لاہوررِنگ روڈ منصوبہ۔۔۔چندتجاویز

لاہوررِنگ روڈ منصوبہ۔۔۔چندتجاویز
 لاہوررِنگ روڈ منصوبہ۔۔۔چندتجاویز

  

پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ گوادر صوبہ بلوچستان سے شروع ہوکر سندھ ، پنجاب، خیبرپختونخوا ،گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا چین کو ملائے گا۔

2000کلومیٹر سڑک کے ذریعے وہ ترقی ہونے جا رہی ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ گوادر سے چین تک شاہراہوں کی تعمیر سے پاکستان مستقبل میں دنیا کا اقتصادی گیٹ وے بننے جارہاہے۔جو ان شاء اللہ پاکستان اور پاکستانیوں کے روشن مستقبل کی نوید ہو گی۔مُلک میں زرعی، صنعتی ترقی کے ساتھ شاہراہوں کی تعمیر بھی بے حد ضروری ہے ۔لاہور، اسلام آباد،پشاور موٹروے،پندی بھٹیاں تا فیصل آباد تا گوجرہ موٹروے ، اسی طرح لاہور تا کراچی موٹروے ، کراچی تا حیدر آباد سکھر،پشاور تاہزارہ ، لاہور سیالکوٹ موٹروے کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے ۔یہ عمل خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں لاہور میں ٹریفک کے دباؤکو کم کرنے اور لاہور کے دور درازعلاقوں میں پہنچنے کے لئے ٹریفک کو شہر سے گزارنے کی بجائے بائی پاس کی صورت میں ایک عظیم الشان منصوبہ ترتیب دیا گیا، جسے ’’لاہور رنگ روڈ‘‘ پراجیکٹ کانام دیا گیا۔چودھری پرویز الٰہی حکومت نے جرمنی کی ایک کمپنی سے سروے کرواکر اس رنگ روڈ کا نقشہ بنوایا،جس میں لوگوں کا تجارتی معاشی نقصان کم اور انہیں فائدہ زیادہ حاصل ہوا، تاہم 2008ء میں ان کی حکومت دوبارہ نہ آسکی ،لیکن عوامی مفادعامہ میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی گئی۔

کمشنر لاہور ڈویژن لاہور محمد عبداللہ خان سنبل کو یہ ٹاسک سونپاگیا، جو اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں، تمام رکاوٹوں کے باوجود پوری دِل جمعی سے کام سرانجام دے رہے ہیں۔ قابلِ تحسین ہے۔رِنگ روڈ کے 22.35کلو میٹر طویل سادرن لوپ کا باقاعدہ آفس کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ محمدعبداللہ سنبل کے مطابق سادرن لوپ ون اور سادرن لوپ ٹو پر اسفالٹ کا 29.8فیصدسب ویز48.2فیصد اور ارتھ ورک 88.3 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، جبکہ سب ویز کے بیک فِل ڈرینج ورک،بجلی کاکام اور فاؤنڈیشن کاکام سوفیصد مکمل کرلیاگیا ہے۔اِسی طرح فائبرآپٹک بچھانے کاکام 73فیصد، ٹول بوتھ کا 73فیصدکام اور ٹول بوتھ میںآلات نصب کرنے کاکام 50فیصد مکمل کرلیاگیا ہے۔ 22.35فیصدکلومیٹر طویل سادرن لوپ میں پانچ انٹرچینج اور 15پل تعمیرکئے جارہے ہیں۔ گاڑیوں کی آمدو رفت اور پیدل گذرگاہوں کے لئے سب ویز پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ رنگ روڈ کے دونوں اطراف شجرکاری کے ساتھ ساتھ سادرن لوپ میں چھوٹے جنگلات لگائے جائیں گے،جو آکسیجن پاکٹ کاکام کریں گے۔رِنگ روڈ لاہور میں ٹریفک مینجمنٹ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

1۔ ہماری اس ضمن میں گذارش ہے کہ لاہور رِنگ روڈ ایک طرف راوی پل ،نیازی چوک،سے شروع ہوکر آخر میں ملتان روڈ پر آکر اختتام پذیرہونا ہے۔شمالی، وسطی، جنوبی پنجاب سے ٹریفک لاہور کے اندر اور باہر جانی ہے۔ تقریبا 50کلو میٹر سے زائد کا فاصلہ ہے، اس رِنگ روڈپر دونوں اطراف ریسٹورنٹ بھی بنانے چاہئیں۔ رِنگ روڈ کے ساتھ سب وے روڈز بھی بن رہی ہیں جو لاہور شہر کے باسیوں کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کے طورپر کام کرے گی،چونکہ یہ روڈ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس ضمن میں گزارش ہے کہ رنگ روڈ کے دونوں اطراف سروس روڈز پر کسی قسم کی تجاوزات قائم نہ ہونے دی جائیں۔ رِنگ روڈ پولیس (RRP)کاقیام عمل میں لایاجاچکاہے، وہ مین روڈ کے ساتھ سائیڈ روڈز پر بھی توجہ مرکوز کریں تاکہ سڑک پر ٹریفک روانگی کے ساتھ چلے اور ماحول بھی خوبصورت دکھائی دے۔

2۔ ماضی میں رنگ روڈ پر تیز رفتار ٹریفک کی وجہ سے ٹریفک حادثات بہت ہوتے تھے جس پر رِنگ روڈ اتھارتی نے ایک انقلابی اقدام اٹھایاکہ سڑک کے دونوں اطراف سائیڈ وال ، سینٹرمیں ڈیوائیڈسائیڈ وال اوریوٹرنز کو ختم کرکے اسے انٹرچینج کے ساتھ منسلک کردیا، دوسرا نیازی چوک سے محمود بوٹی انٹرچینج سے آگے لکھوڈیر گاؤں پر بھینی انڈرپاس کے اطراف سائیڈوں کو اونچا اور اس کے اوپر حفاظتی تار لگادی گئی ہے، جس سے لوگوں کادیوار پھلانگ کردوسری اطراف پیدل جانا بند ہوگیا اور عوام الناس میں سڑک کو عبور کرنے کے لئے ’’اوورہیڈ برج‘‘ استعمال کرنے کا شعور پیدا ہوا، اس سے انسانی جانی ضیاع کا اندیشہ تقریبا ختم ہوگیا ہے۔ گزارش ہے کہ لاہور رِنگ روڈ کی ایک سائیڈ پر اسی طرز کی کنٹریکٹ وال اور وائر بیرئیرلگایاجائے تاکہ انسانی حادثات کاتدارک ہوجائے نیازی چوک سے بند روڈ گلشن راوی تک سائیڈ کنکریٹ وال کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔

3۔ عوام الناس کی آگاہی کے لیے تمام انٹرچینج پر اردو تحریر میں رہنمائی سائن بورڈز لگائے جائیں۔ انگلش میں بھی ضرورلگائیں تاہم اردو میں بھی ہونے چاہئیں۔

4۔ریسکیو 1122 کاقیام پورے رِنگ روڈز کی مناسبت سے پوائنٹس بنائے جائیں۔

5۔جس تیزی سے انفراسٹرکچر کا جال بچھ رہا ہے، وہاں فضائی آلودگی میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ سگیاں بائی پاس کی مثال ہمارے سامنے ہے، جب یہ روڈ بنائی گئی تو اس کے اطراف امرود،الیچی کے باغات تھے، بہت ہی خوبصورت قدرتی منظر تھا،لیکن آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ باغات قصہ پارینہ بن گئے، درخت قدرتی حسن ہے۔آکسیجن کا قدرتی ذریعہ ہے، لاہور رِنگ روڈ کی خوبصورتی میں چارچاند اس وقت لگیں گے جب اس سڑک کے اطراف سایہ دار درخت لگیں گے رِنگ روڈ کو ملتان روڈ سے لنک کرنا بھی ایک چیلنج ہے ۔

مزید : کالم