پھر طاہر القادری

پھر طاہر القادری
 پھر طاہر القادری

  

اب تو ایسے ایسے زرعی آلات آ چکے ہیں کہ ہمارے کسان بھائی دو ڈھائی دِنوں میں ہی ’’بوائی، کٹائی‘‘ اور ’’بٹائی‘‘ سے فارغ ہونے کے بعد مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بیٹے کی شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے نکل پڑتے ہیں،مگر جب ہم آٹھ دس سال کے تھے تو حالات اس سے بالکل مختلف تھے،کسان بھائیوں کو بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔۔۔بوائی کے بعد جب کٹائی کا موسم آتا تو کسانوں کو کٹائی کے ہتھیاروں کے علاوہ’’ونگارہوں‘‘ (رضا کارانہ طور پر کام کرنے والوں) کی بھی ضرورت ہوتی تھی، فصل کٹائی کے موقع پر ڈھول بجائے جاتے تھے،گھبرو جوان ناچتے گاتے،نعرے لگاتے ایک دوسرے کو للکارتے، کنالوں پر مشتمل فصلوں کو ’’درانتی‘‘ کے وار سے کاٹتے ہوئے ڈھیر لگاتے جاتے تھے۔ نوجوانوں کے ساتھ بوڑھے بزرگ بھی میدان میں موجود ہوتے اور نوجوانوں کے آپس کے مقابلے کے ساتھ ساتھ بزرگوں اور جوانوں کے درمیان بھی مقابلہ ہوتا۔نوجوان چھاتی کے زور پر اور بزرگ ’’حکمت‘‘ کے زور پر تقریباً تقریباً برابر رہتے تھے،مگر ہمارے محلے کے ’’چاچا نورا‘‘ اور ’’چاچا گاموں‘‘ ستر کے پیٹے میں ہونے کے باوجود نوجوانوں سے بازی لے جاتے تھے اور پھر فخر سے کہا کرتے تھے ’’بچڑو‘‘ طاقت دے نال عقل وی ضروری اے( میرے بچو طاقت کے ساتھ عقل بھی لازم استعمال کیا کرو) کٹائی کے بعد ان تمام فصلوں کو ’’کھلواڑے‘‘ (کھلے میدان میں) میں رکھ دیا جاتا تھا اور پھر ان فصلوں پر گدھے یا بیل چلائے جاتے تھے جو اپنے پاؤں سے گندم کے دانوں پر موجود ’’چھلکے‘‘ نرم کر دیتے تھے۔ یہ ’’کھلواڑے‘‘ سماجی، ثقافتی مرکز بھی تھے، یعنی گانے بجانے، ڈھول ڈھمکے بھی جاری رہتے،لیکن جونہی کھلواڑے لگتے۔ شہر کے غریب لوگ ان کھلواڑوں کے اردگرد آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے، زمیندار ’’پدھاری‘‘ کا کام کرتے رہتے اور یہ غریب لوگ اونچی اونچی برکت کی دُعائیں مانگتے رہتے،جونہی گندم صاف کر کے بوریاں بھری جاتیں تو پھر اس دوران زمیندار لوگ ان غریب لوگوں کو بھی گندم کے ’’ٹوپے‘‘ پکڑاتے جاتے اور غریب لوگ دُعائیں دیتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چل دیتے یا پھر کسی دوسرے ’’کھلواڑے‘‘ کا رُخ کرتے۔۔۔ ہمارے مُلک میں بھی آج کل ایسے ہی حالات چل رہے ہیں گو کہ انتخابات کے ’’کھلواڑے‘‘ لگنے میں ابھی بہت دیر ہے، مگر سیاسی غریب غرباء نے ابھی سے کھلواڑے کے اردگرد شور مچانا شروع کر دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ شاید ’’زمیندار‘‘ وقت سے پہلے ’’کھلواڑہ‘‘ لگا دے۔

نوازشریف کے نااہل ہونے کے بعد بہت سے لوگ خود کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی پاکستان واپس آ چکے ہیں اور وہی پرانے نعرے اور خطابات سنا رہے ہیں۔طاہر القادری ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کا حساب و انصاف لینا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ایک بار پھر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے زبان و بیان سے تو آپ واقف ہیں۔ سو اس بار بھی وہ وہی زبان و بیان دہرا رہے ہیں جو اس سے پہلے دہراتے تھے اورآئندہ بھی دہرائیں گے۔ طاہرالقادری کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ یہ اچانک پاکستان آتے ہیں، مقتولین کا حساب مانگتے ہیں۔ دھرنے دیتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں اور پھر خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں ان کا آنا اور پھر واپس جانا خاصا ’’پر اسرار‘‘ قسم کا ہوتاہے، اہل پاکستان کو آج تک نہ ان کے ’’آنے‘‘ کی سمجھ آئی ہے اور نہ ان کے ’’جانے‘‘ کی سمجھ آئی ہے۔ وہ اپنے کارکنوں کے قتل کے حوالے سے بہت جذباتی ہو جاتے ہیں، مگر جب واپس جاتے ہیں تو پھر مقتولین کا نام تک نہیں لیتے۔۔۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہ جو ماڈل ٹاؤن میں قتل ہوئے تھے ان کے حقیقی ورثاء کہاں ہیں آخر کیا وجہ ہے وہ لوگ سامنے کیوں نہیں آتے، وہ لوگ اپنے پیاروں کے حوالے سے انصاف کی دھائی کیوں نہیں دیتے اور خاموش کیوں ہیں؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان مقتولین کے ’’ورثاء‘‘ بطور دیت اپنا اپنا معاوضہ وصول کر چکے ہیں اور اب انہیں مزید کسی انصاف کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ دیت کی رقم جو ’’اربوں‘‘ میں ہے خود طاہر القادری وصول کر چکے ہیں مگر وہ عوامی سطح پر اس ’’ایشو‘‘ کو اٹھائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی سیاسی زندگی کو آکسیجن ملتی رہے اور وہ پاکستان میں اپنی سیاست کو آگے بڑھاتے رہیں۔۔۔اب انہیں ایک بار پھر امید ہے کہ نواز شریف اس وقت مشکل میں ہیں اور طاقت ور طبقات ان کے خلاف ہو چکے ہیں۔سو ممکن ہے اس بار انہیں ’’بااعتماد‘‘ سمجھتے ہوئے آگے لانے کا فیصلہ ہو جائے۔۔۔اگر دیکھا جائے تو طاہر القادری گزشتہ کئی سال سے ملک کے اقتدار اعلیٰ تک پہنچنے کے لئے غیر معمولی کوشش کر رہے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہیں پوری امید تھی کہ وہ ’’وزیراعظم‘‘ بن جائیں گے انہوں نے اس حوالے سے اکثر مواقع پر یہ ’’تاثر‘‘ بھی دیا،مگر عمران خان ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئے اور ایسا نظر آنے لگا کہ جنرل پرویز مشرف عمران خان کو ’’وزیراعظم‘‘ بنانا چاہتے ہیں۔ریفرنڈم کے موقع پر طاہر القادری اور عمران خان نے ایک دوسرے سے بڑھ کرکے جنرل پرویز مشرف کے لئے کام کیا۔۔۔ مگر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بھی لگائے ان دونوں کی اِس جنگ کے دوران چودھری برادران نے اپنا کام دکھایا اور طاہر القادری اور عمران خان کو ایک سائیڈ پر لگا دیا۔عوامی تحریک اور تحریک انصاف دونوں جماعتیں انتخابی سطح پر بری طرح ناکام ہو گئیں،لیکن جنرل پرویز مشرف کے خصوصی حکم پر طاہر القادری اور عمران خان کو اسمبلی کے اندر تک رسائی دینے کے لئے انہیں کامیاب قرار دے دیا گیا۔طاہر القادری اس صدمے سے یوں نکلے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔۔۔ البتہ عمران خان اچھے دِنوں کی ’’آس‘‘ پر اسمبلی میں موجود رہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں یہ بات طے ہے کہ وہ ایک بہترین مقرر ہیں، رائی کا پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بناتے ہیں ان کا کوئی ثانی نہیں، وہ اچھے بھلے آدمی کو اپنی گفتگو کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں، لیکن بدقسمتی کہ اب لوگ ان کے کردار سے واقف ہو چکے ہیں اور سمجھ گئے ہیں کہ طاہر القادری کے زبانی دعوے ان کے عمل سے مختلف ہیں وہ روحانی طور پر ایک کاروباری آدمی ہیں اور ان کا ہر اٹھنے والا قدم ذاتی مفادات کے لئے ہوتا ہے وہ پاکستان کے عوام سے جب بھی رابطہ کرتے ہیں اس کے پیچھے ان کے ذاتی مفادات ہوتے ہیں، اپنے ذاتی ملازموں کو اپنے جلسے اور جلوسوں میں شریک کر کے خود کو ملک گیر سطح پر عوامی رہنما ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مگر درحقیقت عوامی سطح پر وہ کسی بھی حلقے سے ایک کونسلر تک منتخب نہیں کرا سکتے،لیکن ان کے یہ جلسے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ درحقیقت مُلک بھر سے ’’عطیات‘‘ اکٹھے کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اب جبکہ نواز شریف نااہل ہو چکے ہیں تو طاہر القادری ایک بار پھر مظلوم بن کر جہاں حکومت اور نواز شریف کو تنگ کرنے کے لئے آئے ہیں وہاں ملک بھر سے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے مشن پر بھی آئے ہیں،سو ان کی آمد پر کسی بھی طرح کی کوئی فکر مندی کی ضرورت نہیں امید ہے اس بار بھی انصاف بٹورنے کے بعد اپنے دیس چلے جائیں گے۔

مزید : کالم