وحدت روڈ سے اکھاڑے گئے آہنی شیڈز دوبارہ لگائے جائیں

وحدت روڈ سے اکھاڑے گئے آہنی شیڈز دوبارہ لگائے جائیں

مکرمی! شہریوں کا ایک اہم مسئلہ روز نامہ ’’پاکستان‘‘ کی وساطت سے ہم اعلیٰ حکام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں لاہور کی انتظامیہ بعض کاروباری اداروں اور این جی اوز کی طرف سے مختلف سڑکوں پر بس اور ویگن سٹاپ پر دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لئے آہنی شیڈ لگائے جاتے ہیں، جو برسوں شہریوں کے لئے محفوظ انتظار گاہ کا کام دیتے ہیں۔ ملتان چونگی سے مسلم ٹاؤن موڑ تک وحدت روڈ پر بھی ایسے وہ شیڈزلگے ہوئے تھے۔ گزشتہ سال کے آخر میں حکومت کی طرف سے لاہور کو سیف سٹی قرار دینے کے بعد ہر سڑک اورگلی میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا کام شروع ہوا تو ان کیمروں کے لئے تاریں بچھانے کا آغاز ہوا۔ وحدت روڈ پر لگے ہوئے ہربس ویگن سٹاپ پر آہنی شیڈ اکھاڑ دیئے گئے اور وہ شیڈزمتعلقہ اہلکار لے گئے۔ توقع تھی کہ جب کیمروں کے لئے تاریں بچھانے کا کام مکمل ہوگا تو انتظار گاہوں کے شیڈز دوبارہ لگا دیئے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

جنابِ والا! نہایت افسوس سے یہ بات اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لائی جارہی ہے کہ نامعلوم وجوہ سے بس سٹاپ سے اکھاڑے گئے آہنی شیڈز واپس نہیں لگائے گئے، حالانکہ کیمرے لگانے کے لئے تاریں بچھانے کا کام مکمل ہوئے چار پانچ ماہ ہو چکے ہیں۔ وحدت روڈ ایک معروف شاہراہ ہے۔ اس کے اردگرد متعدد آبادیاں ہیں۔ کئی تعلیمی ادارے بھی ہیں، جہاں سے لوگ صبح سے رات گئے تک بس اور ویگن کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو روزانہ اپنے دفتروں، دکانوں تک پہنچنے کے لئے بسوں اور ویگنوں کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے کے لئے بھی ان ہی شیڈز کے نیچے کھڑے ہو کر دھوپ اور بارش سے محفوظ رہا کرتے ہیں، لیکن جب سے وہ آہنی شیڈز غائب ہوئے ہیں، ہماری طرح سینکڑوں شہریوں کو تیز دھوپ اور بارش میں روزانہ کھڑے ہونا پڑ رہا ہے۔ ہماری اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ اکھاڑے گئے آہنی شیڈز فوری طور پر دوبارہ نصب کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں اور اگرممکن ہو تو جن افسروں یا اہلکاروں نے کئی ماہ گزرجانے کے بعد بھی آہنی شیڈز نہ لگا کر شہریوں کو پریشان کررکھا ہے، ان کے خلاف ایکشن بھی لیا جائے۔ خدارا، ہماری پریشانی کا احساس کریں کہ ہم تیز دھوپ اور بارش میں کھلے آسمان تلے کھڑے ہو کر روزانہ بس اور ویگن کا انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

عرض گزار۔ ایم ریاض، شاکر علی، بابر بٹ، رضوان بٹ، غلام مصطفیٰ، خواجہ احمد دین، جواز جعفری لاہور

مزید : اداریہ