صہیونی حکومت کی نئی گستاخی، ہوٹل اور شراب خانے کے قیام کے بعد تاریخی فلسطینی قبرستان پرشراب میلے کا انعقاد

صہیونی حکومت کی نئی گستاخی، ہوٹل اور شراب خانے کے قیام کے بعد تاریخی فلسطینی ...
صہیونی حکومت کی نئی گستاخی، ہوٹل اور شراب خانے کے قیام کے بعد تاریخی فلسطینی قبرستان پرشراب میلے کا انعقاد

  



مقبوضہ بیت المقدس (اے این این) اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے تاریخی شہربیت المقدس میں مسلمانوں کے چودہ سو سالہ پرانے قبرستان مامن اللہ میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کی قبور پرشراب خانے اور ہوٹل کے قیام کے بعد اب شراب میلے کے انعقاد کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکومت بالخصوص القدس کی صہیونی بلدیہ کی اجازت سے اسرائیل کی شراب ساز فرمیں گیارہویں سالانہ شراب میلے کا انعقاد مامن اللہ قبرستان میں کرنے کی تیاریاں کرر ہی ہیں۔

اسرائیلی بلدیہ کی ویب سائٹ پرجاری ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گیارہوں شراب میلے کا انعقاد ’’مامن اللہ‘‘ قبرستان کی زمین پر 26 اور 27 اگست کو منعقد کیا جائے گا جس میں اسرائیل کی تمام بڑی شراب ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گی۔ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کا کہنا ہے کہ شراب میلے میں اسرائیلی شراب کی مجموعی طورپر 120اقسام پیش کی جائیں گی۔ دو روزہ میلے میں اسرائیل اور دنیا کے مختلف ممالک کے مرد زن فنکار بھی داد عیش دیں گے۔ فن کاروں کے علاوہ میلے میں 20 ہزار مقامی یہودیوں کی شرکت متوقع ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطین کے تاریخی قبرستان میں بزرگان دین کی قبروں پر شراب میلے کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب حال ہی میں صہیونی حکومت اس قبرستان کے ایک حصے پر شراب خانہ اور ہوٹل قائم کرچکی ہے۔ اسرائیلی حکومت "لنڈفیر" نامی یہودی ریستوران کی مزید شاخیں بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...