لوئر دیر بم دھماکے میں امن لشکرکا رکن جاں بحق،ہنگو میں مزید12طالبان نے ہتھیار ڈال دئیے

لوئر دیر بم دھماکے میں امن لشکرکا رکن جاں بحق،ہنگو میں مزید12طالبان نے ہتھیار ...
لوئر دیر بم دھماکے میں امن لشکرکا رکن جاں بحق،ہنگو میں مزید12طالبان نے ہتھیار ڈال دئیے

  



لوئر دیر/ہنگو(اے این این) لوئر دیر میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں امن لشکر کا رکن جاں بحق ہو گیا جبکہ ہنگو میں مزید 12 طالبان نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح لوئر دیر کے علاقے زیارت کلے سوری پاؤ میں امن لشکر کمیٹی کے رکن دلاور خان نماز فجر کی ادائیگی کے بعد واپس گھر رہے تھے کہ انہیں ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دلاور خان کے گھر کی طرف کچا راستہ جاتا ہے جہاں نا معلوم افراد نے دھماکے خیز مواد نصب کر رکھا تھا۔ دلاور خان مقامی امن کمیٹی کے رکن تھے اور یہ امن کمیٹیاں خیبر پختونخوا میں 2009ء اور 2010ء میں مختلف علاقوں میں اس وقت قائم کی گئی تھیں جب شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔

ان امن کمیٹیوں میں مقامی لوگوں کو مسلح کر کے شدت پسندوں کے خلاف چوکس رکھا جاتا تھا۔امن کمیٹی کے اراکین پر صوبہ بھر اور قبائلی علاقوں میں متعدد حملے ہو چکے ہیں جن ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل لوئر دیر میں امن کمیٹیوں پر چند ایک حملے ہی ہوئے لیکن لوئر دیر اور اس کے قریب علاقے جیسے سوات اور ملاکنڈ میں بڑی تعداد میں امن کمیٹیوں کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ان دنوں ان امن کمیٹیوں کی حیثیت کوءء زیادہ واضح نہیں ہے بعض علاقوں میں ان امن کمیٹیوں یا امن لشکروں کو ختم کر دیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ کمیٹیاں اب بھی فعال ہیں۔

امن کمیٹیوں یا امن لشکروں سے حکومت کی حمایت واپس لینے کے بعد اب ان کمیٹیوں یا لشکروں کے اراکین کوئی زیادہ محفوظ نہیں رہے ۔ دوسری جانب ہنگو میں کالعدم تحریک طالبان کے مزید 12 دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کا لعدم تحریک طالبان اسلم فاروقی گروپ کے 12دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ وہ جرائم سے توبہ کر کے عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، گزشتہ روز کالعدم تحریک طالبان گل زمان گروپ کے اہم کمانڈر ریاض شاہ نے بھی خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا تھا۔ہتھیار ڈالنے والے نئے طالبان کے نام جاری نہیں کئے گئے۔

مزید : ہنگو


loading...