ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال اور محکمہ صحت کے متبادل انتظامات

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال اور محکمہ صحت کے متبادل انتظامات

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے ہڑتال جاری ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے ہڑتالی ڈاکٹروں کو برطرف کرتے ہوئے نئے ڈاکٹر بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 9روز کی ہڑتال کے دوران 69ڈاکٹر برطرف کئے جاچکے ہیں جبکہ 855 نئے ڈاکٹروں نے صوبے کے 33ہسپتالوں میں ڈیوٹی سنبھال لی ہے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے پیش کردہ مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہڑتالی ڈاکٹروں کے مختلف حربوں سے حکومت بلیک میل نہیں ہوگی۔ ینگ ڈاکٹرز نے اپنے ساتھیوں کی برطرفیوں اور نئے ڈاکٹروں کی بھرتی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال جاری رہے گی اور اب ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی علاج کی سہولتیں مہیا نہیں کی جائیں گی۔ یہ صور تحال خاصی تشویشناک ہے، کیونکہ علاج معالجے کی سہولتیں نہ ملنے سے مریضوں کی بڑی تعداد رل کر رہ گئی ہے۔ مختلف شہروں میں مقامی مریضوں کے ساتھ ساتھ نواحی علاقوں سے آنے والے مریضوں میں سے بیشتر بغیر علاج ہی واپس جانے پر مجبور ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے ہڑتال کو ناکام بناتے ہوئے مریضوں کے لئے ہنگامی بنیادوں پر جو انتظامات کئے ہیں، وہ ناکافی ہیں ۔ نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کرنے سے روکنے کے لئے ینگ ڈاکٹروں نے تشدد اور دھمکیوں سے بھی کام لیا۔ تاہم ان کی ایسی کوششوں کو محکمہ صحت نے ناکام بتاتے ہوئے جن نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کیا ہے، وہ ڈیوٹی دینے لگے ہیں لیکن ان کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے۔محکمہ صحت پنجاب کی کوششیں جاری رہیں تو ممکن ہے، ہڑتالی ڈاکٹروں کی جگہ نئے ڈاکٹروں کی مدد سے تمام مریضوں کو علاج کی سہولتیں حاصل ہو سکیں۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، رحیم یارخان، بہاول پور، گوجرانوالہ گجرات سرگودھا، اور دیگر شہروں میں ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کا زور ہے۔ پنجاب حکومت کے متبادل انتظامات سے تقریباً 30فیصد مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں حاصل ہوئی ہیں۔ سینئر ڈاکٹروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں لیکن ایسے سینئر ڈاکٹر بھی تعداد میں بہت کم ہیں، جو ڈیوٹی دینے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ عوامی حلقوں کی طرف سے ہڑتالی ڈاکٹروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے پر اطمینان کا اظہار تو کیا جارہا ہے لیکن متبادل ڈاکٹروں کی کمی پوری نہ ہونے پر مایوسی ظاہر کی جارہی ہے بعض ہسپتالوں میں نئے ڈاکٹروں کی بھرتی پر ینگ ڈاکٹروں کی طرف تشدد اور ہلٹربازی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آنے والے دنوں میں مریضوں کو زیادہ سے زیادہ علاج کی سہولتیں مہیا کی جائیں اور ہڑتالی ڈاکٹروں سے ہرگز کوئی رعائت نہیں ہونی چاہئے۔

مزید : اداریہ