مسلم لیگ(ن) میں قیادت کی تبدیلی

مسلم لیگ(ن) میں قیادت کی تبدیلی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ(ن) کو میاں نواز شریف کی جگہ نیا صدر منتخب کر کے اس کی اطلاع دینے کا حکم دیا ہے،الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002ء کے تحت کوئی نااہل شخص سیاسی پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا،نوٹس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا تاہم جلد سے جلد نیا صدرمنتخب کرنے کے لئے کہا گیا ہے البتہ مسلم لیگ(ن) کے اپنے پارٹی دستور کے مطابق صدارت کا عہدہ ایک ہفتے سے زیادہ مدت کے لئے خالی نہیں رہ سکتا اِس لئے توقع ہے کہ اگلے چند روز میں نیا پارٹی صدر منتخب کر لیا جائے گا۔ نواز شریف پاناما کیس کے فیصلے کے فوری بعد وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہو گئے تھے اُن کی جگہ شاہد خاقان عباسی وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھال چکے ہیں، مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو نیا صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ چھوڑ دی، جس کے بعد نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا، مسلم لیگ(ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی،تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے،شاہد خاقان عباسی 221 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہو گئے اور اب وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں،نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے،یہ نشست بھی خالی قرار دی جا چکی ہے، الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت بدھ کو کاغذاتِ نامزدگی وصول کرنے کا آخری دن تھا،آج سے وصولی کا کام شروع ہو گا، اِس کے بعد جانچ پڑتال ہو گی، کاغذاتِ نامزدگی کی واپسی کے بعد حتمی فہرست کا اعلان ہو گا،پولنگ17ستمبر کو ہو گی،جس کے لئے متوقع امیدواروں اور اُن کی پارٹیوں نے انتخابی مہم زور و شور سے شروع کر دی ہے، مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا عہدہ بھی دو چار دن میں پُر کر لیا جائے گا یوں سریم کورٹ کے فیصلے اور اس کے مضمرات پر مکمل عملدرآمد ہو جائے گا۔تاہم ابھی متاثرہ فریق نے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر نہیں کی،یہ اپیل بھی مقررہ مدت میں دائر ہو جائے گی۔

یہ تمام پراسس واضح کرتا ہے کہ حکومت اور مسلم لیگ(ن) سپریم کورٹ کے فیصلے پر پوری طرح عملدرآمد کر چکی ہیں، تاہم فیصلے کے بارے میں ساتھ ساتھ تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، جو قانونی طور پر متاثرہ فریق کا حق بھی ہے، البتہ مخالف جماعتیں اِس انداز سے پروپیگنڈہ کر رہی ہیں جیسے نواز شریف اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے اگر اپنے استقبال کے لئے آنے والوں سے خطاب کر رہے ہیں یا انہیں ہاتھ ہلا کر سلام کا جواب دے رہے ہیں یا فیصلے کے کسی پہلو پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں تو یہ عدالتی فیصلے کو نہ ماننے کے مترادف ہے یہ منطق عجیب و غریب اور قانون سے لاعلمی پر دلالت کرتی ہے،چوٹی کے وکلاء اور قانونی و آئینی ماہرین، بار ایسوسی ایشنوں کے سابق اور موجودہ عہدیدار اور آئین و قانون سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سپریم کورٹ کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر تحریری اور زبانی اظہارِ خیال کر رہے ہیں،جس میں موجودہ فیصلے اور اسی نوعیت کے سابق فیصلوں میں پائے جانے والے تضادات کو نمایاں بھی کیا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کے موجودہ بنچ میں بیٹھنے والے ججوں کے سابق فیصلوں کے حوالے بھی دیئے جا رہے ہیں اور قانونی استدلال کیا جا رہا ہے۔یہ سارے قانون دان حضرات اگر فیصلے پر اپنا اپنا تبصرہ کر رہے ہیں اور اُن میں سے بعض کا اگر یہ بھی خیال ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں بطور نظیر پیش نہیں کیا جا سکے گا یا ایسا کرنا مشکل ہو گا تو یہ سوچ سمجھ کر ہی کر رہے ہوں گے کہ اُنہیں ایسے اظہارِ خیال کا حق ہے۔اِسی طرح اگر متاثرہ فریق، فیصلے پر عمل کر چکنے کے بعد،اِس کے کسی پہلو پر اپنی ایسی رائے ظاہر کرتا ہے جو مخالفین کو پسند نہیں تو اُسے اس سے کس قانون کے تحت روکا جا سکتا ہے،اِسی طرح بعض حضرات یہ درخواست لے کر ہائی کورٹ پہنچ گئے کہ نواز شریف کو اسلام آباد سے لاہور تک ریلی نکالنے سے روکا جائے تو بجا طور پر فاضل عدالت نے سوال کیا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا جائے؟

اسلام آباد سے لاہور تک جلوس یا مارچ کے بارے میں طرح طرح کے منفی تبصرے تو اب تک ہو رہے ہیں اور اس بہانے بعض ٹی وی چینلوں کے اینکر اپنی حدود سے بڑھ کر اشتعال انگیز تبصرے کرنے میں بھی آزاد ہیں۔البتہ اگر کسی کو کچھ کہنے سے روکنے پر زور دیا جا رہا ہے یا اس پر دہائی دی جا رہی ہے تو وہ نواز شریف ہیں، اظہارِ خیال کی اس طرح کی یک طرفہ آزادی کا کوئی تصور دُنیا کے کسی مہذب مُلک میں نہیں پایا جاتا کہ ایک فریق تو جو چاہے گل افشانیاں کرتا رہے، حتیٰ کہ اخلاقیات کا دامن بھی تار تار کرنے سے گریز نہ کرے اور دوسرا اگر ایک جلوس نکالنے کی جسارت کر لے تو اس پر ہاہا کار مچا دی جائے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر خوش اسلوبی سے عمل ہو چکا اور اب فیصلے کے جو مضمرات مرتب ہو رہے ہیں اُن کے تحت لاہور کے حلقہ120 میں قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن ہو رہا ہے اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کی روشنی میں مسلم لیگ(ن) اپنا نیا صدر بھی منتخب کر لے گی یہ سب کام قانونی تقاضوں کے مطابق ہو رہے ہیں، جن سیاسی رہنماؤں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور جن کی درخواستوں پر فیصلہ آیا ہے اب اگلے اقدام کے طور پر اُنہیں قومی اسمبلی کے الیکشن میں شرکت کر کے اپنی اپنی عوامی مقبولیت کا بھی اندازہ لگا لینا چاہئے۔تحریک انصاف2013ء میں یہ نشست ہار چکی ہے اب اس کی پرانی امیدوار دوبارہ قسمت آزمائی کریں گی اگر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو سب سامنے آ جائے گااگر ووٹروں نے اُنہیں اپنے اعتماد کے قابل سمجھا تو وہ جیت بھی سکتی ہیں۔اِسی طرح پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حلقے کے میدان کو خالی نہیں چھوڑے گی گویا پیپلزپارٹی کا امیدوار بھی میدان میں ہو گا، جو پہلے بھی تھا، اِسی طرح جماعت اسلامی بھی اس حلقے سے الیکشن لڑ چکی ہے،وہ بھی چاہے تو اپنا امیدوار دوبارہ لے آئے،عدالتی فیصلے اگر قانون کے مطابق ہوتے ہیں تو انتخابی میدان میں فیصلے ووٹر کرتے ہیں، عدالتی فیصلے کے بعد اب مسلم لیگ(ن) سمیت تمام خواہش مند جماعتیں ووٹروں کو اپنا اپنا پروگرام پیش کریں، جس جماعت کا امیدوار جیت جائے گا یہ نشست اُس کے پاس چلی جائے گی۔

مسلم لیگ(ن) کے متوقع صدر شہباز شریف پہلے بھی جماعت کی سربراہی کر چکے ہیں اب حالات اگر یہ ذمے داری دوبارہ اُن کے سپرد کرنے جا رہے ہیں تو توقع کرنی چاہئے کہ وہ آنے والے نازک حالات کو پیشِ نظر رکھ کر نئی ذمے داریاں ادا کریں گے وہ ایک بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جہاں انہوں نے بڑے بڑے پراجیکٹ بھی شروع کر رکھے ہیں جن کی بروقت تکمیل پر وہ بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں،کیونکہ2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی کارکردگی پر الیکشن لڑنا ہے۔پنجاب میں پارٹی نے جو کارکردگی دکھائی اسے ووٹ اسی بنیاد پر ملیں گے،دوسرے صوبوں میں مسلم لیگ(ن) کی پوزیشن پنجاب کی طرح مضبوط نہیں ہے اِس لئے کامیابی کا تمام تر انحصار اسی صوبے کی کارکردگی پر ہے۔اِسی لئے اگلے دس ماہ تک وزیراعلیٰ شہباز شریف کو سیاسی اور انتظامی میدان میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانا ہو گی، سیاسی محاذ پر کامیابی کے لئے پارٹی کو متحد رکھنا ہو گا۔مخالفین اس میں بغاوت کے آثار دیکھ رہے تھے شاید اب بھی ایسی امیدیں لگائے بیٹھے ہوں ابھی تک تو ایسی کوئی خبر نہیں آئی تاہم الیکشن سے پہلے چارہ گروں کے کرشمے بھی کام دکھا سکتے ہیں اِس لئے شہباز شریف کو سیاسی اور انتظامی محاذ پر بیک وقت مستعد رہنا ہو گا۔

مزید : اداریہ