تمام تفتیشی اداروں کی کارکردگی ناقص ہے ،جعلی انجکشن کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

تمام تفتیشی اداروں کی کارکردگی ناقص ہے ،جعلی انجکشن کیس میں ہائی کورٹ کے ...
تمام تفتیشی اداروں کی کارکردگی ناقص ہے ،جعلی انجکشن کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ہیپاٹائٹس کے جعلی ٹیکوں کی فروخت میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ تمام تفتیشی اداروں کی کارکردگی ناقص ہے اور پراسکیوٹرزروایتی دلائل دیتے ہیں، پراسکیوشن کو نئے قانونی نکات بھی تیار کرنے چاہیں۔مسٹر جسٹس مظہر اقبال سدھو کی سربراہی میںد و رکنی بنچ نے میاں سجاد علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے جنوری میں ملزم کے خلاف جعلی ادویات کی فروخت کا جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے ، جرم قابل ضمانت ہے اس لئے ملزم کی ضمانت منظور کی جائے ، فیروز سنز فارما سیوٹیکل کمپنی کے وکیل اور ایف آئی اے کے پراسکیوٹر نے کہا کہ ملزم کمپنی کا نام استعمال کر کے جعلی ٹیکے بنا رہا تھا، ملزم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور اس کے قبضے سے بھاری تعداد میں جعل ٹیکے بھی برآمد ہوئے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کے قبضے سے برآمد ٹیکوں کی ٹیسٹ رپورٹ کہاں ہے تاہم ایف آئی اے کے وکیل رپورٹ پیش نہ کرسکے جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ہر قسم کاتفتیشی ادارہ ناقص کارکردگی کا حامل ہے ،پراسکیوٹرزروایتی دلائل دیتے ہیں، پراسکیوشن کو نئے قانونی نکات بھی تیار کرنے چاہیں، عدالت نے ایف آئی اے کو 11اگست تک ملزم کی درخواست ضمانت پر بحث مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ۔

مزید : لاہور


loading...