سعودی عرب میں نیا لیبر قانون 2 ماہ بعد نافذ العمل ہوگا

سعودی عرب میں نیا لیبر قانون 2 ماہ بعد نافذ العمل ہوگا

  



جدہ (محمداکرم اسد/ بیورو چیف) سعودی وزارت محنت کی قومی کمیٹی برائے لیبر کے سربراہ نضال رضوان نے کہا ہے کہ مملکت میں نیا لیبر قانون 2 ماہ بعد نافذ العمل ہوگا۔ نئے قانون کے مطابق مسلمان ملازم خاتون اگر بیوہ ہوجائے تو اسے عدت کے لئے چھٹی دی جائے گی۔ اس میں نجی شعبے کے کارکنوں کیلئے مزدوریونین کی بھی اجازت ہوگی۔ نئے قانون میں ڈیوٹی اوقات کا تعین اس لئے نہیں کیا گیا کہ یہ مسئلہ مجلس شوریٰ میں زیر بحث ہے۔ وزارت محنت نے مجلس شوریٰ کو سفارش پیش کی ہے کہ ہفتہ وار ڈیوٹی کے اوقات 48 کی بجائے 40 گھنٹے ہونے چاہئیں علاوہ ازیں ہفتے میں 2 دن چھٹی کی بھی درخواست دے رکھی ہے۔ یہ مسئلہ مجلس شوریٰ کی کمیٹی برائے افرادی قوت کے پاس خواتین کے خصوصی حالات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کام کے ماحول کو ساز گار بنانے کے علاوہ اختلاط سے بچنے کی تدابیر بھی اختیار کی گئی ہیں۔ نئے لیبر قانون میں آجر اور آجیر دونوں کے حقوق کا تحفظ دیاگیاہے۔ قانون میں مزید ترمیم اور اضافے کے لئے تجاویز مجلس شوریٰ کی متعلقہ کمیٹی کو بھی پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکام بالا نے نجی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کمپنی ماکان تک پہنچانے کے لئے مزدور یونین قائم کرسکتے ہیں۔ مزدور یونین کے قواعد و ضوابط مقرر ہوں گے جن کا اعلان کیا جائے گا، اس کا بنیادی مقصد مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...