مرشد فاؤنڈیشن

مرشد فاؤنڈیشن
 مرشد فاؤنڈیشن

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تصوف نام ہے علم الذات والکونیات کا، اپنی ذات کا علم انسان کو تزکیہِ نفس و تصفیہِ قلب کی راہ پر لگا دیتا ہے ،جبکہ کونیات یعنی کاسمالوجی کا علم انسان کو کائنات سے ہم آہنگ کر دیتا ہے تصوف کو ہم اگر دو اساسی گروہوں میں تقسیم کریں تو ایک حلقہ وہ ہمارے سامنے آتا ہے جو میتھالوجیکل پیراڈائم میں جکڑا ہوا ہے دوسرا گرو علم اور محبت کے دائرے میں تیر رہا ہے پہلے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جو اپنے زمانے میں خالص روایتی رنگ میں رنگے ہوئے تھے جو نہ صرف خود پختہ عقائد کے حامل تھے، بلکہ ساری عمر اْنہوں نے عوام میں عقائد کی ترویج کے لئے جدوجہد کی یہ لوگ یقیناًباکمال ہوں گے، لیکن ان لوگوں نے عوام میں علم و تحقیق کی تمام راہیں قریباً مسدود کر دِیں، جبکہ اس کے برعکس وہ صوفیاء جو علم و تحقیق اور خالص معرفت کی راہیں وا کرتے رہے آج بھی حق کے متلاشیوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں، چنانچہ ابن العربی اور سیدی رومی کو کسی بھی زمانے میں نہیں بھلایا جا سکتا یہ وہ جلیل القدر نفوس تھے جنہوں نے اپنے زمانے میں خود کو ایک عام انسان کے مقام پر رکھ کر علم و تحقیق کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور تقدیس و تفاخر سے خود کو دور رکھا ۔

اس میں کسی بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہم سب انسان فطری طور پر ایک ہی روشنی اور توانائی لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری ارواح بلاتفریق نسل و مذہب اور رنگ و جغرافیہ ایک ہی جوہر لے کر واقع ہوتی ہیں اس وقوع میں تخصیص و تقدیس لایعنی ہے ہاں حفظِ مراتب ایک بہترین اخلاقی ضابطہ ہے اس کائنات میں پیدا ہونے والے ہر انسان کی روح میں نور یعنی پوٹینشل موجود ہوتی ہے ہاں جو لوگ اسے دریافت کر لیتے ہیں وہ صوفی کہلاتے ہیں، چنانچہ تصوف کو کسی کے ذاتی مشاہدات و تجربات میں قید نہیں کیا جا سکتا تصوف ایک عالمگیر سچائی ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے یہ ایک پوشیدہ حقیقت ہے کہ ہر انسان فی نفسہ صوفی ہے بات صرف اتنی ہے کہ اس روشنی کو دریافت کیا جائے مرشد فاؤنڈیشن اسی روشنی کو دریافت کرنے کا نام ہے مرشد فاؤنڈیشن کا قیام میری دیرینہ علمی تمنا تھی جو آج ایک طویل عرصے کی مسلسل جدوجہد کے بعد رْو بہ عمل ہوئی مادیت انسان کا بنیادی محور ہے، چنانچہ اس سے مفر ممکن نہیں۔

فقر و فاقہ کے قائل بزرگ اس انتہائی اہم بنیادی ضرورت سے مفر کیوں حاصل کر لیتے ہیں تو یہ محض ان کی انفرادی چوائس ہے تصوف ایسا کوئی حکم لاگو نہیں کرتا میری یہ انتہائی کوشش رہی ہے کہ تصوف کو قدیم میتھالوجیکل پیراڈائم اور عقیدت کی بوسیدگی سے نکال کر ایک بہتے جھرنے کی مانند رواں دواں کر دیا جائے جہاں نہ کوئی فکری جکڑن ہو نہ ہی تقدیس کی دبیز چادر کیونکہ ہر انسان قابلِ تکریم و اعتزاز ہے اپنے لئے کسی کو رہنما متعین کرنے میں کوئی قباحت نہیں ،مگر اس کا لحاظ ہمیشہ رہے کہ یہ تعلق شخصیت پرستی کی شکل نہ اختیار کر لے میں نے علم و معرفت کے پوشیدہ خزانے گرو رجنیش المعروف اوشو سے حاصل کئے، جبکہ محبت کی ورشا مجھے سیدی جلال الدین رومی کی شخصیت سے نصیب ہوئی گویا آپ برس پڑے مجھ پر بھادوں کی بارش کی مانند، مگر میں نے کبھی ان دو شخصیات کو بت نہیں بنایا نہ ہی اس امر کی کبھی ترویج کی اوشو اکثر فرمایا کرتے کہ ’’آپ سب کا گرو (Existence) موجودیت ہونی چاہئے، اس کے سوا کوئی گرو نہیں‘‘ روحانی ارتقا کیوں ضروری ہے؟

اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ روحانی ایلیویش یعنی رفعت سے انسان مْکتی (مغفرت) تک پہنچ جاتا ہے دنیا کا ہر مذہب بالخصوص اسلام ہمیں مغفرت کی تلقین کرتا ہے اور خدا اْن لوگوں کو بہت پسند کرتا ہے جو مسلسل استغفار کرتے ہیں معروف روحانی اُستاد سدھارتھ گوتم بدھ مغفرت کو نروان سے تعبیر کرتا ہے اور یہ روحانی ارتقا کے بغیر ممکن نہیں یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ روحانی ارتقا کی راہ میں سب سے بنیادی رکاوٹ عقیدہ اور شخصیت فہے عقیدہ اور شخصیت دراصل ایک ہی ذہنی کیفیت کی دو مختلف اشکال ہیں آپ علم اور عقیدہ میں سے بیک وقت ایک ہی کیفیت کے تابع ہو سکتے ہیں اگر آپ نے حق کی راہ اختیار کرنی ہے تو آپ کو علم کی پیروی کرنی ہو گی لیکن اگر آپ سہولت اور تن آسانی کے قائل ہیں تو یقیناً عقیدہ ہی آپ کا مداوا کر سکتا ہے علم عقائد پر حاوی ہے، مگر عقائد کبھی علم پر حاوی نہیں ہو سکتے، مرشد فاؤنڈیشن علم، محبت اور مراقبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا پہلا روحانی ادارہ ہے، جس کا قیام فکری جمود کے حامل معاشرے میں ایک جاری و ساری چشمہِ تسکین و پیہم آگہی ہے ہمیں اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ یہاں روحانیت ہمیشہ سے جنات اور موکلات کے ذریعے شْو پھْو کروانے کا نام ہے، چنانچہ اپنے آپ کو کھوجنے کی مشق کبھی ہمارے ہاں رائج ہی نہیں ہوئی۔ اس لئے ہم جانتے ہیں کہ ہماری راہ میں رکاوٹیں ضرور آئیں گی، مگر ہم نے اپنے مقصد سے کب پیچھے ہٹنا ہے ہمارے نزدیک جستجو سے بڑا کوئی معجزہ نہیں اور محبت سے بڑی کوئی کرامت نہیں ارض و سما ہماری مٹھی میں نہیں، بلکہ ہمارے شانہ بشانہ ہیں ہم کائنات سے ہم آہنگ ہونے کی ہر ممکن تگ و دو میں ہمہ تن منہمک ہیں ۔

مرشد فاؤنڈیشن وہ پلیٹ فارم ہے، جہاں پر ہم اس جلے ہوئے سیارے کے ہر باسی کو اپنے آپ سے متعارف کرانے کی جدوجہد کریں گے خود کو ڈھونڈنے اور خدا سے لامحدود ربط قائم رکھنے میں اگر آپ دلچسپی لے رہے ہیں تو آئیے ہمارے ہمسفر بن جائیے۔ ہم آپ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں مرشد فاؤنڈیشن کی آفیشل ویب وزٹ کرنے کے لئے ٹائپ کیجئے۔

www.murshidfoundation.org

مزید : کالم