میاں صاحب گئے او تے،بتی نال لے گھیؤ او

میاں صاحب گئے او تے،بتی نال لے گھیؤ او
 میاں صاحب گئے او تے،بتی نال لے گھیؤ او

  

کسی دِل جلے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے ’’میاں صاحب کو نااہل تو سپریم کورٹ کے ججوں نے کیا ہے۔ ہم عوام نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ بجلی والوں نے بجلی غائب کر دی اور ہرگھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کے لئے بند کر دیتے ہیں‘‘ صبح ہی صبح یہ پوسٹ دیکھ کر ہمیں بھی اپنے دُکھ یاد آ گئے کہ ہم تو اس سلسلے میں دہرے تہرے عذاب سے گزر رہے ہیں۔ایک تو علامہ اقبال ٹاؤن والوں نے ہنیر مچا دیا ہے(بقول نو ابزادہ نصر اللہ مرحوم) کہ خود سے کسی نقص کو دور نہیں کرتے اور یہ ملبہ بھی عوام پر ڈال دیتے ہیں اگر نہیں یقین تو لیسکو کی مصطفےٰ ٹاؤن(وحدت روڈ) سب ڈویژن میں تشریف لے جائیں تو آپ کو اس دفتر میں عوام کا ایک ہجوم سا ملے گا کہ یہ سب اسی علاقے کے صارف ہیں جو یا تو ہاتھوں میں بل لئے ان کی درستگی کے لئے واویلا کر رہے ہوتے ہیںیا پھر شکایت والے لوگ ہیں جو یہ گزارش کرنے آتے ہیں کہ جو ٹرانسفارمر گزشتہ روز تبدیل کر کے لگایا گیا تھا وہ پھر سے خراب ہے اور کئی گھنٹے ہو گئے بجلی بند ہے، اسی جگہ آپ کو وہ لوگ بھی مل جائیں گے جن کے ہاتھوں میں بل تو ہوں گے تاہم وہ ساتھ ہی ایک رسید بھی لے کر آئے ہوں گے جو بجلی کا میٹر لگوانے کے لئے ڈیمانڈ نوٹس کی ہے کہ صارف نے حسبِ حکم مطلوبہ رقم تو جمع کرا دی ہے،لیکن ابھی تک میٹر نہیں لگا اور ان کو مسلسل ’’اوسط‘‘ کے لحاظ سے بل بھیجا جا رہا ہے جو ان کے استعمال سے کہیں زیادہ ہے اور اب تو اوقات سے بھی بڑھ گیا کہ ادائیگی کرنے کے لئے راشن میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے،یہ سب جمع ہیں تو ہوتے رہیں کس کو پرواہ ہے کہ کسی نے ان مسائل کو حل کرنے پر توجہ ہی نہیں دینا ہے۔

جہاں تک خود ہمارا تعلق ہے تو ہم مجموعی چیرہ دستیوں کا بھی شکار ہیں شدید حبس والی گرمی نے مجبور کیا کہ ایئر کنڈیشنر چلایا جائے،نتیجہ یہ کہ ہم شام والے ’’پیک آورز چارجز‘‘ کا بھی شکار ہو گئے اور بل آیا توایک پورشن والے میٹر کا 10200روپے اور دوسرے والے پورشن کا ساڑھے سات ہزار روپے تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ دس ہزار روپے والے بل میں بجلی کی قیمت قریباً سات ہزار روپے اور ’’عاجزانہ ٹیکس‘‘ تقریباً تین ہزار روپے ہیں،ان میں سیلز ٹیکس اور کئی قسم کے سرچارج ہیں ان میں نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ والا سرچارج تو سالہا سال سے ادا کیا جا رہا ہے۔ابھی تک کسی نے گوارا نہیں کیا کہ قوم کو یہ بتایا جائے کہ وہ اب تک اس سرچارج کی مد میں کتنی رقم ادا کر چکے اور اس کا مصرف کیا ہوا کہ ابھی تک نیلم جہلم ہائیڈرو منصوبہ تو مکمل نہیں ہوا اور نہ معلوم یہ سرچارج کب تک وصول کیا جائے گا۔ابھی تک منصوبے کی تکمیل اور وہاں سے بجلی حاصل کرنے کا بھی کوئی موقع نہیں ہے۔بل بھاری بھر کم ملے تو ایک نیا عذاب یہ تھا کہ ادائیگی کے لئے صرف ایک روز کا وقفہ دیا گیا، گھر پر جو بل پھینکے گئے وہ آٹھ(8) اگست کی شام کو اور ان کی ادائیگی کی آخری تاریخ10اگست تھی،اب ایک فکسڈ انکم گروپ والے صارف کویہ رقم فوری طور پر ادا کرنا تھی ورنہ جرمانہ اور میٹر کی علیحدگی لازم ہو جاتی۔چنانچہ تنخواہ کا آدھا حصہ ادھار لے کر بل ادا کرنا پڑا۔

اس سے یاد آیا کہ ہمارے دفتر کے ساتھی حاجی اجمل صاحب آج کل سب ڈویژن کے چکروں سے تنگ آ کر بیٹھ گئے ہیں کہ ان کے گھر کا میٹر خراب ہوا، لیسکو کے بل اوسط کی بنیاد پر آئے تو انہوں نے جا کر فریاد کی، بتایا گیا کہ خراب میٹر تبدیل کرا لیں،اس کے لئے درخواست لی گئی، پراسیس مکمل کر کے ڈیمانڈ نوٹس دے دیا گیا، جو جمع کرا کے رسید کی نقل حاضر کر دی گئی اس عمل کو دو ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں اور وہ میٹر کی تبدیلی سے محروم بدستور فاضل بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ اور ایسے دیگر مسائل ہر وقت دیکھے اور سُنے جا سکتے ہیں۔ہم تو آج لوڈشیڈنگ کا ذکر کرنے پر مجبور ہیں جو ہر ایک گھنٹے کے بعد سوا گھنٹے کی ہو رہی ہے کہ بجلی بند تو ایک گھنٹے کے لئے کی جاتی ہے،لیکن بحالی سوا گھنٹہ کے بعد ہوتی ہے یوں لوڈشیڈنگ بھی استحصال کا ذریعہ بن گئی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حلف کے بعد کہا تھا نومبر تک لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی،شاید ان کے اس بیان پر بجلی بنانے اور تقسیم کرنے والوں نے غصہ نکالا کہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے، صرف اسی پر اکتفا نہیں، علامہ اقبال ٹاؤن گرڈ والے پچھلے دو تین دن سے کئی کئی گھنٹے بجلی بند رکھتے ہیں۔یہ گزشتہ روز(منگل) کا ذکر ہے کہ برقی رو سوا پانچ بجے منقطع ہوئی،معمول کی لوڈشیڈنگ جانا گیا،لیکن یہ وقفہ طویل ہو گیا اور لوڈشیڈنگ پونے دو گھنٹے پر محیط ہو گئی، پھر رات سوا بارہ تشریف لے گئی اور صبح سوا تین بجے بحال ہوئی اور ایسا سلسلہ اب تک جاری ہے،جہاں تک ہمارا اور ہمارے محلے والوں کا تعلق ہے تو ہم بے حسی کا شکار ہو رہے ہیں کہ ہمارے علاقے(عباس بلاک) کا ٹرانسفارمر ہی کام نہیں کرتا اور دو تین روز میں خراب ہو جاتا ہے، پھر اس کی تبدیلی کے مراحل طے کرنے میں وقت لگتا ہے جو چھ سے آٹھ گھنٹے طویل ہوتا ہے۔گزشتہ روز بھی ایسا ہوا ہے۔

سب ڈویژن والوں سے گزارش کی تو بتایا گیا لوڈ زیادہ ہے،درخواست دیں کہ اضافی لوڈ تقسیم کرنے کے لئے ایک اور ٹرانسفارمر لگایا جائے اس پر جواب ملا محلے دار لکھ کر درخواست دیں،حالانکہ یہ خود سب ڈویژن کا مسئلہ ہے کہ وہ بار بار ٹرانسفارمر تبدیل کرتے ہیں، کیوں نہیں مستقل علاج کرتے؟ ایس ڈی او کا کہنا تھا درخواست پر کارروائی ہو گی، محلے دار درخواست دیں۔ تو قارئین یہ احوال ہیں اور ایسے میں بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

مزید : کالم