سپرے کی ہوئی پھوٹ کھانے سے 3 بچے جاں بحق ‘ 4 کی حالت غیر

سپرے کی ہوئی پھوٹ کھانے سے 3 بچے جاں بحق ‘ 4 کی حالت غیر

لودھراں(نما ئند ہ پا کستا ن) بستی خد ا یار کے رہائشی محمد اسماعیل کے سا ت بچوں نے اپنے ہی کھیت میں سپرے کی ہوئی پھوٹ کھالی جس سے ان کی حالت غیر ہوگئی ۔ محمد اسماعیل کی 2بیٹیاں سدرہ ، علشبہ اور بیٹا محمد عثمان جاں بحق ہوگئے جبکہ چار بچوں لقمان ، رضوان ، نمرہ وغیرہ کی حالت غیر ہوگئی ۔ (بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

جن کو بدھ کے روز ڈسٹرکٹ ہسپتال لودھراں لایا گیا اور یہاں پر ان کو طبی امداد دی گئی دوسری طرف بچوں کی ہلاکت پر ان کی والدہ بھی شدید غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نیم بے ہوش ہوگئی اسے بھی طبی امداد کے لیے لودھراں ڈسٹرکٹ ہسپتال ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کردیا گیا ۔ بچوں کو طبی امداد دینے کے حوالے سے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طارق گیلانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم بنادی گئی ہے جوکہ بچوں کو طبی امداد دے گی جبکہ حالات اس کے بالکل برعکس تھے بتا یا گیا ہے کہ جن بچوں کی حالت غیر ہوگئی تھی ان کو نہ تو اسٹیچر فراہم کی گئی اور نہ ہی ہسپتال کا عملہ مریض بچوں کو شفٹ کرنے کے لیے ایمبولینس کے پاس آیا ۔ غم سے نڈھال والد نے اپنے بچوں کو گود میں اٹھاکر ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کیا وارڈ میں حالت یہ تھی کہ وہاں پر نہ تو بیڈ کا انتظام تھا اور نہ ہی بجلی تھی اور نہ ہی کسی ایمرجنسی ڈیوٹی اور ڈاکٹرز کا بندوبست کیا گیا تھا مقامی صحافیوں کی نشاندہی پر ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر طیب خاں کو ہسپتال بھیجا انہوں نے وہاں آکر ڈاکٹرز کو ہدایات کیں اور اضافی بیڈز کے لیے کہا جس پر بچو ں کو بیڈ پر شفٹ کردیا گیا اور ان کی ٹریٹمنٹ شروع کردی بچوں کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہد ہ اسلام ہسپتال ، کچھی ہسپتال بہاولپور ، وکٹوریہ ہسپتال بچوں کو شفٹ کیا گیا مگر ڈاکٹرز نے میرے بچوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال نہ کی جس کی وجہ سے میرے تین بچوں کی اموات واقع ہوئیں او ر ڈسٹرکٹ ہسپتال لودھراں میں طبی امداد دینے میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا اور ا نہو ں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اعلی حکام میری داد رسی کریں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر