نواز شریف کو جو حکم ملا اس پر عمل ہو گیا،عدالت نے کسی سیاسی سرگرمی سے نہیں روکا

نواز شریف کو جو حکم ملا اس پر عمل ہو گیا،عدالت نے کسی سیاسی سرگرمی سے نہیں ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ وزیراعظم نہیں رہے۔ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے بھی نا اہل قرار پائے۔ مسلم لیگ ن کی صدارت پر بھی فائز نہیں رہ سکتے، ابھی تک ماہرین قانون کی رائے اس باب میں تقسیم ہے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے ان کی نا اہلی تا حیات ہے یا وہ صرف موجود رکنیت سے نا اہل ہوئے ہیں؟ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ الیکشن لڑ سکتے ہیں دوسری رائے یہ ہے کہ جس دفعہ کے تحت نا اہلی ہوئی ہے اس کے تحت نا اہلی مستقل ہوتی ہے۔ یہ معاملہ ابھی تک ماہرین قانون کی آرا کی حد تک ہے عین ممکن ہے عدالت کے روبرو جائے تو وہ اس پر بھی فیصلہ دے دے لیکن اس وقت ہمارے سامنے یہ سوال نہیں ہے کہ نواز شریف دوبارہ الیکشن لڑ سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کے عہدے اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہلی کے بعد کیا وہ سیاست کے میدان سے بھی باہر ہوگئے ہیں؟ اور کیا سیاسی سرگرمیاں ان کے لئے شجر ممنوعہ بن کر رہ گئی ہیں بعض لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر حکم لگا رہے ہیں اور اگر ان کے بس میں ہو تو وہ اپنی خواہشات کی آسودگی کے لئے جو چاہیں کر گذریں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ خواہشات ایسے گھوڑے نہیں ہوتے جن پر ہر قسم کے فقیر فقرے سواری کریں۔ نہ تمام خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جو پوری ہوجائیں ایسا ہوتا تو کیا آپ کو یاد ہے جنرل پرویز مشرف نے 1999ء سے لے کر 2007ء تک کے آٹھ برسوں میں کتنی ہزار مرتبہ کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لئے پاکستان کی سیاست میں اب کوئی جگہ نہیں رہی وہ کوئی اور کام کرلیں لیکن کیا ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی؟ بے نظیر بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کرکے 18 اکتوبر 2007ء کو وطن واپس آگئیں اگرچہ انہیں بہت ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ کسی دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر جب کراچی کے ہوائی اڈے پر اتر گئیں اور وہاں سے جلوس کی شکل میں گھر جارہی تھیں تو ان کے استقبالی جلوس میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوگئے جن میں دو سو کے لگ بھگ لوگوں کی جانیں چلی گئیں لیکن اگلے ہی روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گی، یہ در اصل ان کی انتخابی مہم تھی جس سے انہیں دور رکھنے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن جب وہ اس سے باز نہ آئیں تو 27 دسمبر کو لیاقت باغ (راولپنڈی) کے ایک دھماکے میں ان کی جان لے لی گئی جو لوگ ان کے قافلے میں تھے اب ان میں سے بعض نے اپنا نیا قافلہ سالار منتخب کرلیا ہے۔ انہیں تو راستے سے ہٹا دیا گیا لیکن اس کے نتیجے میں ان کی پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آگئی۔

2008ء کے انتخابات میں جو جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں ہوئے مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت بن گئی لیکن ان کی وہ صدارت اس کے بعد چند مہینے ہی چل سکی جس کے لئے انہوں نے دوسری مرتبہ آئین توڑا تھا، ان کو خوف تھا کہ جس طرح کے جعلی صدارتی الیکشن انہوں نے جوڑ توڑ کرکے کرائے ہیں ان کا معاملہ جب اعلیٰ عدالت میں جائیگا تو عدالت اس سارے طریق کار اور شاید ان کی صدارت کو ہی کالعدم قرار دے دے چنانچہ انہوں نے پیش بندی کے طور پر پہلے تو چیف جسٹس سے استعفا طلب کیا اور ان کے انکار پر انہیں غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر برطرف کردیا اور اس کے لئے ایمرجنسی کا سہارا لیا، اس کے باوجود ان کی یہ صدارت 2008ء میں ان کے استعفے کے نتیجے میں ختم ہوگئی جس پر وہ بزعم خویش 2013ء تک براجمان ہوگئے تھے پس ثابت ہوا کہ خواہشات ہمیشہ پوری نہیں ہوتیں۔

2008ء کے انتخابات میں نواز شریف کو اگرچہ حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوئی دونوں جماعتوں نے مل کر جنرل پرویز مشرف کو استعفے پر مجبور کیا اور جس نواز شریف کے بارے میں وہ کہہ چکے تھے کہ ان کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں رہ گئی وہ کوئی اور کام کرلیں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ 2013ء کا الیکشن جیت کر تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے اور خود جنرل پرویز مشرف کا اپنا عالم یہ تھا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کی کوشش کی لیکن تینوں سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔ ایک ریٹرننگ آفیسر نے تو انہیں آئین شکنی کے الزام میں تاحیات نا اہل قرار دیدیا انہوں نے اپنی اس نا اہلی کو کسی عدالت میں چیلنج کیا یا نہیں تاہم وہ اب تک اپنی جماعت کے سربراہ ہیں اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر سیاسی جماعتوں کی جو فہرست موجود ہے اس میں آل پاکستان مسلم لگ کی صدارت کے خانے میں ان کا نام لکھا ہوا ہے۔ کیا وہ انتخاب لڑنے کے لئے نا اہل قرار پانے کے بعد اب بھی سیاسی جماعت کی سربراہی کرسکتے ہیں یہ سوال اس وقت یوں پیدا ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے نواز شریف کو تو کسی سیاسی جماعت کے صدر کے عہدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ سپریم کورٹ سے نا اہل قرار پائے ہیں اس بناء پر مسلم لیگ ن سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا نیا صدر منتخب کرلے لیکن اس بنیاد پر جنرل پرویز مشرف کو کیوں نا اہل قرار نہیں دیا گیا اس کا جواب الیکشن کمیشن کے ذمے ہے کسی حلقے کا ریٹرننگ آفیسر (آر او) اگر کسی امیدوار کو نا اہل قرار دیتا ہے تو وہ ایسا الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے ہوئے اختیارات کے تحت کرتا ہے جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آر او نے جس کسی کو نا اہل قرار دیا وہ ایسے ہی جیسے اسے الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دیا ہو اب ایسے شخص کو اگر الیکشن کمیشن نے اب تک آل پاکستان مسلم لیگ کی سربراہی سے ہٹانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا تو ممکن ہے کوئی فنی رکاوٹ اس راستے میں حائل ہو لیکن ہماری معلومات کی حد تک تو سپریم کورٹ بھی جنرل پرویز مشرف کو 2007ء کی ایمرجنسی کا ذمہ دار قرار دے چکی ہے جو بہر حال ایک بالائے آئین اقدام تھا اگر کسی وزیراعظم کو آئین کی ایک شق کے تحت نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے تو پورے آئین کو ختم کرنے یا منجمد کرنے والے کو نا اہل کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا اور اگر پرویز مشرف کو اس جرم کے تحت نا اہل قرار دے دیا گیا ہے تو وہ اب تک کیوں اپنی مسلم لیگ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہیں۔ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ نے جو حکم دیا اس پر عملدرآمد ہوچکا، جہاں تک سیاسی سرگرمیوں کا تعلق ہے ان سے نہ سپریم کورٹ نے روکا ہے اور نہ ہی کسی قانون کے تحت ایسا حکم جاری ہوسکتا ہے اس طرح کا حکم نامہ تو ’’ایبڈو‘‘ کے تحت ہی دیا جاسکتا تھا لیکن اب ایبڈو کا دور نہیں ہے واپس آجائے تو کہا نہیں جاسکتا۔

سیاسی سرگرمی

مزید : تجزیہ