ترک فوج کی قطر میں مشترکہ مشقیں

ترک فوج کی قطر میں مشترکہ مشقیں

نقرہ(آن لائن)قطر میں موجود ترک فوج نے قطر کے خلاف ہمسائیہ ممالک کی جانب سے سفارتی قطع تعلق کے دو ماہ بعد میزبان ملک کے ساتھ مشترکہ مشقیں کی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کا مقصد قطری فوج کو 'اہم معاشی، اسٹریٹجک اور انفراسٹرکچر سہولتوں' کے دفاع کے لیے تیار کرنا ہے۔ترک پارلیمان نے 2014 میں دستخط شدہ ایک معاہدے کے تحت رواں سال 7 جون کو سیکڑوں فوجیوں کو قطر میں موجود ایک ملٹری بیس میں بھیجنے کی اجازت دی تھی جو قطر کی حمایت کے پیش نظر دی گئی تھی جہاں امریکا کا بھی بڑا ائربیس موجود ہے۔انقرہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مشترکہ تربیتی مشقوں اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کے لیے 3 ہزار فوجیوں کو بھیج دیا جائے گا۔خیال رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر پر دہشت گردوں کیساتھ تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے لیکن ترکی اس وقت ان کی حمایت میں کھڑا ہوگیا تھا۔قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہاں پر غذائی قلت ہوگی کیونکہ قطر غذائی اجناس سعودی عرب سے درآمد کرتا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ بھی قطر کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔دوسری جانب قطر نے ان پر عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے خلیج کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ مشروط مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی تھی۔قطر کے وزیرخارجہ نے عرب ممالک کے بائیکاٹ پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ کسی کو ان کی خارجہ پالیسی پر مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید : عالمی منظر