پاکستان کی روحانی اساس

پاکستان کی روحانی اساس
 پاکستان کی روحانی اساس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں پانامہ کا ہنگامہ جاری ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ عائشہ گلالئی نے عمران خان پر الزامات لگا دیئے ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ میڈیا نے قیاس آرائیوں کا ایک ایسا میلہ لگا رکھا ہے کہ جس میں ہر شخص بے یقینی کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے متعلق خطرات کا اظہار کیا جارہاہے۔ میڈیا کی طاقت کی وجہ سے خطرات ایک نئے انداز سے قومی افق پر جلوہ گر ہو رہے ہیں۔ عام آدمی پریشان ہے کہ کیا ہو گا؟ آنے والا وقت اس کے لئے اور وطن عزیز کے لئے کیا لے کر آ رہا ہے۔ ان حالات میں اکثر تاریخ سے جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مورخین بھی اکثر وکیل کی طرح ہوتے ہیں۔ وکیل کے پاس ملزم کے لئے بھی دلائل ہوتے ہیں اور مدعی کے لئے بھی۔ تاریخ سے مایوسی بھی تلاش کی جا سکتی ہے اور یقین بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ برصغیر پر مسلمانوں نے تقریباً ہزار سال تک حکمرانی کی۔

اورنگ زیب کی وفات کے بعد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو متعدد ایسی شخصیات سے ملاقات ہوتی ہے جنہوں نے تاریخ کا دھارا تبدیل کیا۔ تاریخ کے ہر اہم دور میں کوئی نہ کوئی شخصیت مسلمانوں کی رہنمائی کرتی رہی۔ انہیں اندھیروں سے نکال کر منزل کی روشنی دکھاتی رہی۔مغل حکومت کے زوال کے بعد مسلمان فکری طور پر بھی انتشار کا شکار تھے۔ اس دور میں شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ان سے یہ کام کس طرح لیا گیا، اس کے متعلق وہ رقمطراز ہیں:

’’ایک دن میں نماز عصر کے بعد متوجہ الی اللہ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک نبی کریمﷺ کی روح مبارک ظاہر ہوئی اور سر سے مجھے ڈھانپ لیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی کپڑا مجھ پر ڈال دیا گیا ہے اور اس حالت میں میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ دین کی ایک خاص نوعیت کے بیان کی طرف اشارہ ہے اور اس وقت میں نے اپنے سینہ میں ایک نور محسوس کیا جو ہر لمحہ بڑھتا اور پھیلتا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد میرے رب نے مجھے الہام فرمایا کہ قلم اعلیٰ (قلم تقدیر) نے جو امور میرے لئے لکھے ہیں اس میں سے یہ بھی ہے کہ میں کسی دن اس امر کے لئے کھڑا ہو جاؤں جسے پھیلتے ہوئے نور کی شکل میں میں نے دیکھا تھا۔ یعنی دین کا ایک خاص بیان و تشریح بالیقین زمین چمک اٹھی اپنے رب کے نور سے اور اس کی شعاعیں منعکس ہوئیں، غروب کے وقت، روشنی نے اپنا عکس زمین پر ڈالا ہے (یعنی دل کی ہر سمت پہ نور چھا گیا جو علم حقائق کا خاص نور تھا) اور (وہ یہ کہ) شریعت مصطفویہ اس دور میں حجت و برہان کے مکمل لباس میں نمایاں ہوتی ہے۔ پھر میں نے مکہ مکرمہ میں ایک روز دین کے دو اماموں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو خواب میں دیکھا کہ گویا ان دونوں نے مجھے ایک قلم عطا کیا اور فرمایا کہ یہ ہمارے جدامجد رسول اللہ ﷺ کا قلم ہے۔ تب میں بار بار اپنے دل میں سوچتا رہا کہ اس فن (اسرار و حقائق) میں ایک رسالہ مدون کروں جو مبتدی کے لئے تو بصیرت بنے اور منتہی کے لئے تذکیر ثابت ہو۔‘‘

شاہ ولی اللہ کے یہ الفاظ ان کی عظیم تصنیف حجۃ اللہ البالغہ کے متعلق ہیں۔ ان کی اس کتاب نے برصغیر کے مسلمانوں کی فکر پر غیر معمولی اثرات مرتب کئے۔ اسلامی دنیا میں شاہ ولی اللہ کی اس تصنیف کو امام غزالی کی کتاب ’’احیا العلوم‘‘ جیسی حیثیت دی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی ہر علمی و فکری تحریک شاہ ولی اللہ کے افکار سے متاثر ہوئی۔ انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا اور مسلمانوں کو اللہ کے دین سے روشناس کرانے کے لئے بے پایاں خدمات سرانجام دیں۔ اس دور زوال میں مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے میں شاہ ولی اللہ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا اور یہ ان کی تحریک کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے آنے والے وقت میں انگریزوبں کی سازشوں اور ہندوؤں کی مکاریوں کا مقابلہ کیا۔ اگر شاہ ولی اللہ نہ ہوتے تو برصغیر کے مسلمانوں کی فکر غیر معمولی انتشار کا شکار ہو سکتی تھی۔

ممتاز انگریز دانشور مائیکل ایڈورڈز کا خیال ہے کہ ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خاتمے میں سب سے اہم کردار لارڈ میکالے نے ادا کیا تھا۔ لارڈ میکالے نے ہندوستان کو تعلیمی پالیسی دی تھی اور اس کا خیال تھا کہ وہ یہاں ایسے کالے انگریز پیدا کرے گی جو برطانوی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ مگر لارڈ میکالے کے نظام تعلیم نے وہ ہندوستانی پیدا کئے جنہوں نے انگریزوں کو یہاں سے رخصت ہونے کے لئے مجبور کیا۔ انگریزوں نے برصغیر میں ہونے والی مسلح بغاوتوں کو تو کامیابی سے کچلا مگر تعلیمی اداروں میں جو نسل تیار ہوئی تھی وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ جس طرح تمام ہندو تعلیمی اداروں کو کام کرنے کی اجازت لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی کی بدولت ملی تھی ویسی ہی صورت سرسید کے علی گڑھ کالج کی بھی تھی۔ اگر علی گڑھ یونیورسٹی نہ ہوتی تو شاید پاکستان بھی نہ ہوتا اور علی گڑھ یونیورسٹی ایک ایسے شخص نے قائم کی تھی جس کے خلاف مسلمان علماء نے درجنوں فتوے جاری کئے تھے۔ بلکہ بعض علماء تو ان کے خلاف سرزمین حجاز سے بھی فتوے لے آئے تھے۔یہ فتوے سرسید کو مسلمان ماننے سے انکار کرتے تھے اور اس کے تعلیمی ادارے کے لئے چندے کو حرام قرار دیتے تھے۔ ان کی زوردار مخالفت کرنے والوں میں جمال الدین افغانی بھی شامل تھے۔ سرسید احمد خان دردمندی سے مسلمان علماء اور پیروں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو تقدیر پر یقین کر نے کا درس دیتے ہیں۔ انہیں بتاتے ہیں کہ یہ دنیا بے معنی ہے اور مسلمانوں کے لئے صرف آخرت اہم ہے۔ مگر خود یہ علما چندہ لیتے ہیں اور پیر اپنے مریدوں سے نذرانے بطور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ اس دور میں جب سرسید احمد خان کے خلاف فتوے جاری ہو رہے تھے اس وقت بہت سے لوگ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے دل کھول کر علی گڑھ کی مالی مدد کی اور اس ادارے نے قوم کو وہ سپوت دیئے جنہوں نے تحریک آزادی میں یادگار کردار ادا کیا اور یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک دور میں سرسید احمد خان ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کے لئے پیش پیش تھے مگر پھر ہندوؤں کے ہندی کو سرکاری زبان بنانے کی مہم کے بعد دونوں قوموں کے راستے علیحدہ علیحدہ نظر آ رہے تھے۔ علامہ اقبال نے ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ کا ملی ترانہ لکھا تھا جو آج بھی انڈیا میں ذوق و شوق سے گایا جاتا ہے مگر پھر زمینی حقائق نے انہیں الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کرنے پر مجبور کر دیا۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی کانگریس کے لیڈر تھے۔ انہیں ’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر ‘کہا جاتا تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ کا رکن بننا اس شرط پر قبول کیا تھا کہ اس سے ان کی کانگریس کی رکنیت متاثر نہیں ہو گی۔ مگر ہندوؤں کے ساتھ سیاسی سفر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ دونوں قوموں کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے۔ قائد اعظمؒ جب تحریک پاکستان چلا رہے تھے تو اس وقت بہت سے دوسرے علمائے کرام کے برعکس دیوبند کے ممتاز عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی ان کے زبردست حامی تھے۔ قائد اعظم اور مولانا اشرف علی تھانوی کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی ۔ مگر مولانا تھانوی انہیں سچے اور مخلص راہنما قرار دیتے تھے اور ان کی سچائی اور اخلاص کی بنیاد پر انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ اپنے مقصد کے حصول میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں ایک بڑے اجتماع میں بہت سے ولی، سکالر اورنیک لوگ موجود تھے۔ اس مجلس میں محمد علی جناحؒ بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنے دل میں یہ سوال کیا کہ یہ یہاں کیسے موجود ہیں؟ اس پر مجھے بتایا گیا کہ محمد علی جناحؒ کو اسلام کی ایک عظیم خدمت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

پاکستان لیلتہ القدر کو معرض وجود میں آیا۔ اس کی وجہ وہ ہندو پنڈت تھے جو 14 اگست کو بھارت کے لئے نحس قرار دیتے تھے۔ کانگریس نے تقسیم ہند کا منصوبہ اس لئے قبول کیا تھا کہ ان کے تمام ماہرین معاشیات انہیں بتا رہے تھے کہ یہ ناقابل عمل ہے اور ایک سال بعد ہی جناح ان سے درخواست کریں گے کہ اسے دوبارہ ہندوستان کا حصہ بنایا جائے۔ پاکستان آج ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ہر عالمی ادارہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کے متعلق بڑی دردناک تصویر پیش کرتا ہے اور آج بھی پاکستان کے ناگزیر ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ پاکستان کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے بے پناہ جدوجہد کی مگر اس سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کہ اس ملک کی ایک روحانی اساس بھی ہے اور تمام تر غلطیوں اور عالمی سازشوں کے باوجود اس کا قائم رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ ایک مختلف قسم کا ملک ہے۔ برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑا کر یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ یہ ملک قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔کالم ختم کرتے ہوئے ہمیں اپنے استاد محترم جناب مرزا منور صاحب کا یہ قول یاد آ رہا ہے کہ پاکستان کا مال یتیم کے مال کی طرح ہے جس کو لوٹنا آسان ہے مگر اسے ہضم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اشفاق صاحب بھی پاکستان کو حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سے تشبیہہ دیتے تھے۔ جس کی عزت کرنا فرض ہے اور اسے نقصان پہنچانے پر کڑی سزا کا امکان ہے۔

مزید : کالم