بھارت میں تین نوعمر لڑکوں نے سمارٹ فون لینے کیلئے اپنا خون بیچ ڈالا

بھارت میں تین نوعمر لڑکوں نے سمارٹ فون لینے کیلئے اپنا خون بیچ ڈالا
 بھارت میں تین نوعمر لڑکوں نے سمارٹ فون لینے کیلئے اپنا خون بیچ ڈالا

  



لکھنو(مانیٹرنگ ڈیسک) سمارٹ فون کا جنون نوجوان نسل میں عام پایاجاتاہے اور اسی جنون کو پورا کرنے ، اضافی رقم لینے کے لیے روشن خیالی اور بڑی معیشت کے دعوے کرنیوالے بھارت کے تین نوعمر لڑکوں نے کوہلی پتھالوجی اینڈ بلڈ بینک میں 500روپے فی بوتل کے حساب سے اپنا خون بیچ دیا۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس بلڈبینک پر یوپی ہیلتھ حکام اور پولیس نے چھاپہ مارا اور بتایاکہ تینوں بچے خون دینے کیلئے طبی طورپر تندرست نہیں تھے اور پیسوں کے لالچ میں خون دیا، تین افراد کو حراست میں لے کر بلڈ بینک سیل کردیاگیا۔چوک کے علاقے کے ایک رہائشی 14سالہ لڑکے نے بتایاکہ وہ کچھ عرصے سے موبائل فون خریدنے کیلئے رقم جمع کررہاتھا اور جب بلڈ بینک کے ایک ایجنٹ نے اسے بتایاکہ وہ زیادہ پیسے کماسکتاہے تو خود کو روک نہ پایا،ایجنٹ نے یقین دہانی کرائی کہ خون دینے کے بعد کسی قسم کی کمزوری محسوس نہیں ہوگی، لڑکے کا باپ چار سال قبل فوت ہوچکاہے اور اس کی والدہ تین ہزار روپے کے عوض ایک کلینک میں کام کرتی ہے۔ خون دینے والا لڑکا خود بھی سیلز بوائے کا کام کرتاہے جس کے بدلے میں اْسے ماہانہ 2000روپے ملتے ہیں لیکن پانچ ہزار روپے کی مجموعی آمدنی سے پانچ افراد پر مشتمل کنبے کا گزارانہیں ہوتا۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں خون عطیہ کرنے کی عمر 18سال ہے اور ہیموگلوبن لیول 13ہوناچاہیے لیکن اس کیس میں چھاپہ مارنیوالی ٹیم کو علم ہواکہ تینوں لڑکوں کی عمریں کم تھیں اور ہیموگلوبن لیول 12سے بھی کم تھا۔پولیس کے مطابق خون دینے والے تینوں لڑکوں کا تعلق معاشی طورپر کمزور خاندان سے تھا اور بلڈ بینک کے ایجنٹس غزنی اور راہل کے چنگل میں پھنس گئے ، دولڑکوں نے پیسوں کے لالچ میں جمعہ کو تیسری مرتبہ خون دیا۔ دوسرے لڑکے نے بتایاکہ سات سال قبل اس کے والد کے انتقال کے بعد والدہ کئی گھروں میں کام کرکے خاندان کی دیکھ بھال کررہی ہے اور وہ نہم جماعت سے سکول چھوڑ چکاہے جبکہ اسے روزانہ کے ذاتی اخراجات کیلئے رقم کی ضرورت تھی ، گزشتہ ایک سال سے نوکری کی تلاش میں ہے اور اپنی والدہ پر مزید بوجھ نہیں بنناچاہتا، چندبار خون دینے کے بدلے کافی رقم مل جاتی ہے۔تیسرے بچے کے والدنے میڈیا کو اپنے صاحبزادے سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مزید : صفحہ آخر