نواز شریف کی سیاست ،حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن سے سنٹر اسٹیج لے لیا

نواز شریف کی سیاست ،حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن سے سنٹر اسٹیج لے لیا

تجزیہ سہیل چوہدری

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف وفاقی دارالحکومت میں 4دن کے قیام میں مشاورت کی کئی نشستوں کے بعد بالآخر جی ٹی روڈ کے ذریعے عازم لاہور ہوئے ان کی مشاورت میں پارٹی رفقاء کے علاوہ صحافیوں کے کئی گروپ شامل رہے، اس مشاورت کی کرامت کی بناء پر محمدنوازشریف نے موٹر وے سے ٹھنڈے میٹھے طریقے سے گھر جانے کے بجائے جی ٹی روڈ کے ذریعے داتا کی نگری جانے کا سخت فیصلہ کیا اگرچہ کہا جاتاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان موٹروے کے سفر کا اسلوب اپنانے کے حق میں تھے لیکن سابق وزیراعظم جو ہمیشہ دوسروں کی سنتے ہیں بلکہ ہر صورتحال میں خود سوال کرکے دریافت کرتے ہیں کہ کیا کیا جائے لیکن اپنی رائے کا اظہار خال خال ہی کرتے ہیں ، اپنے کارڈ سینے سے لگاکے رکھ کر ہمیشہ آخری وقت میں فیصلہ کرتے ہیں ، انکے سیاسی مزاج میں ایک خاص ایڈونچر ہے جس سے انہیں سیاسی فائدہ بھی ملتاہے اور بعض اوقات مشکلات کا بھی سامنا ہوتا رہاہے ، اس بار بھی انہوں نے نااہلی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد تمام فیصلے آخری وقت میں تمام پہلوؤں کو اچھی طرح چھان پھٹک کرکیئے ، اگرچہ یہ فیصلہ پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے ایک دھماکہ سے کم نہ تھا لیکن سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کے رویہ میں اہم ترین فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی اضطراب یا بے چینی نظر نہیں آئی ، کہتے ہیں کہ ہر بحرانی کیفیت میں نئے مواقع کے احکامات بھی موجود ہوتے ہیں لگتاہے کہ محمد نوازشریف نے پاکستان مسلم لیگ ن اور شریف خاندان پر پڑنے والی اس افتاد سے پیدا ہونے والے بحران سے ایک بڑا سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے جی ٹی روڈ کی سیاسی مہم جوئی کو ترجیح دی اگرچہ انکے اس کٹھن سفر میں ان کے انتہائی قریبی رفیق چوہدری نثارعلی خان پہلے مرحلے میں نظر نہیں آئے لیکن دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خود سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو پنجاب ہاؤس سے الوداع کیا ، درحقیقت شریف خاندان یا پاکستان مسلم لیگ ن کا سیاسی مستقبل جو بھی ہے وہ صرف نوازشریف کے دم سے ہی ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن میں ووٹ بنک بلاشرکت غیرے نوازشریف کا ہی ہے سیاسی جماعتوں میں شخصیت پرستی کے بہت سے ناقدین موجود ہیں لیکن سیاست کا یہ طرز اسلوب پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سمیت جنوبی ایشیاء کے پورے خطے میں نظرآتاہے ، یہ ایک حقیقت ہے اچھی یا بری اسے پاکستان کے سیاسی عمل میں جھٹلایا نہیں جاسکتا ، ریلی کے پہلے دن کے جوش و خروش اور مومینٹم کو دیکھ کر لگتاہے کہ نوازشریف کا جی ٹی روڈ سے داتا کی نگری جانے کے فیصلے سے پاکستان مسلم لیگ ن کا احیاء ہوگیا ہے کیونکہ اقتدار میں رہنے سے کسی بھی پارٹی کو اپوزیشن کے مسلسل تابڑ توڑ حملوں اور اپنی بعض کوتاہیوں کی بدولت عوام میں پذیرائی میں جو کمی واقع ہوتی ہے اس کا ازالہ ہوگیا ہے ، ریلی کے جوش و خروش کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہاہے پورے دن کے سفر کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی ریلی اسلام آباد سے راولپنڈی پہنچ پائی ، ریلی کی منزل آج جہلم تھی لیکن قافلے میں عوامی جم غفیر کی بناء پر راولپنڈی میں ہی قیام کا فیصلہ کیا ، اگرچہ بعض ناقدین کہہ رہے ہیں کہ ریلی میں شرکاء کی تعداد اتنی نہیں کہ اسے 1986میں شہید بے نظیر بھٹو کی ریلی سے تشبیہہ دی جائے تو شائد ایسا نہیں ہے لیکن یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ یہ توابھی ابتداء ہے پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے ریلی پر یہ بھی الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ یہ حکومت کی سپانسرڈ ہے اپوزیشن کرنے والے حضرات کا یہ اعتراض برائے اپوزیشن تو بجا ہے لیکن گزشتہ چار سال میں پاکستان مسلم لیگ ن کے کسی بھی جلسہ ، جلوس یا ریلی سے اس کا موازنہ کیا جائے تو اس بار یہ بات عیاں ہے کہ کارکنوں اور حامیوں کی کثیر تعداد ازخود باہر نکلی ہے،سابق وزیراعظم نوازشریف کیلئے راولپنڈی کے باسیوں کی جانب سے ایک رات قبل ہی استقبالیہ کیمپ لگ گئے تھے حتیٰ کہ ایک رات قبل شکرپڑیاں آئی ایٹ والے انٹرچینج، فیض آباد اور شمس آباد پر ہر جگہ دو تین سو کارکنان موجود تھے مری روڈ پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگ چکے تھے جہاں رات بھر لیگی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود رہی جبکہ نوجوان ایک رات قبل ہی شہر بھر میں موٹر سائیکلوں پر متحرک رہے ، ، عمومی طورپر سرکاری سپانسرڈ ریلیاں بے روح بے رنگ اور بے ذائقہ ہوتی ہیں ، بے شک شرکاء ہزاروں میں ہوں یا لاکھوں میں لیکن اس ریلی کو دیکھ کر یہ گمان ہوتاہے کہ اپوزیشن کی ریلی ہے اس ریلی میں اپوزیشن کی ریلی کی مانند جان نظر آرہی ہے اگرچہ شرکاء کی کثیر تعداد سفید پوش مڈل کلاس نظر آرہی ہے اس بھرپور ریلی کو دیکھ کر یہ بات باآسانی کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکن اور حامی کرپشن کے الزامات کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں نوازشریف نے جی ٹی روڈ ریلی کی سیاست کے ذریعے حکومت میں رہتے ہوئے دراصل اپوزیشن سے سنٹر اسٹیج بھی لے لیا ہے،جس کی وجہ سے انہیں 7/24 میڈیا کوریج مل رہی ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ،جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کے فیصلہ کو بہت سے حلقے ایک بہت بڑا سیاسی جواء قرار د ے رہے تھے کیونکہ نااہلی کے فیصلہ کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اوراس کی قیادت عوامی مقبولیت کو جانچنے کی آزمائش سے گزررہی ہے،لیکن ابھی آزمائش جاری ہے ۔

مزید : تجزیہ