اردوسائنس بورڈ کے زیراہتمام ’’موسمیاتی تبدیلیاں اورانسانی رویے‘‘

اردوسائنس بورڈ کے زیراہتمام ’’موسمیاتی تبدیلیاں اورانسانی رویے‘‘

اردو سائنس بورڈ ، قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کے زیراہتمام ماہانہ پروگرام کے سلسلے میں ’’موسمیاتی تبدیلیاں اورانسانی رویے‘‘کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا انعقادکیاگیا۔ ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات چوہدری محمد اسلم نے لیکچردیا۔ ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے صدارت کی۔ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے افتتاحی خطاب میں تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا اورکہا کہ بورڈ نے اپنی علمی حیثیت کو اُجاگر کرنے کے لیے ہر ماہ کسی اہم سائنسی ، سماجی اورعلمی وفکری موضوع پر کانفرنسوں، مباحثوں اور لیکچرز کے سلسلے کا آغازکیاہے۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سماجی اورسیاسی مسائل پر توجہ مرکوزہے لیکن ماحولیاتی مسائل کو یکسر نظر اندازکیاجارہاہے۔ جدید دور میں ترقی کے تصور اورانسان مرکزیت کے نظریے نے ماحولیاتی مسائل کو بڑھادیاہے ۔ ماحول کو انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انسان اپنے ہاتھوں اس کو تباہ کررہاہے ۔ انھوں نے شرکا کو بتایا کہ بورڈ نے متعددنئی کتب کی اشاعت کے ساتھ ساتھ بورڈ کی ترقی اورکتب بینی کے فروغ کے لیے بھی کئی اقدامات کیے ہیں ان میں بورڈ کے صدردفتر میں بک ڈسپلے سنٹرکا قیام اورموبائل بک شاپ کا آغازشامل ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات چوہدری محمد اسلم نے محکمہ موسمیات کے تعارف، ڈھانچے ، تاریخ ، کارکردگی ، سرگرمیوں اور موسمیاتی پیش گوئی کے جدید طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی پریزینٹیشن دی۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات ایوی ایشن، ایئرپورٹس، فضائی کمپنیوں ، زراعت اوردیگر شعبوں کو موسم کی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کرتااورموسم اورسیلاب کے بارے میں وارننگ جاری کرتاہے۔ انھوں نے کہا کہ موسم ایک قدرتی عمل ہے۔ محکمہ موسمیات جدید طریقوں کے ذریعے موسم کے بارے میں پیشگوئی کرتا اورعوام کو اس کے بارے میں آگاہ کرتاہے۔ چوہدری محمداسلم نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں قدرتی طور پر ہواکے کم دباؤ کا ایک ایساسلسلہ موجود ہے جس کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی مون سون بارشوں کا نظام تشکیل پاتاہے ۔

چوہدری محمد اسلم نے موسم اورآب وہوا میں فرق واضح کرتے ہوئے بتایا کہ آب وہوا کسی بھی جگہ کے کسی خاص عرصہ تک کے لیے موسم کی مجموعی صورتحال کا نام ہے۔ عام طورپر یہ عرصہ تیس سال کا ہوتاہے۔ انھوں نے بتایا کہ پوری دُنیا کا موسم جنوبی امریکہ کے ممالک پیرو اورچلّی کے قریب بحرالکاہل سے کنٹرول ہوتاہے ۔ ڈائریکٹرمحکمہ موسمیات نے پوری دنیا بالخصوص پاکستان کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلیوں اورانسانی زندگی پر اثرات کے بارے میں تفصیلی گفتگوکی۔ انھوں نے بتایا کہ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، زہریلی گیسیں ، جنگلات کابے دریغ کٹاؤاوردیگر قدرتی اورانسانی عوامل موسمیاتی تبدیلیوں اورگلوبل وارمنگ کا باعث بن رہے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں موسمی شدت میں اضافہ، گلیشیرز پگھلنے سے سطح سمندر کا بلندہونا، ہولناک قدرتی آفات طوفان سیلاب وغیرہ، سموگ اورمہلک امراض، زراعت، خوراک سمیت انسانی زندگی کے تمام شعبے متاثرہورہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اورموسمیاتی تبدیلیوں کا آپس میں گہراتعلق ہے۔ انسانی سرگرمیاں ماحول کو متاثر کررہی ہیں ، اس کے نتیجے میں پیداشدہ موسمیاتی تبدیلیاں انسانی نفسیات اورزندگی کو متاثر کررہی ہیں۔

لیکچر میں ڈاکٹرضیاالحسن، ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر ہارون عثمانی ، ڈاکٹر شاہ زیب خان، ارشد رشید، تسنیم جعفری، سجاد بلوچ، عنبرین صلاح الدین، عمارہ رشید، محمد نصراللہ، شائستہ شریف، مشتاق احمد، مختلف یونیورسٹیوں اورکالجوں کے طلبا، اساتذہ، سرکاری اورغیر سرکاری اداروں کے افسران کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض حافظ جنیدرضا نے انجام دیے۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت بورڈ کے سینئر ریسر چ آفیسر جمیل احمد نے حاصل کی۔ لیکچر کے آخر میں مہمان مقرر نے شرکا کے سوالوں کے تفصیلی جوابات دیے۔

مزید : ایڈیشن 2