وہ بچہ جس کی پیدائش کے بعد کئی سال تک ڈاکٹر سراغ نہ لگاسکے کہ لڑکا ہے یا لڑکی کیونکہ۔۔۔ ایسی کہانی جسے پڑھ کر کوئی بھی چکرا جائے

وہ بچہ جس کی پیدائش کے بعد کئی سال تک ڈاکٹر سراغ نہ لگاسکے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ...
وہ بچہ جس کی پیدائش کے بعد کئی سال تک ڈاکٹر سراغ نہ لگاسکے کہ لڑکا ہے یا لڑکی کیونکہ۔۔۔ ایسی کہانی جسے پڑھ کر کوئی بھی چکرا جائے

  



لندن (نیوز ڈیسک) جنس کی تبدیلی کی کہانیاں تو آپ نے بہت سنی ہوں گی مگر برطانوی شخص جو ہالیڈے کی جنس کے ساتھ جو اتارچڑھاؤ پیش آئے ان کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اٹھائیس سالہ جوہالیڈے نے اپنی حیرت انگیز زندگی کی کہانی ایک کتاب She's A Boy کی صورت میں شائع کی ہے جو مبہم جنس کے حامل افراد کی دردناک زندگی سے پردہ اٹھاتی ہے۔

جوہالیڈے بتاتے ہیں کہ جب 24 جنوری 1988ء کو ان کی پیدائش ہوئی تو ان کی ماں یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ ڈاکٹروں کے مطابق وہ نہ لڑکا تھے اور نہ لڑکی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ Cloacal exstrophy نامی مسئلے کا شکار تھا اور اس کے جنسی اعضاء نہیں تھے، یعنی یہ بتانا ممکن نہ تھا کہ وہ نر ہے یا مادہ، تاہم ڈاکٹروں نے دیگر شواہد کی بناء پر اسے لڑکا قرار دیا۔

ہالیڈے کی والدہ نے اس کی پرورش لڑکے کے طور پر شروع کردی لیکن جب وہ انہیں ایک مشہور یورالوجسٹ کے پاس لے کر گئیں تو اس نے بتایا کہ بچے کو غلطی سے لڑکا قرار دیا جا چکا تھا اور ان کی رائے میں اس کی پرورش لڑکی کے طور پر ہونا ضروری تھی۔ہالیڈے کی والدہ یہ بات سن کر صدمے سے بے حال تھیں، تاہم انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنی بیٹی بنالیا اور اس کی جنس سرکاری کاغذات میں تبدیل کروانے کیلئے ایک عظیم مہم کا آغاز کردیا۔ اس وقت کے برطانوی قانون کے تحت یہ تبدیلی کروانا آسان نہ تھا اور حتیٰ کہ شہزادی ڈیانا جیسی شخصیات کی مدد لے کر ہالیڈے کی جنس سرکاری کاغذات میں لڑکے سے تبدیل کرکے لڑکی کی گئی۔

لیکن ہالیڈے کا امتحان ابھی ختم نہ ہوا تھا۔ اگرچہ اب وہ سرکاری طور پر لڑکی بنادیا گیا تھا اور ایک مدت سے جوئل کے نام سے زندگی گزار رہا تھا مگر اس کے اندر سے آواز آتی تھی کہ وہ عورت نہیں مرد ہے۔ جب 25 سال کی عمر میں اس نے ایک ہارمونز سپیشلسٹ سے رابطہ کیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو رزلٹ xy تھا،یعنی وہ عورت نہیں بلکہ مرد تھا۔ ناقابل بیان تکالیف سے گزرنے والے ہالیڈے کی زندگی میں ایک دفعہ پھر بھونچال آگیا تھا۔ اب ایک دفعہ پھر اسے ٹیسٹاسٹیرون ہارمون دینے شروع کردئیے گئے اور وہ پھر عورت سے مرد بننے کا سفر طے کرنے لگا۔

ساری زندگی عورت اور مرد کی شناخت کے درمیان جھولنے والے ہالیڈے کا کہنا ہے کہ ’’اب پہلی دفعہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں ایک مرد ہوں، لیکن پھر یہ سوچ کر دہل جاتا ہوں کہ کل پھر کسی ماہر نے بتا دیا کہ میں عورت ہوں تو کیا ہو گا۔‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...