکم اور پانچ اگست کی ہڑتال کے موقع پر انتباہ کیا تھا اگر ہڑتال کے بعد بھی ٹیکس واپس نہ ہوا تو ملک گیر غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کر دی جائے گی اور سڑکوں پر دھرنوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کیا جائے گا ۔ آج کے کنونشن میں ان آپشنل پر غور کیا جائے گا ۔

تاجرکنونشن

مزید : صفحہ آخر


loading...