قصور واقعے پر قومی اسمبلی میں بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن جماعتوں کا واک آؤٹ

قصور واقعے پر قومی اسمبلی میں بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن جماعتوں کا واک ...
قصور واقعے پر قومی اسمبلی میں بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن جماعتوں کا واک آؤٹ

  



اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قصور واقعے پر بحث نہ کروانے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اجلاس کی کاروائی سے واک آؤٹ کر دیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قصور واقعے پر بحث کرنے کی اجازت مانگی گئی لیکن سپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے اجازت نہ مل سکی ۔ سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے جس کی قومی اسمبلی میں بحث نہیں کروائی جا سکتی ۔ اس رد عمل کے بعد پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف ، متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اور شیخ رشید احمد نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج شروع کر دیا ۔

احتجاج کے دوران اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی بھی کی گئی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے معاملے پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے واک آﺅٹ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نماز مغرب کے لیے اجلاس کو روک دیا ۔

اجلاس کی کاروائی کا دوبارہ آغاز ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے واقعے کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی تو سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ان کا مائیک بند کر دیا گیا ۔ صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا ۔ قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قصور واقعے کو تنازعہ کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حکومت اس واقعہ پر نہ تو انکار کر رہی ہے اور نہ ہی اقرار کر رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر متفقہ قرار داد تیار کی تھی لیکن انہیں بات تک نہیں کرنے دی گئی ۔ 

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے غریب کے بچوں کا معاملہ ایوان میں اٹھانے کی کوشش کی لیکن حکومت نے غریب بچوں کےحقوق کے لیے بات تک نہیں کرنے دی ۔ ایوان سے واک آؤٹ کرنے کے بعد حکومتی اراکین کی مداخلت کے بعد پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اجلاس میں واپس آ گئے جس کے بعد ایوان کی کاروائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے ۔ 

مزید : اسلام آباد


loading...