خواجہ سعد کیا کہتے ہیں؟

خواجہ سعد کیا کہتے ہیں؟
خواجہ سعد کیا کہتے ہیں؟

  



خواجہ سعد کہتے ہیں کہ 30جون 2015کو ان کی وزارت کے دو سال مکمل ہو گئے ہیں، ان کے بقول پاکستان ریلوے کی بحالی میں کل10سال لگیں گے جن کے لئے ان کی حالیہ دو سال کی کاوش بنیاد کا کام کرے گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دو سالوں میں ریلوے ملازمین کے Mindsetکو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ جب انہوں نے ریلوے کی وزارت کا چارج سنبھالا تو انہیں ایک شکست خوردہ ذہنیت سے واسطہ پڑا جہاں ریلوے کی انتظامیہ اپنی حتمی موت کی منتظر تھی اور ریلوے ہیڈکوارٹر کی منڈیروں پر بیٹھے گدھ اس کا پیٹ پھاڑ کر آنتیں نکال کر کھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ بہت سے افسران محکمہ چھوڑ چکے تھے ، باقی بچ جانے والوں میں سے کچھ ملک چھوڑ چکے تھے اور بہت سے دل چھوڑ چکے تھے!

انہوں نے دوسال قبل اس چیلنج زدہ صورت حال کا سامنا کرنے کی ٹھانی اور پہلے کام کے طور پر دیانتدار اور محنتی افسران کا چناؤ کیااور نیچے تک واضح پیغام دے دیا کہ اب ریلوے میں سفارش اور سیاست نہیں چلے گی، اس کے بجائے اب یہاں Doersکی قدر ہوگی، جاوید انور اور انجم پرویز جیسے لوگوں کو ایک نئے پاکستان ریلوے کے بنیادی خدوخال تیار کرنے کا کام سونپااور ان کے ماتحت ہر ایک کے فرائض کا تعین کرکے انہیں کام کی مکمل آزادی دی اور خود کلاس مانیٹر کی طرح ریلوے ہیڈکوارٹر کی راہداریوں میں گھومنے لگے ، کچھ ادھر جھانکا کچھ ادھر، کہیں سرزنش کی تو کہیں شاباش دی اور پاکستان ریلوے کو اٹھا کر دوبارہ سے پٹڑی پر کھڑا کردیا۔ مجال ہے جو اس دوران میں انہوں نے کبھی خود کو عقل کل تصور کیا ہو ، اس کے برعکس انہوں نے مشاورت کا قاعدہ ہاتھ میں پکڑا اور ریل ایکسپرٹس کی مدد سے ریل کا پہیہ گھما دیا، اب ریلوے میں ہفتے کے دن بھی کام ہوتا ہے ، ان سے قبل چھٹی ہوتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان ریلوے کی سالانہ آمدن دو سالوں میں 18ارب روپے سے بڑھ کر 32ارب روپے ہو گئی ہے۔دو سالوں میں ریلوے کی آمدن میں یہ اضافہ 72فیصد ہے اور ابھی چین، ترکی یا امریکہ سے ریلوے میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے بس ریلوے کے معاملات کو بہتر بنایا، انہیں صحیح ڈگر پر لائے، کام میں سنجیدگی اختیار کی اور نیت کو درست رکھاکیونکہ ان کے بقول ماضی کی حکومتوں میں لوٹ مار سے زیادہ ریلوے کے وزراء بشمول غلام احمد بلور اور شیخ رشید احمد کی نااہلی نے ریلوے کو اس حال تک پہنچایا تھا کہ اس کی آمدن ختم ہو گئی تھی، مسافر ناراض ہو گئے تھے اور ریلوے اسٹیشنوں کی رونقیں گم ہو گئی تھیں، گزشتہ دو سالوں میں انہوں نے آمدن کو بحال کیا ہے ، مسافر واپس لے آئے ہیں اور ریلوے اسٹیشنوں کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ان دو سالوں میں ریلوے کی مزدور یونینوں نے ایک بھی ہڑتال نہیں کی کیونکہ ان سے زیادہ خواجہ سعد اس خیال کے حامل ہیں کہ پاکستان ریلوے کی نجکاری نہیں ہونی چاہئے۔

اس سے قطع نظر کہ خواجہ سعد نے اپنی ایک گھنٹے سے زائد کی گفتگو میں ایک مرتبہ بھی وزیر اعظم نواز شریف کا نام نہیں لیا، اپنی کاوشوں کا سہرا ان کے سر نہیں باندھالیکن ان کی گفتگو سے یہ ضرور ثابت ہوا کہ نون لیگ بہت اہل لوگوں کی پارٹی ہے،وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف، پرویز رشید، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف سمیت ہر کوئی نون لیگ میں بڑا اہل اور قابل ہے، دیکھا جائے تو نون لیگ کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جو کوئی اعلیٰ منصب پر فائز ہے وہ بہت ٹھیک ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ نون لیگ سسٹم کو ٹھیک نہیں کرتی بلکہ خراب سسٹم میں ٹھیک کام کرتی ہے ، جدھر دیکھیں ون مین شو کا گمان گزرتا ہے، ہر کوئی ون مین آرمی بنا ہوا ہے، نون لیگ بس اپنے حصے کا کام ٹھیک کرتی ہے ، اس سے آگے کیا ہوگا ، اس کی پرواہ اسے کم ہی ہوتی ہے!

خواجہ سعد خود کہتے ہیں کہ پاکستان ریلوے کا Turnaroundدس سال سے پہلے ممکن نہیں، پچھلے دو سالوں میں انہوں نے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہے ، اگلے تین سالوں میں وہ اس قابو شدہ معاملے کو پٹڑی پر ڈالیں گے اور جب ریلوے کے پرفارم کرنے کا وقت آئے گا تب ان کی چھٹی ہو جائے گی اور یوں بات آگے نہیں بڑھے گی!

سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کو چلانے کا یہ طریقہ درست ہے، کیا اسے گڈگورنینس کہنا چاہئے کہ ہر سیاسی جماعت ملکی اداروں کو اپنے اپنے طریقے سے چلائے، نون لیگ اپنی طرح، پیپلز پارٹی اپنی طرح اور پی ٹی آئی اپنی طرح؟کیا ایسے Half Turnaroundsملکی اداروں کو کہیں لے کر جائیں گے ؟ کیا ہم اپنے آدھے کام کو ہی پورا کہتے رہیں گے؟؟؟

وزیر ریلوے کی اہلیت اور قابلیت سے زیادہ ریلوے ملازمین کی اہلیت اور قابلیت کو یقینی بنانا زیادہ ضروری ہے جس کے لئے تربیتی اکیڈمیوں کے ذریعے Capacity buildingکی ضرورت ہے ۔ امید ہے کہ خواجہ سعد اگلے تین سالوں میں اس جانب بھی توجہ دیں گے!

مزید : کالم


loading...