شیرکچھار سے باہر ،انسانوں کے سمندر کے ساتھ لاہور روانہ

شیرکچھار سے باہر ،انسانوں کے سمندر کے ساتھ لاہور روانہ

اسلام آباد 228لاہور ( نیوز ایجنسیاں228 رپورٹنگ ٹیم ) اسلام آباد سے لاہور پہنچنے کیلئے شیر کچھار سے باہر نکال آیا۔ عوام کا اایک سمندر ان کے ساتھ ہے، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں بھی ہیں ۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا اسلام آباد سے لاہور کا سفر،ان کی لاہور واپسی کا عمل تین دن میں مکمل ہونے کا امکان ہے ۔نواز شریف نے اپنے مارچ کے پہلے دن راولپنڈی میں پڑاؤ کر لیا۔منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے کرتے ان کو رات ہو گئی۔ انہیں بعض اداروں نے مشورہ دیا کہ وہ رات کو سفر نہ کریں ،جس پر نواز شریف نے رات راولپنڈی بسر کرنے کا فیصلہ کیا ، آج لاہور کیلئے روانہ ہونگے،دوسرا پڑاؤ آج شام جہلم میں ہوگا،تیسرا پڑاؤ گوجرانوالہ میں کرینگے۔آخری روز اتوار کو لاہور پہنچ کر داتا دربار پر حاضری دینگے۔ذرائع کے مطابق پلان اور تجاویز میں سیاسی حالات کے مطابق تبدیلی بھی لائی جاسکتی ہے۔ ہنگامی صورتحال کیلئے چھ ہیلی پیڈ بھی بنا دئیے گئے۔ نوازشریف جہلم اور گوجرانوالہ میں خطاب کرینگے۔ نواز شریف بلٹ پروف گاڑی میں سفر کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت ہمراہ ہوہے۔ نوازشریف پنجاب ہاؤس سے ڈی چوک، ایکسپریس چوک، سنٹورس چوک، زیروپوائنٹ، فیض آباد سے ہوتے ہوئے مری روڈ سے ہوتے ہوئے راولپنڈی پہنچے اس دوران جگہ جگہ ان کا والہانہ استقبال ہوا اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں مکمل ہوا ۔مری روڈ پر ہی انہیں شام ہو گئی اسلام آباد پولیس نے انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی اس دوران مذکورہ بالا تمام علاقے عام ٹریفک کیلئے بند کر دیے گئے تھے ۔ نواز شریف کی گاڑی میں ایسا خصوصی سکیورٹی سسٹم لگایا گیا ہے جو اسلحہ و بارود ایک کلو میٹر دور تک چیک کر لے گا۔ نوازشریف کی ر یلی کے روٹ پر پنجاب ہاؤس سے فیض آباد تک 2500 کے قریب اہلکار تعینات کیے گئے تھے ۔ ریلی کے شرکا کو پنجاب ہاؤس تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی ، فیض آباد تک ریلی کے روٹ کا اردگرد کا علاقہ سیل کر دیا گیا تھا۔بلیو ایریا کی عمارتوں پر پولیس اہلکار تعینات کئے گئے اور روٹ سے منسلک تمام راستے ٹریفک کیلئے بند تھے، ریلی کے موقع پر ٹریفک روانگی کو یقینی بنانے کے لئے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے 600 افسران و اہلکار ڈیوٹی سر انجام د دیتے رہے۔ جناح ایونیو ایکسپریس چوک سے ایف ایٹ ایکسچینج تک جانے والی سڑک ٹریفک کے لئے بند تھی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی آج سے جمعہ تک جی ٹی روڈ ہیوی ٹریفک کیلئے بند ہوگی۔راولپنڈی میں شمس آباد، ڈبل روڈ چاندنی چوک، کوہاٹی بازار، کمیٹی چوک اور مریڑ چوک سے ہوتی ہوئی ریلی کچہری چوک آئی۔ وہاں سے جی ٹی روڈ سواں کیمپ اور پھر مندرہ روات، کلیام اعوان سے گوجرخان، دینہ ،جہلم سرائے عالمگیر، کھاریاں، لالہ موسیٰ، گجرات، وزیر آباد، گوجرانوالہ، کامونکی، مرید کے، فیروز والا، امامیہ کالونی، شاہدرہ سے راول ٹاؤن پلازہ سے قافلہ لاہور شہر میں داخل ہوگا، ذرائع کے مطابق راول ٹاؤن پلازہ سے نواز شریف کا قافلہ نیازی چوک، آزادی چوک سے ہوتا ہوا داتا دربار پہنچے گا۔دوپہر کے کھانے کا اہتمام سینیٹر چوہدری تنویر کے گھر پر کیا گیا ہے جبکہ گوجرخان میں سابق صوبائی وزیر چوہدری ریاض نے بھی کھانے کا اہتمام کیا ہے۔ مسلم لیگ ن راولپنڈی نے شاندار استقبال کی تیاریاں مکمل کر لیں، شہرکو استقبالی بینروں اور ہورڈنگز سے سجا دیا گیا، فیض آباد سے کچہری چوک تک 25 سے زائد مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگا دئیے گئے۔ راولپنڈی میں گورنمنٹ گارڈن کالج، گورنمنٹ اصغر مال کالج، گورنمنٹ کالج رحمت آباد، گورنمنٹ کالج گوجر خان اور گورنمنٹ کالج روات شامل ہیں جہاں ہیلی پیڈ بنایا گیا ہے۔دریں اثناء ضلع جہلم کے علاوہ کھاریاں،دینہ ،لالہ موسیی،گجرات،منڈی بہاؤدین،وزیر آبار،گجرانوالہ کے سرکاری سرکاری ہسپتالوں میں محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور یہاں کے ہسپتالوں میں ڈاکتروں اور سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔مشن جی ٹی روڈ کا قافلہ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر کے ساتھ پنجاب ہاؤس سے لاہور کیلئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں روانہ ہوا ۔ پنجاب ہاؤس داخلے کے راستے صبح نو بجے کے بعد عام شہریوں کیلئے بند کردیئے گئے تھے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کیلئے تیار کنٹینر بھی بلیو ایریا سے آگے نہیں لایا گیا سابق وزیراعظم نواز شریف پنجاب ہاؤس سے اپنی ذاتی بی ایم ڈبلیو جیپ ایف ایف 875 میں سوار ہوئے سابق وزیراعظم کو روانہ کرنے کیلئیوزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے علاوہ وفاقی کابینہ ، اے جے کابینہ ، جی بی کابینہ اور ارکان پنجاب اسمبلی کی کثیر تعداد موجود تھی سابق وزیراعظم کی روانگی سے قبل پنجاب ہاؤس میں موجود جعفر اقبال نے خصوصی دعا کرائی لیگی کارکنوں نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پنجاب ہاؤس سے باہر آتے ہی نعرے بازی شروع کردی جبکہ گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے لیگی کارکن نواز شریف کی گاڑی کو ہاتھ لگاتے اور چومتے رہے۔ سابق وزیراعظم کا قافلہ پنجاب ہاؤس سے ایوب چوک براستہ ایمبیسی روڈ ڈی چک پہنچا جہاں پر کارکنوں کی ہزاروں کی تعداد اور گاڑیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے روکاہوا تھا کے ساتھ شامل ہوا اور چیونٹی کی رفتار سے بلیو ایریا سے راولپنڈی کی طرف چلا پنجاب ہاؤس اور ڈی چوک کے درمیان لیگی ارکان اور پولیس اہلکاروں یک تعداد قدرے کم تھی تاہم ڈی چو ک پہنچنے کے بعد سابق وزیراعظم کا قافلہ یک دم ایک بڑی تعداد میں تبدیل ہوگیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جناح ایونیو پر داخلہ کے راستے بند کئے گئے تھے جس کے سبب ہزاروں گاڑیاں اور کارکن فضل حق روڈ اور ایف سیکٹر سکس سیکٹر سروس روڈ پر راستہ ڈھونڈتی رہی وفاقی وزیر ریلی میں وزیراعظم نوازشریف کے نعرے لگاتے رہے جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی ستی کو کارکنان نے کندھے پر اٹھائے رکھا ۔ سینیٹر چوہدری تنویر جگہ جگہ گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں سے ہاتھ ملاتے رہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی لاہور واپسی کے دوران وفاقی وزیر وزیراعظم نوازشریف کے نعرے لگاتے رہے۔ وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری ایک ہی گاڑی میں سوار تھے جبکہ ان کی گاڑی کے اوپر سپیکر لگائے گئے تھے۔ وزیر پوائنٹ کے مقام پر نوازشریف کے نعرے کارکنان سے لگواتے رہے جبکہ سینیٹر چوہدری تنویر جگہ جگہ گاڑی روک کر کارکنان سے ملتے رہے۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی ستی کوڈی چوک پر کارکنان نے کندھے پر اٹھائے رکھا ۔ میاں محمد نوازشریف کے قافلہ کے ساتھ بلٹ پروف کنٹینر شامل ہے جس کے اوپر نوازشریف اور مریم نواز کی تصویریں آویزاں کی گئی ہیں جبکہ کنٹینر کے اگلی طرف سینیٹر چو دھری تنویر کی تصویر بنائی گئی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی لاہور روانگی کے لئے بلٹ پروف اور بم پروف کنٹینر سپیشل طور پر تیار کیا گیا ہے جس کے چھت پر ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا ہے اور دوجنریٹر لگائے گئے ہیں جبکہ کنٹینر کے ایک طرف نوازشریف اور مریم نواز کی تصویر بنائی گئی ہے جبکہ سامنے کی طرف چوہدری تنویر کی تصویر بنائی گئی ہے اور کنٹینر کے اندر قائداعظم کی تصویر لٹکائی گئی ہے ۔کنٹینر ململ ائیرکنڈیشن اور ایک سائیڈ پر کھڑکی بنائی گئی ہے جس پر بلٹ پروف شیشہ لگایا گیا ہے جس سے وہ کارکنان سے خطاب کریں گے۔ ڈی چوک میں نوازشریف کے استقبال کے لئے گلگت بلتستان آزادکشمیر اور پنجاب کابینہ اور ممبر اسمبلی بڑی تعداد میں آئے۔ ۔ سابق وزیراعظم کی لاہور روانگی کے لئے جب وہ ڈی چوک پہنچے تو ان کے استقبال کے لئے گلگت بلتستان اسمبلی آزادکشمیر اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ارکان اور وزیر بڑی تعداد میں آئے گرمی کی وجہ سے وزیر گاڑیوں میں بیٹھے رہے اور کچھ ڈی چوک کے اردگرد عمارتوں کی چھاؤں میں بیٹھے رہے جبکہ خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی اور صرف آٹھ سے دس خواتین ہی ڈی چوک میں موجود تھیں۔میاں نوازشریف کے قافلے نے پنجاب ہاؤس سے فیض آباد تک کا 8 کلومیٹر کا سفر 6 گھنٹے میں طے کیا۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف دن گیارہ بج کر 38 منٹ پر پنجاب ہاؤس سے روانہ ہو ئے جبکہ ان کا قافلہ چار بجکر تیس منٹ پر فیض آباد پہنچا۔ پنجاب ہاؤس روانگی سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور کابینہ کے دیگر اراکین نے نوازشریف سے ملاقات کی اور انہیں الوداع کیا۔ میاں محمد نوازشریف کے قافلے کے لئے جڑواں شہروں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے۔ سابق وزیراعظم کے قافلے کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے قافلے کے لئے جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ اس دوران بلند و بالا عمارتوں پر پولیس کمانڈوز کو تعینات کیا گیا جبکہ سابق وزیراعظم کے قافلے کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی اور وقفے وقفے سے قافلے کے اوپر ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتا رہا۔ ؂وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے قافلے کیلئے کئے گئے سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان بدھ کے روز خود راولپنڈی میں موجود رہے۔ اس موقع پر جب سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا قافلہ راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوا تو اس سے قبل وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ، مسلم لیگ (ن) راولپنڈی کے دوسرے رہنماؤں جن میں حنیف عباسی، راجہ حنیف ایڈووکیٹ، میئر راولپنڈی سردار نسیم، سی پی او اسرار عباسی کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے پولیس کو ہدایات بھی جاری کیں۔ میاں محمد نوازشریف کا قافلہ جونہی راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوا تو فضا سے میں موجود ہیلی کاپٹر سے پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے اپنے ہردلعزیز قائد کا بھرپور استقبال کیا۔ کارکن ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے رہے۔ اس دوران جب سابق وزیراعظم کا قافلہ راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوا تو ہیلی کاپٹرز سے اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔محمدنواز شریف کی ریلی کے موقع پرریسکیو 1122کے 130اہلکار 47گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں،گاڑیوں میں33ایمبولینسز، نو فائر برگیڈ اور پانچ موبائل وینز شامل ہیں۔ضلع راولپنڈی میں موجود ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق کسی بھی حادثے کی صورت میں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کل 130اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔1122کے مطابق ادارے کی کل 47گاڑیوں جن میں 33ایمبولینسز، نو فائر برگیڈ اور پانچ موبائل وینز شامل ہیں نواز شریف کے قافلے کے روٹ پر ڈیوٹی کے لیے موجود ہیں۔میاں محمدنواز شریف کی ریلی پر فیض آباد کے مقام پر ہیلی کاپٹر سے پھول نچاور کئے گئے ،میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کی ریلی جب فیض آباد کے مقام پر پہنچی تو اس پر ہیلی کاپٹر سے پھول نچاور کئے گئے ۔جبکہ سیکیورٹی کے لیے بھی ہیلی کاپٹر استعمال کئے جارہے ہیں۔ میاں محمدنواز شریف کی ریلی میں سیکیورٹی کے لیے دوموبائل جیمر گاڑیاں موجود ہیں ایک گاڑی پاکستانی ساخت جبکہ دوسری امیریکی ساخت کی جدیدترین گاڑی ہے ،میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کی ریلی میں سیکیورٹی کے لیے دوموبائل جیمر گاڑیاں موجود ہیں ایک گاڑی پاکستانی ساخت جبکہ دوسری امریکی ساخت کی جدیدترین گاڑی ہے۔امریکن ساختہ جدید ترین جیمر گاڑی وزیر اعظم کی گاڑی کے پاس ہروقت موجود رہتی ہے جہاں سے وزیراعظم کی گاڑی گزرتی ہے وہاں ہر قسم کے سگنل ختم کردیتی ہے ۔ٹریفک پولیس پنجاب نے عوام کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کے لیے مسلم لیگ ن کی ریلی براستہ جی ٹی روڈجہلم، گجرات اور گوجرانوالہ تک موٹروے پولیس سے مل کر متبادل ٹریفک روٹ پلان و ڈائیورشن پلان بنایا ہے۔، سابقہ وزیر اعظم کا جلوس 10/08/2017کو جہلم سے براستہ جی ٹی روڈ گجرا ت کے لئے صبح 10:00بجے روانہ ہوگا۔راولپنڈی سے لاہور آنے والی ٹریفک براستہ موٹر وے لاہور جا سکے گی ۔جہلم سے جلوس کی روانگی کے وقت راولپنڈی سے لاہور جانے والی بھاری گاڑیاں مندرہ سے چکوال روڈ موڑ موٹروے پر ڈال دی جائیں گی ۔صرف جلوس میں شامل گاڑیاں ہی جہلم سے جانب گجرات جانے دی جائیں گی۔ریلی کی موومنٹ کے حساب سے مختلف مقامات پر ڈائیورشن پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں جہاں سے ٹریفک جی ٹی روڈ کی بجائے متبادل شاہرات پر ضرورت پڑنے پر موڑ دی جائیگی۔اسی طرح جی ٹی روڈ پر جلوس کی وجہ سے اگر دونوں اطراف پر جلوس کی گاڑیاں آتی ہیں تو ٹریفک کو مناسب پوائنٹ سے متبادل راستہ پر ڈال دیا جائے گا۔حالات کے مطابق جی ٹی روڈجلوس کے پوائنٹ کے قریب دونوں اطراف سے بند کی جا سکتی ہے لہذاعوام سے گزارش ہے کہ وہ موٹر وے پولیس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کو سفر کے دوران کوئی مشکل درپیش نہ آئے۔سفر پر روانہ ہونے سے پہلے موٹروے ہیلپ لائن 130،گجرات ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 15 گوجرانوالہ ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن1915 اور ٹریفک ہیڈ کوارٹرز پنجاب کے کنٹرول روم کی ہیلپ لائن نمبرز 042-99204619-20پر کال کر لیں اور GTروڈ کے ٹریفک حالات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔لوگوں سے گزارش ہے کہ جلوس کے دوران جی ٹی روڈپر کمزور گاڑیوں کوسفر پر لے جانے سے گریز کریں اور گاڑی کا تیل و پانی پورارکھیں تاکہ گاڑی سڑک پر خراب ہونے کی صورت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اپنی گاڑیوں کا خیال رکھیں اورکسی غیر متعلقہ/مشکوک شخص کو گاڑیوں کے ساتھ چھیڑ خانی نہ کرنے دی جائے ۔ٹریفک پولیس پنجاب لوگوں کی سہولت اور راہنمائی کے لئے جلوس کے روٹ پرتعینات کی گئی ہے تاکہ آپ کو بہتر سفر کے لئے کوشاں ہے۔اسی طرح ضلع گجرات کے لئے بنائے گئے ٹریفک پلان کے مطابق سابقہ وزیر اعظم گجرات شہر میں GTS چوک گجرات میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے جس کی وجہ سے جی ٹی روڈ ،سر گودھا روڈ،شادی وال لنک روڈ ،ریلوے روڈ، عام ٹریفک کے لئے بند رہے گی تاہم گجرات بائی پاس جلسہ عام کے دوران ٹریفک کیلئے کھلا رہے گا ۔ڈنگہ، کنجاہ،منگو وال اور سرگودھا روڈ کے رہائشی حضرات گوجرانوالا جانے کے لئے براستہ سرگودھا روڈ مانو چک ،قادر آباد لنک علی پور چٹھہ جا سکیں گے۔ڈنگہ ،کنجاہ ،منگو وال اور سرگودھا روڈ سے لاہور جانے والی گاڑیاں براستہ سالم انٹر چینج موٹر وے جا سکیں گے۔بھمبر روڈ اور آزاد کشمیر کے علاوہ ملحقہ علاقوں سے آنے والی ٹریفک براستہ جلال پور جٹاں ہیڈ مرالہ سیالکوٹ جا سکیں گے۔پولیس وائرلیس کنٹرول روم گجرات 053-9260040-053-9260030-31۔اسی طرح موٹروے پولیس(NHMP ) کے تعاون سے لاہور سے گوجرانوالہ جانے والی ٹریفک کو مرید کے چوک سے شیخوپورہ روڈکی طرف موڑدیاجائیگا۔گوجرانوالہ چنداقلعہ بائی پاس سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک کو کھیالی چوک ، عالم چوک ، علی پور چوک سے بجانب علی پور ،ہیڈقادرآباد ،گجرات سرگودھا روڈ موڑ دیا جائے گا۔حافظ آباد کی جانب سے ما سوائے شرکاء ریلی کسی قسم کی ٹریفک کو گوجرانوالہ نہ آنے دیا جائے گا اور ٹریفک کو چک چٹھہ سے جانب موٹروے موڑ دیا جائے گا۔ سیالکوٹ اور سے گوجرانوالہ آنے والی ٹریفک کو دیوان روڈ پر موڑ دیا جائے گا ،پسرور سے گوجرانوالہ آنے والی ٹریفک کو دھرم کوٹ چوک سے جانب دیوان روڈ موڑ دیا جائے گا۔ریلی کے وزیرآباد پہنچنے پر سیالکوٹ سے وزیر آباد آنے والی ٹریفک کو ریلی کی طرف نہ آنے دیا جائے گا اور سمبڑیال سے بجانب ہیڈمرالہ اور ڈسکہ موڑ دیا جائے گا۔جی ٹی روڈ سے منسلک ذیلی سڑکوں کو حسب ضرورت بیریئر لگاکر ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گااور ٹریفک کو سائیڈروڈز پر چلائی جائے گی۔ضلع گوجرانوالہ کی حدود میں پل چناب تا سادھوکی تمام استقبالیہ کیمپ جی ٹی روڈ پر واقع ہیں ان تمام استقبالیہ کیمپس کی پارکنگ کیمپ سے کم از کم 200سو میٹر دور ذیلی سڑکو ں پر کارروائی جائے گی۔

نواز شریف روانگی

راولپنڈی: ( مانیٹرنگ ڈیسک228 نیوز ایجنسیاں) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کر دیا گیا، یہ عوام کے ووٹوں کی توہین ہے'کیا فیصلہ آپ کے ووٹوں کی توہین ہے یا نہیں؟ آج پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا ہے، پورے پاکستان میں ایسی محبت کبھی نہیں دیکھی، نواز شریف نے کمیٹی چوک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔پورے پاکستان میں ایسی محبت کبھی نہیں دیکھی، یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے، راولپنڈی میرا شہر ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلے کو عوام نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی عدالت فیصلہ دے رہی ہے، نواز شریف کو کس بات کی سزا دی گئی؟ عوام کے مینڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کر دیا گیا، یہ عوام کے ووٹوں کی توہین ہے یا نہیں؟ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کیا گیا، کیا کوئی کک بیک یا کمیشن لیا؟نواز شریف کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کا فیصلہ پورے ملک کا فیصلہ ہوتا ہے، کسی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی، اوسطاً ڈیڑھ سال ایک وزیر اعظم کو اقتدار ملا، یہ مذاق پاکستان کے ساتھ 70 سال سے ہو رہا ہے، ہم نے اتنی محنت کر کے پاکستان کو آگے بڑھایا لیکن اب پاکستان پھر پستی کی طرف جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کہتے ہیں تنخواہ نواز شریف نے کیوں نہیں لی؟ میں کہتا ہوں جب تنخواہ لی ہی نہیں تو ظاہر کیوں کروں؟ آپ کے ووٹ کی توہین مجھے اور آپ کو قبول نہیں، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے، ہمارے آنے سے پہلے ملک میں اندھیرے تھے، آج لوڈ شیڈنگ عملاً ختم ہو رہی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اگلے سال کے شروع میں ملک میں لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان نہیں رہے گا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر خوشحال ہو رہے ہیں،2014ء میں دھرنا آ گیا، وہ مولوی صاحب آج پھر پاکستان پہنچ گئے ہیں، یہ کینیڈا میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور پاکستان میں تباہی کا نسخہ لے کر آ جاتے ہیں، دھرنے والوں اور مولوی نے ملک کو نقصان پہنچایا، پاکستان سے غربت اور جہالت کو ختم ہونا چاہئے۔ نواز شریف نے کہا کہ میرے زمانے میں پشاور سے اسلام آباد اور پھر لاہور موٹروے بنی، جب میری حکومت ختم کی گئی تو لاہور سے آگے موٹروے نہیں بڑھی، میری دوبارہ حکومت آئی تو موٹروے کراچی جا رہی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موٹروے کا بیشتر حصہ 2018ء اور 19ء میں مکمل ہو جائے گا، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا ہے، منصوبہ بندی سے دہشتگردی کو ختم کیا، آج ایک میجر اور 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، فوجی جوانوں کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان کے بہترین مفاد میں کام کر رہے ہیں، پاکستان کو بدلنا ہو گا، مینڈیٹ کا احترام نہیں ہو گا ترقی نہیں ہو گی، میرے بھائیوں وعدہ کرو اپنے مینڈیٹ کا احترام کرواؤ گے، کسی کو اس مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دو گے اور اپنے ووٹ کے تقدس کا خیال رکھو گے، وعدہ کرو کہ اپنے وزیر اعظم کی تذلیل اور بے عزتی نہیں ہونے دو گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میرے ہاتھ صاف ہیں، ان ججوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں، کیس تو دور کی بات، کوئی داغ اور الزام بھی نہیں، اس فیصلے کا فیصلہ آپ پر اور تاریخ پر چھوڑتا ہوں، اس ملک کے اندر قانون کی حکمرانی کے بغیر عزت کی زندگی نہیں مل سکتی، اس ملک کو ان تمام مسائل سے نجات دلانے کے لئے ایک نقشہ پیش کرونگا، میں ہر گز آپ سے یہ توقع نہیں کرتا کہ آپ مجھے بحال کرائیں، اس ملک کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لئے نواز شریف کا ساتھ دیں، کیا آپ ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے نواز شریف کا ساتھ دینگے؟ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار کی لالچ کے بغیر غریبوں کی قسمت بدلیں گے۔ انہوں نے صحافیوں پر حملوں کی مذمت بھی کی۔قبل ازیں پنجاب ہاؤس میں لاہور روانگی کے وقت سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور لیگی رہنماؤں سے ملاقات میں کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہمارے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل اور حکومت کی مدت پوری ہونے تک وزیر اعظم ہی رہیں گے کوئی پاور شو نہیں کر رہا گھر بھیجا گیا ہے تو گھر جا رہا ہوں ۔کے دوران کیا ۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئندہ مدت تک وزیر اعظم رہیں گے اور شہباز شریف بدستور وزیر اعلی پنجاب رہیں گے کیونکہ شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں شہباز شریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا اور مزید بہت کچھ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی دیرینہ ساتھی اور دوست ہیں لیگی وزراء اور راہنما ان سے مکمل تعاون کریں ۔ اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے اور آپ سب رہنماؤں اور عوام کے لئے نیک خواہشات ہیں ۔ نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ عوام نے مجھے منتخب کیا ہے اس لئے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے جا رہا ہوں کوئی پاور شو نہیں کر رہا ۔ ایک نیک مقصد کے لئے جا رہا ہوں سفر طویل ہے مگر خوشی ہے کہ اپنے گھر جا رہا ہوں انہوں نے کہا کہ بہت سے سوالات کا جواب ڈھونڈ رہا ہوں ۔مگر ابھی کہیں نہیں جا رہا ۔سیاست میں ہی رہوں گا کیونکہ ہٹرک مکمل کرنی ہے اگر سیاست سے پیچھے ہٹ گیا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے ۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لاہور روانگی سے قبل اپنے اہلخانہ اور شہباز شریف کے ساتھ ٹیلفونک رابطہ کیا سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور کی طرف روانگی سے قبل اپنے اہلخانہ اور شہباز شریف سے طویل گفتگو کی جس میں ریلی سے متعلق امور زیر بحث آئے اہلخانہ نے نواز شریف کو تسلی دی کہ وہ عوامی نمائندہ ہیں اور ریلی روانگی سے قبل کارکنوں کا جم غفیر ثابت کررہا ہے کہ مخالفین لاکھ کوششیں کریں لیکن عوام آپ پر اعتماد کرتے ہیں اور موجودہ ناز ک صورتحال میں ا پکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں میاں نواز شریف نے تسلی دینے پر اہلخانہ اور شہباز شریف کو شکریہ ادا کیا ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ گھر جانے کے پیچھے کوئی مقاصد نہیں ،ایک مشن لے کر عوام کا شکریہ ادا کرنے جا رہا ہوں،خواہش ہے شاہد خان مدت پوری کریں اور جو کام میں نے شروع کئے انھیں مکمل کریں ،شہباز شریف پنجاب کی جان ،پاکستان کی شان ہیں انھیں ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہے ،چار سال سے ملک ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا تھا۔پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور روانگی کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان اور دیگر پارٹی رہنماں سے غیر رسمی گفتگو اور غیر ملکی میڈیا سے بات چیت میں کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ شاہدخاقان عباسی 10 ماہ تک بطور وزیراعظم خدمات سرانجام دیں گے، شہبازشریف بدستور وزیراعلی پنجاب رہیں گے۔ انہوں نے کہا شاہد خاقان عباسی مخلص اوردیرینہ کارکن ہیں، لیگی رہنما اور وزرا شاہد خاقان عباسی سے مکمل تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا ہے، شہبازشریف نے ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہے۔ ایک مشن لے کر جارہا ہوں، جس عوام نے مجھے منتخب کیا ان کا شکریہ ادا کرنے جارہا ہوں۔ آپ سب کے لیے نیک خواہشات ہیں، اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہمیں تین بڑے چیلنجز ورثے میں ملے جب کہ اس وقت بجلی بحران عروج پر تھا لیکن گزشتہ چار سال سے ملک ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا تھا۔ پچھلے سال ترقی کی شرح5 اعشاریہ 3فیصد حاصل کی ۔انھوں نے کہا کہ اس سال ترقی کی شرح 7فیصد تک ہونے کی توقع ہے،بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ترقی کی شرح بڑھنے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی ،سی پیک منصوبہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے،2013 میں ہمیں تین بڑے چیلنجز ورثے میں ملے ،2013 میں بجلی بحران عروج پر تھا۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول