سی پیک اورپاکستانی جامعات کو درپیش چیلنجز ۔

سی پیک اورپاکستانی جامعات کو درپیش چیلنجز ۔

جامعات کو نہ صرف نظریات ، تحقیق و تخلیق کے مراکز سمجھا جاتاہے بلکہ کسی بھی ملک و قوم کی معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے جامعات کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتاہے ۔ پاکستان میں اسوقت سرکاری اورغیر سرکاری منظورشدہ جامعات کی تعداد 183تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک بھر میں ذیلی کیمپسسز کی تعداد 110ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ گیم چینجر کے طور پر جنوبی ایشیا ئی خطے کیلئے اہم ہے۔اس اہم منصوبہ میں پاکستان اور چین نے دورافتادہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں تجارت تعلیم ثقافت سمیت دیگر اہم شعبہ ہائے زندگی میں مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی ہے۔جہاں پراس بڑے اقتصادی منصوبے نے پاکستانی جامعات کیلئے بہت سے نئے مواقع فراہم کئے ہیں وہیں پاکستان کے اعلی تعلیمی شعبہ کیلئے نئے چیلنجز نے بھی جنم لیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی جامعات کو اس منصوبے سے زیادہ سے زیادہ فوائد کے حصول کیلئے مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی تاکہ حقیقی معنوں میں یہ منصوبہ اس خطہ کیلئے امن اور خوشحالی لا سکے ۔ان درپیش چیلنجز سے نمبردآزما ہونے کیلئے پاکستانی جامعات کو تحقیقی منصوبہ جات پر کام کرنا ہوگااور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اس منصوبے کے معاشی ، معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنی ہوگی بلکہ منصوبے کے متعلقہ انسانی وسائل کی ضروریات کے بارے بھی آگاہ کرنا ہوگا ۔پاکستانی جامعات کو اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے تربیت یافتہ انسانی وسائل فراہم کرنا ہونگے جس سے اس خطہ میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کئے جاسکے گے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب پاکستانی جامعات تدریس ، تربیت اور تحقیق کے حوالے سے نئے رجحانات متعارف کروائیں گی اور یونیورسٹی طالبعلموں کو ان مہارتوں سے لیس کریں گی جو اس منصوبے کی مخصوص ضروریات کو پورا کرسکیں۔ جامعات کا حکومت اور انڈسٹری کے ساتھ روابط استوار کرنے میں نہات کلیدی کردار ہے ماہرین کے مطابق جامعات کو اس سلسلے میں اپنا اہم کردار اداکرنا ہوگااور یونیورسٹی کے سطح پر سی پیک کے حوالے سے خصوصی یونٹ قائم کرنے ہونگے جہاں پر نہ صرف حکومت کو رہنمائی فراہم ہوسکے گی بلکہ سی پیک کی عملداری میں معاونت بھی فراہم کی جاسکے گی ۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی جامعات نے متعدد اقدامات اٹھانا شروع کردئے ہیں جن میں کامسیٹس انسی ٹیوٹ آٖ ف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد کی جانب سے پاک چائینہ بزنس فورم کا قیام ،یونیورسٹی آف پشاور اورگو رنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں چائینہ سٹڈی سینٹر زکا قیام ،وفاقی حکومت کی معاونت سے مغربی روٹ پر تین جامعات کے قیام کا اعلان اور سی پیک کے حوالے سے ملک بھر کی جامعات میں سیمینار اور کانفرنسسز کا قیام شامل ہے ۔حکومت پنجاب اور پنجاب ہائیر ایجو کیشن کمیشن کی جانب سے بھی پنجاب کی یونیورسٹیوں کی معاونت سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔500پاکستانیوں کو دوسالہ چائینز لینگو ج سکالرشپ پروگرام کے تحت 600ملین کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔یونیورسٹی آف ایجو کیشن لاہور کے تحت اس پروگرام کے ذریعے 350پاکستانی تاحال سکالرشپس سے مستفید ہوچکے ہیں جبکہ بقیہ 150کو بھی جلد ہی چین بھیجا جا رہا ہے ۔پنجاب ایچ ای سی نے چینی اداروں کے اشتراک سے سکلز اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور چائینی لینگو ئج کلچرسینٹر کے قیام کیلئے مفاہمتی یاداشت پردستخظ کئے ہیں ۔ان اقدامات سے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستانی اعلی تعلیمی شعبہ سی پیک کے ثمرات سے بھر پور فائدہ اٹھا کرملک وقوم کی ترقی میں فعال کردار ادا کرسکے گا ۔معروف بین الاقوامی کیو ایس کی 2016ء میں جاری کردہ درجہ بندی کیمطابق چین کے اعلی تعلیمی نظام کو دنیا بھر کے اچھے اعلی تعلیمی نظام میں 83.5کے اسکورکے ساتھ شمار کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے اعلی تعلیمی شعبہ نے محض 9.2اسکور حاصل کئے ۔ پاکستان کیلئے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ اعلی تعلیمی شعبہ میں چین اور دیگر جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کی تجربات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی جامعات کی بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر درجہ بندی بہتربنانے کیلئے اقدامات اٹھائے چین کی جانب سے اپنی جامعات کو ورلڈکلاس جامعات بنانے کیلئے نئے منصوبہ جات متعارف کرائے گئے ہیں جنہیں بھر پور حکومتی مالیاتی معاونت حاصل ہے۔اس سلسلے میں پراجیکٹ 985کے ذریعے چائینہ کی معروف جامعات کو دنیا کی بہترین جامعات میں شامل کرنے کیلئے بھرپور حکومتی مالی امدادفراہم کی جارہی ہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان اعلی تعلیمی شعبہ میں چینی اعلی تعلیمی اداروں کیساتھ ٹھوس اورمفید روابط قائم کرکے پاکستانی جامعات کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے کیونکہ اعلی تعلیمی شعبہ ہی پاکستان میں ترقی اورخوشحالی کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔

***

مزید : ایڈیشن 2