قیام پاکستان کی تحریک شروع ہوتے ہی مسلمان متحد ہوگئے ‘شیخ یامین

قیام پاکستان کی تحریک شروع ہوتے ہی مسلمان متحد ہوگئے ‘شیخ یامین

ملتان (سٹی رپورٹر) قیام پاکستان کے قبل ہندوستان کے ضلع کرنال تحصیل پانی پت ریاست جیند گاؤں بٹنڈا سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے 85سالہ شیخ محمد یامین نے کہاہے کہ جب پاکستان بننے کی تحریک چلی تو تمام کے تمام مسلمان متحد ہوگئے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، وہ زمیندار تھا یا ملازم سب نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہندوستان کے چپے چپے میں بڑے بڑے جلسے ہو ئے جس سے مسلمانوں کے اندر علیحدہ آزاد ملک بنانے کا جذبہ پیدا ہوا انہوں نے کہاہے کہ جب 14اگست 1947کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو (بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

مسلمان خوشی سے جھوم اٹھے اور اللہ تعالی کے حضور سجدہ شکر ہوئے پاکستان بننے کے اعلان کے فوری بعد ہی ہندو بنیا مسلمانوں کے خلاف سازشوں پر اتر آیا انہوں نے سکھوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے قیام پاکستان کے بعد ایک دن گاؤں کے سارے بزرگ جمع تھے اور وہ آپس میں مشورہ کررہے تھے کہ اب ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کی جارہی ہے لہذا ہمیں فوری طور پر ہندوستان چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر لینی چاہیے جب پر گاؤں کے تمام کے تمام بزرگ متفق تھے ابھی بات چیت چل رہی تھی کہ اچانک ہندوؤ کے جتھے نے ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا جس کا ہمارے گاؤں کے نوجوانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے ہندو جتھے وہاں سے جلد فرار ہو گیا اس واقعہ میں ہمارے گاؤں کے کئی افراد زخمی ہو گئے گاؤں نے بزرگوں نے اگلی ہی دن ہندوستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا رات بھر نوجوانوں نے جاگ کر پہرہ دے کر گزار ی جب کہ خواتین نے راستے کے لئے روٹیاں پکائی اور بزرگوں نے ساتھ والے مسلمان آبادی والی گاؤں کے لوگوں سے رابطے کئے تاکہ ایک بڑا قافلہ بنا کر پاکستان کی طرف ر وانہ ہواجا سکے اگر ر استے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا تو زیادہ تعداد میں ہونے کی وجہ سے مقابلہ کر سکیں گے ، اپنے گاؤں سے نکل کر ہم سات دن پیڈل چلے جس میں تین دن تو بالکل بھوکے پیاسے رہے راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں کی تعشیں پڑے ہوئی تھی جسے ہندو بنیوں نے بے دردی سے قتل کیا تھا ہمارے قافلے کے لوگوں نے جب راستے میں آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا تو مسجد میں نماز ادا کرنے گئے جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد نعشوں سے بھر پڑی تھی ایسا لگتا تھا کہ وہاں نماز ادا کی جا رہی ہو گی توہندو ؤ نے حملہ کرکے سب کو شہید کر دیا ،وہاں سے چلنے کے بعد ہمارے قافلے پر حملہ ہو ا جس کی وجہ سے میری ماں شدید زخمی ہو گئی جبکہ میری ماں کی گود میں موجود میری بہن موقع پرہی دم توڑ گئی قافلے والے میری ماں کو مردی سمجھ کر راستے میں چھوڑ آئے پیچھے سے آنے والے قافلے نے جب میری ماں کو زندہ دیکھا تو وہ اسے اپنے ساتھ لے آئے جس سے ہماری ملاقات پاکستا ن پہنچ کر ہوئی ، ہم سیالکوٹ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے اور کیمپوں کئی روز تک رہائش رکھی جہاں رضا کار زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھے انہوں نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آگ اور خو ن کا دریا عبور کرنے کے بعد معرض وجود میں آیا ہے جس کی خاطر لاکھوں ا فراد نے جانوں کے نذرانے پیش کئے انہوں نے نوجوانوں سے درخواست کی ہے کہ خدارا ملک وقوم کی حفاظت کریں آپس میں تفرقوں میں نہ پڑیں بلکہ متحد ہو کر ملک کو امن کا گہوارا بنائیں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر