ہائی کورٹ :قصور سکینڈل کے ملزموں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کے لئے درخواست دائر

ہائی کورٹ :قصور سکینڈل کے ملزموں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کے لئے درخواست ...
ہائی کورٹ :قصور سکینڈل کے ملزموں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کے لئے درخواست دائر

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی) قصور جنسی سکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت یا انسداد دہشت گردی عدالت میں چلانے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی، لاہور ہائیکورٹ میں قصور کی رہائشی ثناءمراد نے آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہے کہ درندہ صفت گروہ گزشتہ 10برس سے معصوم بچوں کی زندگیاں برباد کرتے رہے اوربھتہ وصول کرتے رہے، میڈیا میں خبریں آنے کے بعد قصور جنسی سکینڈل کا پردہ فاش ہوا اور قصور کے رہائشیوں نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا ہے، درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ کے سات مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعات 377، 386، 387 اور 293 کے تحت درج کئے گئے ہیںجبکہ ملزمان متاثرہ بچوں کے والدین سے بھتہ وصول کرتے رہے اور پولیس نے درج کئے گئے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی کوئی بھی دفعات شامل نہیں کی ہیں، جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6(کے) کے تحت بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ کیا جانا چاہئے، درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت درج کئے گئے مقدمات کا ٹرائل بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلائے جا سکتے ہیں جبکہ پولیس نے تاحال گرفتار کئے گئے ملزموں کا ریمانڈ علاقہ مجسٹریٹ سے لے لیا ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسے سنگین مقدمات میں عام ٹرائل کورٹ کا مداخلت کا اختیار نہیں ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ 1952 کی دفعہ 2 میں کی گئی ترمیم میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی دہشت گردی اور عدم تحفظ کی سرگرمیاں پائی جائیں تو ان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں جبکہ مقامی پولیس ملزموں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس وجہ سے ملزموں کو انسداد دہشت گردی عدالت یا فوجی عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا بلکہ ان کا ریمانڈ علاقہ مجسٹریٹ سے حاصل کر لیا گیا ہے، لہٰذا قصور جنسی سکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت یا انسداد دہشت گردی عدالت میں چلانے کا حکم دیا جائے اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو حکم دیا جائے کہ مقدمہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو بھجوایا جائے اور چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے، درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ علاقہ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو قصور واقعہ کے مقدمات کی کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے۔

مزید : لاہور


loading...