ملائشین بچی ماں کے حوالے ،دادی نیم بے ہوش ہوکر عدالت میں گر گئی

ملائشین بچی ماں کے حوالے ،دادی نیم بے ہوش ہوکر عدالت میں گر گئی
ملائشین بچی ماں کے حوالے ،دادی نیم بے ہوش ہوکر عدالت میں گر گئی

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے اڑھائی برس کی ملائشیاکی شہری بچی کو اس کی ملائشین ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ۔مسٹر جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی کے روبرو ملائیشین خاتون اریحا ایمان بینتی کی حبس بے جا کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر خاتون کی اڑھائی برس کی بیٹی عریفہ معیز کو فیصل آباد سے بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا گیا ، درخواست گزار کے وکیل رائے خادم حسین نے موقف اختیار کیا کہ اس نے ملائیشیا میں اسلام قبول کرنے کے بعد ایک پاکستانی لڑکے معیزخالد سے شادی کی جس سے ان کی ایک بیٹی عریفہ معیز پیدا ہوئی ، انہوں نے بتایا کہ اس کی ساس 2013ءمیں ملائیشیا آئی اور اس کی بیٹی کو چند دن کا کہہ کر بہانے سے پاکستان لے آئی ، اب جب وہ اپنی بیٹی کو لینے کے لئے پاکستان آئی تو فیصل آباد کی رہائشی اس کی ساس نے اسے دھکے مار کر باہر نکال دیا ، انہوں نے استدعا کی کہ کمسن بچی کو اس کی حقیقی والدہ کے حوالے کیا جائے، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کمسن بچوں کی حوالگی سے متعلق پاکستان کا قانون کیا کہتا ہے ، کیا کمسن بچی کو بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے ، جس پر وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اڑھائی سالہ عریفہ معیزبھی ملائشیا کی شہری ہے اور اسے حقیقی ماں کے ساتھ بھیجنے کا حکم دیا جائے، کمرہ عدالت میں جب بچی کی دادی کو اس کی حقیقی ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تو بچی نے اپنی دادی منزہ خالد کو ماں کہہ کر پکارتے ہوئے رونا شروع کر دیا جس پر عدالت نے ملائیشین شہری خاتون کو اپنی بیٹی کے ہمراہ کچھ وقت گزارنے کا حکم دیا ،30 منٹ بعد دوبارہ درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے بچی کو ماں کی تحویل میں دینے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔عدالتی حکم کے بعد بچی کی دادی منزہ خالد کمرہ عدالت میں نیم بے ہوشی کی حالت میں گرپڑی ۔

مزید : لاہور


loading...