فلسطین کے 900ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کو اجتماعی سزا قرار

فلسطین کے 900ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کو اجتماعی سزا قرار

غزہ (اے این این)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی ہدایت پر غزہ کی پٹی میں محکمہ صحت کے 900ملازمین کی قبل از وقت جبری ریٹائرمنٹ کے اعلان کے خلاف فلسطینی شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہیلتھ یونین کے کوآرڈینیٹر فضل نعیم نے کہا کہ محکمہ صحت فلسطینی اتھارٹی کے انتقامی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ تمام ملازمین نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے نو سو ملازمین کو جبری ریٹائر کرنے کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے۔ ہم فلسطینی صدر کے اقدام کو قوم کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں۔غزہ کی پٹی میں ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے فضل نعیم نے کہا کہ غزہ میں محکمہ صحت کے تمام اداروں اور ملازمین نے محمود عباس کی انتقامی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ عالمی قوانین، بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔فلسطینی ہیلتھ یونین کے عہدیدار نے کہا کہ صدر محمود عباس نے محکمہ صحت کے 900 ملازمین کو نہیں بلکہ ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کی پالیسی اپنائی ہے۔ فلسطینی عوام جبری ریٹائرمنٹ کو شہریوں کے خلاف اجتماعی انتقام قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کو یقینی بنانے اور جبری ریٹائرمنٹ کی تلوار کے خطرے سے بچانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی پر دبا ڈالے۔خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی میں محکمہ صحت اور تعلیم سیوابستہ سیکڑوں سرکاری ملازمین کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کا دعوی ہے کہ غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین اتھارٹی پر مالی بوجھ ہیں اور وہ اس بوجھ کو اتار پھینکنا چاہتی ہے۔

مزید : عالمی منظر