مولانا عبدالرحیم اشرف: حیات و خدمات

مولانا عبدالرحیم اشرف: حیات و خدمات
 مولانا عبدالرحیم اشرف: حیات و خدمات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’دیر آید درست آید‘‘۔۔۔ یہ مقولہ ہم نے شاید اپنے زمانہ سکول میں سنا تھا۔ کچھ زیادہ سمجھ تو اس وقت نہ آئی، تاہم اب مفہوم سمجھ میں آ گیا۔ پتہ چلا کہ بعض باتوں کی سمجھ بڑھاپے ہی میں آتی ہے، بعض باتوں کی نہیں، بلکہ سب باتوں کی سمجھ بڑھاپے ہی میں آتی ہے۔ شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نبوت کی تفویض کے لئے چالیس برس کی عمر کو پسند فرمایا۔مولانا عبدالرحیم اشرف کا انتقال آج سے 21برس قبل جون 1996ئمیں ہوا تھا۔ شہر کے دینی حلقے سوگوار ہو گئے۔سوگواری فطری تھی۔ اسی عالم سوگواری میں ان کے بیٹے زاہد اشرف نے اپنے والد محترم کی ذات کے حوالے سے ’’المنبر‘‘ کا خاص شمارہ شائع کرنے کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان حوصلہ بخش تھا۔ ’’المنبر‘‘ ہفت روزہ رسالہ ہے جس کا اجراء مولانا مرحوم نے اپنی حیات مستعار ہی میں کیا تھا جو پابندی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔مولانا پہلے ’’المنبر‘‘ نکالتے رہے اور چھاپتے رہے۔ ان کا یہ رسالہ بہت عام ہوا۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ پہلے ’’المنبر‘‘ المنبر نہیں تھا، بلکہ ’’المنیر‘‘ تھا۔ جب مولانا نے اس کی ادارت سنبھالی تو ’’المنیر‘‘ کی بجائے ’’المنبر‘‘ ہو گیا۔مولانا کی حیات میں اس کی ادارت مولانا کے پاس رہی، انتقال کے بعد، بلکہ زمانہ حیات کے آخری ایام میں ’’المنبر‘‘ کی اشاعت، طباعت، ترسیل کے کام ان کے بیٹے زاہد اشرف نے سنبھال لئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’المنبر‘‘ مولانا کی یادگار ہے۔ میں ان کے نام سے موسوم ’’المنبر‘‘ کا ایک انتہائی وقیع نمبر شائع کروں گا۔ مولانا مرحوم کے حلقے کے لوگ اس اعلان پر مسرور ہوئے۔

تعلق والوں نے قلم کو جنبش دی، اچھے مضامین جمع ہو گئے، لیکن ’’المنبر‘‘ کاخاص نمبر شائع نہ ہوا۔ یہ مژدہ اتنا طویل اور تاخیر کا شکار ہوا کہ لفظ تاخیر بھی اپنے معانی کھو بیٹھااور بہت سے لکھاری خود بھی خلدآشیاں ہو گئے۔ تقریباً ربع صدی گزرنے کو آئی، لوگ مایوسی کی حدود کو چھونے لگے ،بلکہ مایوسی لوگوں کو چھونے لگی۔

جب مایوسی کا لفظ خود اپنے معانی کھونے کے قریب ہوا کہ ڈاکٹر زاہد اشرف نے نوید سنائی کہ مولانا عبدالرحیم نمبر رمضان المبارک کے دوران عید سے قبل شائع ہونے والا ہے۔ آدمی تھڑدلا ہوتا ہے۔ زاہد اشرف کے حلقہ اثر کے لوگوں نے زاہد اشرف کی اس بات کو بھی کہہ مکرنی ہی خیال کیا ،لیکن ابھی 26 رمضان تھا، دروازے پر دستک ہوئی، ڈاکیہ نے ایک پیکٹ تھما دیا۔ کھولا لکھا تھا ’’مولانا عبدالرحیم اشرفؒ ، حیات و خدمات(۱)‘‘ آنکھیں تو یقین کر گئیں، کیونکہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ، لیکن دل کے یقین کے لیے تصدیق بالقلب شرط ہے۔۔۔’’دیر آید درست آید‘‘۔۔۔ کا ایک روشن پہلو سامنے آیا۔ ان کے بیٹے نے ’’المنبر‘‘ کے سابقہ جرائد پر جمی گرد جھاڑی اور مولانا کے حوالے سے نمبر کی تیاری میں مصروف ہوئے۔ جب انہوں نے مولانا کی تحریروں کے گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کیا تو بہت سے مزید تابدار گیسو ہاتھ لگے۔جن کو انہوں نے نعمت غیر مترقبہ جانا اور مولانا کی تحریروں پر مشتمل تین مزید علم پارے زیور طبع سے آراستہ ہو گئے جن کی الواح اس طرح ہیں:

۱۔ رمضان تعمیر سیرت کا موسم بہار

۲۔ یا عبادی

۳۔ لبیک و سعدیک

یہ تینوں کتابیں مولانا عبدالرحیم اشرف نمبر کے حوالے سےFringe benifit کے طور پر محبین عبدالرحیم اشرف کے ذوق مطالعہ کا سامان بن چکی ہیں۔مولانا عبدالرحیم اشرف کی حیات و خدمت کے حوالے سے یہ پہلی جلد ہے جو زیور طباعت سے آشنا ہوئی۔ صفحات کی تعداد 450کے لگ بھگ ہے۔ کتاب ماضی کی تحریروں اور تصویروں سے آراستہ ہے۔ تحریریں اور تصویریں دونوں معلوماتی ہیں اور ماضی کے بہت سے دریچوں کو وا کرتی ہیں۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ تصویری معلومات تحریری معلومات سے زیادہ مؤثر، زیادہ دیر پا نقش چھوڑتی ہیں۔علمائے کرام کو دور حاضر کے تناظر میں تصویری اہمیت پر اجتہاد کے ذریعے جواز و عدم جواز پر غوروفکر ضروری ہے۔ ویسے اب بہت سے علماء رویداً رویداً نظری طور پر نہ سہی، عملی طور پر تصویر کشی کے قائل ہور ہے ہیں۔۔۔ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘۔۔۔!

مولانا عبدالرحیم پر لکھی یہ کتاب چار حصوں پر منقسم ہے۔۔۔پہلے حصے میں بعض مقتدر سیاسی شخصیات کے پیغامات ہیں جن میں راجہ ظفر الحق سابق قائد ایوان بالا، میاں طفیل محمدؒ سابق امیر جماعت اسلامی، محمداعجاز الحق سابق وفاقی وزیر حکومت پاکستان، اقبال احمد خان سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے پیغامات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں علمائے کرام کی نگارشات ہیں جن میں سولہ علماء کے قلمی رشحات موجود ہیں۔ تیسرا حصہ اصحاب علم اور اہل قلم کی علمی تحریروں سے مزین ہے۔ یہ تحریریں خاصی قابل قدر ہیں، جن سے مولانا مرحوم کی زندگی کے بعض مستور و مکشوف پہلوؤں کا پتہ چلتا ہے جو مرحوم کی عظمت و رفعت پر دال ہیں۔ چوتھاحصہ منظوم ہے جس میں بارہ شعراء کے عقیدت کے پھول پیش کئے گئے ہیں۔یہ علمی تبرکات ڈاکٹر زاہد اشرف اور ان کے برادران کی طرف سے مولانا مرحوم کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں، جس سے اہل علم اور قارئین حضرات ہمیشہ روشنی حاصل کرتے رہیں گے۔اسی Fringe benifitکے ذیل میں ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ مولانا عبدالرحیم اشرفؒ کی حیات بے مثال کے حوالے سے تین مزید جلدیں جلد از جلد شائع کی جائیں گی جو قارئین کے لئے باعث تسکین ، راحت جاں و راحت قلب و نظر ثابت ہوں گی۔ امید ہے یہ نوید کہہ مکرنی یا بُعد زمانی کا شکار ثابت نہیں ہو گی۔ ان شاء اللہ

مولانا عبدالرحیم اشرف فیصل آباد کی شناخت تھے۔ ڈاکٹر زاہد اشرف نے کتاب کے فلیپ پر مولانا مرحوم کے رشحات قلم کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی ذات کے حوالے سے سات مطبوعہ کتب کی تفصیل دی ہے جن میں دو کتب مولانا کے اپنے قلم سے بعینہٖ ان کی قلمی تحریروں کاچناؤ ہیں۔ جسے ان کے باسعادت فرزند ڈاکٹر زاہد اشرف نے بڑے سلیقے اور طریقے سے جمع کر کے شائع کیا ہے۔ یہ مستقل کتاب مرحوم کا صدقہ جاریہ ہے جن سے اہل علم اور اہل دانش ہمیشہ رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے اور اپنی زندگیوں کو اجالتے رہیں گے۔ کچھ کتب زیر ترتیب بھی ہیں، جن میں ارشادات رسولﷺ (جلد اول دوم)یادداشت و قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دئیے جانے سے متعلق حکمرانوں اور دیگر ذمہ داروں کی بھیجی جانے والی تحریریں شامل ہیں۔ ربوہ کی سیر، قادیانی عقائد کی تردید میں لکھے گئے مضامین ، حرمین کی ملاقاتیں اور مضامین اشرف شامل ہیں،امید ہے یہ کتب بھی جلد نہیں، بلکہ جلد از جلد قارئین کی تشنگی دور کرنے کا سبب ہوں گی۔

جیسا کہ اوپر ذکر آیا ’’المنبر‘‘ پہلے ’’المنیر‘‘ تھا جو چنیوٹ سے نکلتا تھا۔ 1905ء میں اس کا اجراء ہوا۔ المنیر کے ایڈیٹر منیر احمد تھے جو چنیوٹ کی انتہائی فعال اور متحرک شخصیت حافظ خدا بخش کے بیٹے تھے۔ حافظ خدا بخش کے انتقال کے بعد المنیر کی ادارت ان کے بیٹے منیر احمد نے سنبھالی۔ منیر احمد گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے پروفیسر خالد شبیر احمد کے چچا تھے۔ منیر احمد سے ہفت روزہ المنیر مولانا عبدالرحیم اشرف نے حاصل کر لیا۔ کسی وجہ سے سابق ایڈیٹر منیر احمد نے یہ ڈیکلریشن مولانا سے واپس لے لیا تو مولانا نے المنبر کے نام سے اپنا رسالہ جاری فرمایا۔ اس پر منیر احمد نے کہا کہ مولانا نے المنیر کے ڈیکلریشن میں سے صرف ایک نقطہ ہی مجھے واپس کیا ہے۔۔۔ یہ بات اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ایک نقطے کے فرق سے معنویت میں کتنی تبدیلیاں ہو جاتی ہیں۔ یہ شعر زبان زد عام ہے:

ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے

ایک ہی نقطے نے محرم سے مجرم کر دیا

کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد اب یہ الزام کاتب کو نہیں دیا جا سکتا، بلکہ کمپیوٹر یا کمپوزر کو دیا جانے لگا ہے ،لیکن شایدیہ بات درست نہیں،کیونکہ کمپیوٹر خود نہیں چلتا اسے بھی کوئی اور ہی چلاتا ہے، وہی اصلاً کاتب ہے۔مولانا عبدالرحیم اشرفؒ پر لکھی گئی پیش نظر کتاب کا ظاہری گٹ اپ بہت عمدہ ہے۔ گٹ اپ کے اظہار کے لئے ہمیں اُردو میں کوئی لفظ نہیں مل سکا۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ اس کے لئے ظاہری تجمیل مناسب ہے جو ہمیں کچھ زیادہ مناسب معلوم نہ ہوا۔اس لئے ہم نے گٹ اپ کی ترکیب ہی استعمال کی ہے۔ بہرحال کاغذ کی خوبصورتی، طباعت کی عمدگی، رنگوں کی آمیزش کا حسن، کتاب کے مرتب و مدوّن جناب زاہد اشرف کی حسن پسندی کا آئینہ دار ہے ،خدا لگتی کہوں کہ کتاب کا ظاہری حسن خوب ہے، لیکن کتاب کا باطنی حسن مولانا عبدالرحیم اشرف کے باطنی حسن کی طرح ظاہری حسن سے خوب تر۔

مزید : کالم