بچی کا جگر ضائع کرنے پر عدالت کا چلڈرن ہسپتال کے 4ڈاکٹر وں کوساڑھے 3کروڑ روپے جرمانہ

بچی کا جگر ضائع کرنے پر عدالت کا چلڈرن ہسپتال کے 4ڈاکٹر وں کوساڑھے 3کروڑ روپے ...
بچی کا جگر ضائع کرنے پر عدالت کا چلڈرن ہسپتال کے 4ڈاکٹر وں کوساڑھے 3کروڑ روپے جرمانہ

  



لاہور( خبرنگار) صارف عدالت کے جج خورشید انور رضوی نے 3 ماہ کی کم سن بچی کےجگرکا علاج ٹھیک نہ کرنے پر چلڈرن ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور لیڈی ڈاکٹر ہما چیمہ سمیت چار ڈاکٹروں کو ایک کروڑ 21 لاکھ 73 ہزار روپے ہرجانہ جبکہ ایک لاکھ 55 ہزار سٹرلنگ پاﺅنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ صارف عدالت کے رجسٹرار آصف نذیر کے مطابق صارف عدالت میں گلبرگ کے رہائشی اور ایشین بینک کے ایک افسر علی مرتضیٰ نے دعویٰ دائر کر رکھا تھا کہ اس کی 3 ماہ کی بیٹی کا جگر خراب ہو گیا، جس پر چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر پروفیسر طاہر مسعود نے نومولود بچی کے جگر کا علاج کرنے کے لئے بھاری رقم اور خرچہ بتایا، اور نومولود بچی کا لندن سے جگر کا ٹرانسپلانٹ کروانے کا مشورہ دیا، شہری علی مرتضیٰ کی جانب سے کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی نومولود بیٹی کے جگر کی ٹرانسپلانٹ کے لئے اسے ایشین بنک نے ایک لاکھ 55 ہزار سٹرلنگ پاﺅنڈ بھی دئیے جو کہ ڈاکٹر طاہر مسعود نے لیے۔ اس کے ساتھ کروڑوں روپے کا مزید خرچہ بھی کروایا اس کے باوجود اس کی بیٹی کا علاج معالجہ ٹھیک نہ ہوا، دعوے کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر ہما چیمہ سمیت ہسپتال کے دیگر ڈاکٹر نے بھی علاج معالجہ میں غفلت سے کام لیا ہے۔ فاضل عدالت نے گزشتہ روز دعوے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جس میں ڈاکٹر طاہر مسعود کوایک کروڑ 21 لاکھ 73 ہزار ہرجانہ، اور ایک لاکھ 55 ہزار پاﺅنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فاضل عدالت نے سیکرٹری صحت کو بھی ڈاکٹر طاہر مسعود اور لیڈی ڈاکٹر ہما چیمہ وغیرہ سے رقم لے کر دینے کا حکم دیا ہے۔

مزید : لاہور


loading...