نظریہ پاکستان۔ اہل دانش ۔ اور تنہا حافظ سعید

نظریہ پاکستان۔ اہل دانش ۔ اور تنہا حافظ سعید
 نظریہ پاکستان۔ اہل دانش ۔ اور تنہا حافظ سعید

  



میرے نزدیک یہ بات نہایت ا فسوسناک ہے کہ ہم یوم آزادی کے موقع پر نظر یہ پاکستان کی اہمیت دو قومی نظریہ کی افادیت پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ ہر سال ان محافل میں ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے ہم دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے ابہام کا شکا رہیں۔ ایسی بحث شروع ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ ابھی تقسیم ہند ہونی ہے اور ہم نے یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں دو قومی نظریہ قبول ہے یا نہیں۔ یہ بحث ایسی ہی ہے جیسے ہم یہ طے کرنا شروع کر دیں کہ سچ بولنا اچھی بات ہے کہ نہیں۔ اور اس بات پر دلائل دینا شروع کردیں کہ کب اور کن کن مواقع پر سچ نہ بولنے کی اجازت ہے۔ ایسے سچ بولنے پر ابہام پیدا کر دیا جائے۔ جیسے اس بات پر بحث شروع کر دیجائے کہ کب اور کس کس حالت میں شراب حلال ہے۔ یا پھر کن کن موقع پر حرام حلال ہو جا تا ہے۔ علمی اعتبار سے یہ سب علمی سوال ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ سچ بو لا جائے تو ابہام نہیں پیداہوتا ۔ شراب حرام ہے ۔اور حرام حلال نہیں ہو سکتا ۔

ایسی ہی ایک نشست کا اہتمام گزشتہ روز جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید نے کیا۔ جس میں دو قومی نظریہ پر مجلس مشاورت منعقد کی گئی۔ اچھی نشست تھی۔ موضوع کے اہتمام سے اچھی تقریریں کی گئیں۔ دل کو تسکین ہوئی کہ اہل دانش اور دینی دانشوروں کو نظر یہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کا علم ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ابہام بھی واضح نظر آیا۔

تقریب میں دائیں بازو کے دو سنیئر دانشور اور صحافی نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ پر الجھ پڑے۔ عطاء الرحمٰن نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کسی جرنیل نے نہیں بنایا۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال سیاستدان تھے۔ انہوں نے کہا نظریہ پاکستان کی بقاء اور استحکام کے لئے حمود الرحمٰن کمیشن کے جو حصے عوام کے سامنے نہیں آئے انہیں عوا م کے سامنے لایا جائے ۔ محترم اسد اللہ غالب نے کہا کہ وہ اس محفل میں فوج کے خلاف بات نہیں کرنے دیں گے۔ بعد میں جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ دو قومی نظر یہ کی بنیاد محمد بن قاسم سے شروع ہوئی ۔ اور محمد بن قاسم ایک جرنیل تھا۔ دونوں کے درمیان اختلاف پاکستان میں نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی کمزوری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ اختلاف کوئی دائیں اور بائیں بازو کے دانشوروں کے درمیان نہیں۔ اسے سوچ کا اختلاف کہا جا سکتاہے۔ دونوں ساری عمر دائیں بازو کے بڑ ے علمبردار رہے ہیں۔ بلکہ مزے کی بات ہے کہ دونوں کئی سال نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے علمبردار نوائے وقت میں لکھتے میں رہے ہیں۔ بہرحال اس اختلاف نے محفل کو رنگین کر دیا ورنہ اس سے پہلے ذرا پھیکی پھیکی جا رہی تھی۔

مجھے حافظ سعید سے سخت اختلاف ہے ۔ پتہ نہیں وہ ایسے کام کیوں کرتے ہیں جو ان کے کرنے کے نہیں۔ اب فینٹم فلم کا ہی معاملہ لے لیں۔ اس فلم کا جو ٹریلر آیا ہے اس میں حافظ سعید کو یہ کہتے ہو ئے دکھا یا گیا ہے ۔۔"کہ کیا تم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ممبئی حملہ حافظ سعید نے کیا تھا۔ چھ سال ہو گئے تمیں جھک مارتے ہوئے۔۔" ویسے دیکھا جائے تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہے واقعی بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ممبئی حملے حافظ سعید نے کئے تھے۔اور چھ سال ہو گئے ہیں بھارت کو جھک مارتے ہوئے۔ لیکن بھارت نے اپنی میڈیا مہم اور پاکستان کی کمزور میڈیا پالیسی کی وجہ سے حافظ سعید کو عا لمی سطح پر بدنام ضرور کر دیا ہے۔ ان پر چاہے کچھ ثابت ہے یا نہیں لیکن وہ اقوام متحدہ سے دہشت گردقرار دئے جا چکے ہیں۔ اب بھی ان کا معاملہ اقوام متحدہ میں تھا۔ اور چین نے ویٹو کیا۔ لیکن سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں کہ آخر چین کب تک ویٹو کرے گا۔ اس لئے اس معاملے کا کچھ نہ کچھ تو کرنا ہو گا۔حافظ سعید اس فلم کی پاکستان میں نمائش روکنے کے لئے ہائی کورٹ گئے ہیں۔ لازمی ہے ہائی کورٹ تب ہی گئے ہیں جب حکومت نے ان کی بات نہیں سنی ہوگی۔ ورنہ سنسر بورڈ اس فلم کو روک سکتا تھا۔ پتہ نہیں حافظ سعید کو کیا ہو گیا ہے۔ وہ کب تک تنہا یہ جنگ لڑیں گے۔ انہیں سمجھنا ہو گا کہ اب تو حکومت بھی ان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں۔

وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کی پاکستان کے لئے خدمات ہیں۔ لیکن اب کہیں آہستہ آہستہ ایسا تو نہیں کہ وہ پاکستان کے لئے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ شائد فلم رک جائے۔ عدالتوں نے پہلے بھی حافظ سعید کو انصاف دیا ہے۔ وہ ممبئی حملوں کے الزام سے بری ہوئے ہیں۔ لیکن عدالتیں بھی کب تک حافظ سعید کا دفاع کریں گی۔

حافظ سعید ٹھیک کرر ہے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ بھارت کے ساتھ نظریاتی جنگ کو زندہ رکھنے کے لئے بھارت کو للکارنا ہو گا۔ لیکن شائد اس مشن میں وہ تنہا ہیں۔ ان کی مجلس مشاورت میں کسی بھی بڑی سیاسی جماعت سے کوئی نہیں تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ وہ کب تک یہ لڑائی لڑیں گے۔ شائد حافظ سعید تنہا ہو گئے ہیں۔ اور ابھی انہیں اس کا اندازہ نہیں ہو رہا ۔

مزید : کالم


loading...