یونیسف کے تعاون سے ڈیجٹیل برتھ سرٹیفکیٹ پائلٹ پراجیکٹ

یونیسف کے تعاون سے ڈیجٹیل برتھ سرٹیفکیٹ پائلٹ پراجیکٹ

وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کے ترقی یافتہ پنجاب کے و یژن کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ نے دنیا بھر کے مالیاتی اداروں جن مین یونیسیف قابل ذکر ہے کے تعاون سے صوبہ بھر میں ہر پیدا ہونے والے بچے کی پیدائش کے اندراج کے لئے جدید طریقہ رائج کر نے کے سلسلے میں ماسٹر پائیلٹ پرا جیکٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ جس کے بنا پر اب صوبہ میں پیدا ہونے والے بچے کا با قاعدہ کمپیو ٹرائج اندراج ہو سکے گا۔اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے صوبہ کے ہر نو مولود بچہ کو بنیادی سہو لیات کی فراہمی کے سلسلہ میں پیدائش کے اندراج کو خاص الخاص اہمیت دیتے ہو ئے ڈ یجیٹل پیدائش سرٹیفیکیٹ کی فراہمی کو آسان کر دیا ہے تاکہ پیدا ہونے والے بچے کے والدین ، رشتہ دار یا کوئی بھی شخص متعلقہ یونین کونسل میں اندراج کروا کر اپنے پاکستانی ہونے کا فرض ادا کر سکتا ہے۔اسی سلسلہ میں محکمہ بلدیات اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب اور یونیسیف پاکستان کے زیر اہتمام ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن سیل کا افتتاح کمیٹی روم لوکل گورنمنٹ کمپلیکس کے کمیٹی روم میں ہوا۔اس موقع پر یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ مس انجیلا کیرنے، سپیشل سیکر ٹری لوکل گورنمنٹ شاہد نا صر راجہ ا ور ڈی جی لوکل گورنمنٹ محبوب جاوید بھٹی نے مشتر کہ طور پر برتھ رجسٹریشن سیل کا افتتاح کیا۔ سپیشل سیکر ٹری لوکل گورنمنٹ شاہد نا صر راجہ ا ور ڈی جی لوکل گورنمنٹ محبوب جاوید بھٹی نے اس پراجیکٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت پنجاب اور یونیسیف کے باہمی اشتراک سے ضلع بہاول پور اور پاکپتن میں ڈیجیٹل رجسٹریشن پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت سیکرٹری یونین کونسل 60روز کے اندر اندر برتھ سرٹیفکیٹ رجسٹریشن کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن بلامعاوضہ کی جائے گی ۔ نکاح خواں کے علاوہ کوئی بھی شہری بچے کی پیدائش کی رجسٹریشن کی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ پائلٹ پراجیکٹ پر عملدرآمد کے دوران درپیش مسائل کے سد باب کے لئے صوبائی سطح پر پراونشل سٹیئرنگ کمیٹی ، ضلع کی سطح پر ضلعی سٹیئرنگ کمیٹی جبکہ تحصیل کی سطح پر تحصیل ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جا رہے ہیں۔ضلع میں ڈپٹی کمشنر ضلعی سٹیئرنگ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ تحصیل ورکنگ گروپ کے سربراہ متعلقہ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر ہوں گے۔ صوبہ پنجاب میں برتھ رجسٹریشن کا تناسب ملک بھر میں سب سے زیادہ 77فیصد ہے۔ برتھ رجسٹریشن کے حوالہ سے مہیا کی گئی تمام معلومات ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ کے مرکزی دفتر لاہور کے سرور میں محفوظ کی جائے گی جسے بعد ازاں حکومتی اداروں کی مستقبل کے لئے کئے جانے والی منصوبہ سازی کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔ ہمارا مذہب اسلام نومولود کو معاشرہ میں ایک مخصوص حیثیت دیتے ہوئے اس کو مکمل شناخت فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے جس میں اس کے نام کی قانونی اور معاشرتی طور پر رجسٹریشن اہم حیثیت کی حامل ہے۔ برتھ رجسٹریشن کے حوالہ سے لیڈی ہیلتھ ورکر اور نمبردار ضروری اکائی ہیں جو بچوں کی پیدائش کے ساتھ ساتھ حفاظتی ٹیکوں ودیگر اہم معلومات کا اہم ذریعہ ہیں۔ یونین کونسلز کے سیکرٹریز کو ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن کے حوالہ سے خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن سیل کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس کا دائرہ کار صوبہ کے ہر ضلع میں کر دیا جائے گا۔بلدیاتی نمائندگان کو جدید انداز میں تربیت دے کر انہیں حکومتی مشینری کا اہم حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر بلدیات کی خصوصی دلچسپی کی بنا پر ان بلدیاتی نمائندگان کو صوبہ کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ٹریننگ کا عمل سر کیا گیا۔اس تربیتی عمل کے بعد ابیہ نمائندگان حکومتی مشینری کا اہم حصہ ثابت ہورہے ہیں۔ حکومت کے مر تب کردہ ماڈل بائی لاز پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں اور ان ماڈل بائی لاز بارے عوام کو بھی باقاعدگی سے مطلع کررہے ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں اور شہریوں کو واسا، سوئی گیس، ایل ڈبلیو ایم سی سمیت دیگرسر کاری محکموں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے عمل کو حتمی شکل دے دی گئی تا کہ سٹی ایپلی کیشن سوفٹ وئیر کے ذریعے بلدیاتی نمائندے اور شہری گلی محلے میں در پیش مسائل کی شکایات آن لائن درج کرا سکیں تاکہ شکایرت کنندہ کا فوری مسئلہ حل ہو سکے ۔ بہاولپور اور پاکپتن سمیت صوبہ بھر کی551 یونین کونسلوں میں کمپیو ٹرائزڈ پیدائش و اموات سر ٹیفکیٹ اور نکاح ناموں کا اجراء بھی جلد کیا جا رہا ہے ۔ صوبہ کے 502 بلدیاتی نمائندگان میں سے 488 کی ٹریننگ مکمل کی۔ نو منتخب بلدیاتی نمائندگان کی ہر قسم کے جملہ امور سے وابستہ کاموں بارے مدد کے لئے ہیلپ لائن کا اجراء بھی کی جارہی ہے تاکہ انہیں بروقت مستند مشورہ میسر آ سکے ۔ اب بلدیاتی نمائندگان ٹریننگ مکمل کرکے یونین کونسل کے بجٹ کی تیاری، منظوری اور جاری اخراجات جن میں ترقیاتی و دیگر امور شامل ہیں اس ٹریننگ سے وائس چیئرمین مندرجہ بالا امور یونین کونسل کی منظوری کیلئے پیش کرسکیں گے ااور اخراجات کا مکمل ریکارڈ بھی مرتب کر سکیں گے۔ انہیں مہیا کردہ فنڈز بارے آڈٹ بھی کرایا جائے گاجبکہ یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کا کلیدی کردار مثالی بنایا جا رہا ہے ۔ تمام یونین کونسلوں کو ترقیاتی فنڈز مہیا کر دئیے گئے ہیں جس سے ترقیاتی کاموں کو عروج کو فوری عر وج حاصل ہو گا۔بلدیاتی نمائندوں کو شہر ی و دیہی ترقی کا ٹاسک بھی سونپا ہے۔ اب بلدیاتی نمائندوں کوکسی بھی مداخلت کے بغیر مقامی ضرورت کی بنیاد پر شفاف انداز میں فنڈز خرچ کررہے ہیں۔ بلدیاتی نمائندے اپنے حلقہ میں تجاوزات ، غذائی ملاوٹ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی اور خطرناک اشیاء کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھنے کے پابند ہیں جس پر وہ تمام حکومت ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔حکومت بلد یاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور لوگوں تک اس کے فوائد پہنچانے کے لئے تیز تر اقدامات عمل میں لائے ہوئے ہے ۔ بلدیاتی نمائندگان اب ٹریننگ مکمل کرکے یونین کونسل کے بجٹ کی تیاری، منظوری اور جاری اخراجات جن میں ترقیاتی و دیگر امور شامل ہیں وائس چیئرمین مندرجہ بالا امور یونین کونسل کی منظوری کیلئے پیش کرکر رہے ہیں۔ جبکہ یونین کونسل میں وائس چیئرمینوں کا کلیدی کردار ہو گا۔ تمام یونین کونسلوں کو 13بلین روپے کے ترقیاتی فنڈز دئیے گئے اور انہیں شہر ی و دیہی ترقی کا ٹاسک بھی سونپا ہے۔جب عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوگا تو یقیناًاسکے اثرات ملکی سطح پر بھی مرتب ہونگے۔ بلدیاتی نمائندے اپنے حلقہ میں تجاوزات ، غذائی ملاوٹ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی اور خطرناک اشیاء کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھنے کے پابند ہونگے۔حکومت بلد یاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور لوگوں تک اس کے فوائد پہنچانے کے لئے تیز تر اقدامات عمل میں لائے ہوئے ہے اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے صوبہ بھر کی مقامی حکومتوں کے مالیاتی نظام پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب لوکل ایکٹ کے تحت صوبے کے تمام ڈویژن کے فوکل و ریسورس پرسنز مقرر کر دئیے ہیں۔ صوبے کی ترقی کے لیے بلدیاتی نمائندگان ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اجتماعی خدمت کے جذبے سے سر شار ہو کر کام کررہے ہیں۔نیپا کا تربیتی کورس اس سلسلے میں ان تمام کے لئے بے حدمعاون ثابت ہوا ہے۔پنجاب ایوارڈ کمیشن کے تحت لوکل گورنمنٹ کی مد میں ملنے والی رقم 17 ارب روپے سے بڑھا کر 43.2 ارب روپے کردی گئی ہے۔ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بہتر انداز میں ڈھالنے اور عوام کو اس کا حقیقی فائدہ بنیادی سطح پرپہنچانے کے لئے 56 بلین روپے کی خطیررقم کے فنڈز جاری کی۔تمام یونین کونسلوں کو 13بلین روپے کے ترقیاتی فنڈز دئیے گئے ہیں۔ جس سے ترقیاتی کاموں کو عروج کو فوری عر وج ہوا۔ بلدیاتی نمائندگان اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ انھیں عوام کی طرف سے حقیقی پذیرائی خدمت سے ملے گی ۔ ملک میں میگا پرا جیکٹس کی حد تک تو قابل ذکر کام ہوا ہے پھر بھی گلی محلہ کی ترقی کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ۔ حکومت نے عوامی امنگوں کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں کو شہر ی و دیہی ترقی کا ٹاسک سونپا گیاہے۔ بلدیاتی نمائندوں کوکسی بھی مداخلت کے بغیر مقامی ضرورت کی بنیاد پر شفاف انداز میں فنڈز خرچ کررہے ہیں اس بات میں کوئی سک نہیں کہ جب عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوگا تو یقیناًاسکے اثرات ملکی سطح پر بھی مرتب ہونگے۔ بلدیاتی نمائندے اپنے حلقہ میں تجاوزات ، غذائی ملاوٹ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی اور خطرناک اشیاء کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھنے کے پابندہیں۔ پنجاب اسمبلی نے قانونی ترامیم کے ذریعے صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں کے ڈپٹی میئرز اور وائس چیئر مینوں کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔ اسی بنا پرکارپوریشن، ضلع کونسل، میونسپل کمیٹی اور یونین کونسل کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی مئیر اور وائس چیئرمین کررہے ہیں۔ حالیہ ترامیم کی روشنی میں وائس چیئرمین یونین کونسلزبھی اپنے ہاؤس میں سپیکرجیسے فرائض سرانجام دے رہے ہیں،جس کی بنا پر اب وہ تمام ہاؤس میں ہونے والی تمام کاروائی و اجلاس کی صدارت بھی کررہے ہیں۔

ہم نے جو مل کے سر بزم کئے ہیں روشن ان چراغوں کو بہر حال جلائے رکھنا

راہ میں بھیڑ بھی پڑتی ہے ابھی سے سن لو ہاتھ سے ہاتھ ملا ہے تو ملائے رکھنا

*****

مزید : ایڈیشن 2