اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے حکومتی سرپرستی لازم ہے، صدر نیشنل بینک

اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے حکومتی سرپرستی لازم ہے، صدر نیشنل بینک

اچی ( این این آئی )اسلامی بینکاری اور سرمائے کے بارے میں آگاہی مہم کے سلسلے میں کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کا آغاز اسلامی بینکاری کی صنعت سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی جانب سے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد مہمان خصوصی اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، طارق باجوہ نے کلیدی خطاب کیا۔اس میگا ایونٹ پرحاضرین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، سعید احمد نے عوام کے ذہنوں میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور آگاہی پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اور ممکنہ کسٹمرز ، تعلیمی اداروں اور علماء کے ذہنوں میں موجود سوالات کا وضاحت سے جواب دینے سے انڈسٹری کے مقاصد کو مزید آگے بڑھانے کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔سعید احمد نے اسلامی بینکاری کے مسلسل فروغ اورروایتی بینکاری کی شاخوں کو اسلامی بینکاری کی شاخوں میں تبدیلی کے لیے منظوری میں سہولت فراہم کرنے پر ریگولیٹری اتھارٹی اسٹیٹ بینک کے مثبت اور معاون کردار کا اعتراف بھی کیا ۔انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، طارق باجوہ اس سیکٹر کے لیے ایس بی پی کی معاونت کے حوالے سے پر عزم ہیں۔اسلامی بینکاری سیکٹر کے لیے 2020ء تک 20فیصد ہدف کے حصول کا اسٹریٹجک مقصد برقرار ہے۔

’’علم، رجحان اور عمل (Knowledge, Aptitude & Practice) ‘‘ کے عنوان سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور DFID ، یو کے کی مشترکہ تحقیق کے مطابق 74 فیصد کسٹمرز اسلامی بینکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، 12فیصد کی حالیہ سطح کے باعث اس میں 62فیصد کا فرق ہے۔سعید احمد نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک آف حکومت کی معاونت کے بغیراسلامی بینکاری اپنی پوری گنجائش کے مطابق کام نہیں کر سکتی۔ اسلامی بینکاری حکومت کے ’’نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹرٹیجی کیلئے پوری طرح موزوں ہے جس کا مقصد 2020ء تک 50فیصد فنانشل انکلوژن حاصل کرنا ہے۔سعید احمدنے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی بینکاری کی بڑی خصوصیت حقیقی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے اور اس میں غیرمعمولی خطرہ مول لینے یا قیاسی سرگرمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی بینکوں کی جانب سے پیش کردہ رِبا سے پاک بینکاری کی جانب عوام کو راغب کرنے کے لیے علماء بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔تاہم، انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکوں کو مساجد میں علماء کے ساتھ کھلے عام مکالمہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی غلط فہمی اور تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ سعید احمد کے مطابق اس سے اسلامی بینکاری کی طلب میں ایک سیلاب آ جائے گا۔اپنے خطاب میں سعید احمد نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے لیے بھی اسلامی بینکاری بہت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کی اعتماد اسلامی بینکاری کی پورے پاکستان میں134اسلامی بینکاری شاخیں قائم کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اسلامی بینکاری کی صنعت کے روشن مستقبل کے بارے نہایت پراعتماد ہیں لیکن اس کے لیے اس شعبے سے وابستہ تمام افراد اور اداروں کی جانب سے جوش و جذبے اور تسلسل سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے علاوہ ڈپٹی گورنر جمیل احمد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ثمر حسنین، میزان بینک کے صدر، عرفان صدیقی، البرکۃ بینک کے صدر، شفقت احمد، ڈاکٹر عمران عثمانی اور اسلامی بینکاری کے ماہرین نے بھی ایونٹ میں شرکت کی اور اس سیکٹر کی اہمیت اور اس کے مسائل پر زور دیا۔ انہوں نے اسلامی مالیات کے لیے سعید احمدکی ان خدمات اوراس سیکٹر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عزم کو سراہا جب وہ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر تھے۔

مزید : کامرس