غیرت کے نام پر بیٹی کا قتل، حادثات میں 5جاں بحق، کرنٹ سے 2ہلاکتیں

غیرت کے نام پر بیٹی کا قتل، حادثات میں 5جاں بحق، کرنٹ سے 2ہلاکتیں

ملتان ‘ علی پور‘ احمد پور شرقیہ ‘ ہیڈ راجکاں ‘ کوٹ ادو ‘ جتوئی ‘دائرہ دین پناہ ‘ چوک سرور شہید( کرائم رپورٹر ‘ نمائندگان) غیرت کے (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

نام پر بیٹی قتل ‘ مختلف حادثات میں 5 جاں بحق ‘ کرنٹ سے گھریلو خاتون اور کام کرتا آٹو الیکٹریشن ہلاک ۔ کوٹ ادو کے رہائشی عبدالغفار نامی شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جارہا تھا دائرہ چوک متی تل کے قر یب اچانک سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے انہیں ٹکر دے ماری ،جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار عبدالغفار ، 30سالہ شگفتہ ،3ماہ کی عالیہ اور رابعہ شدید زخمی ہوگئے۔ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچ گیا اور زخمیوں کو نشتر ہسپتا ل منتقل کردیا۔ جہاں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے 30سالہ شگفتہ اور اس کی 3ماہ کی بیٹی جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ دونوں زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ علی پور سے نمائندہ پاکستان کے مطابق پولیس کانسٹیبل غلام اکبر 2059/cموٹرسائیکل پرکارسرکار کے سلسلے میں پکٹ نلکااڈا سے تھانہ صدر علی پور آرہاتھا کہ جب بالمقابل قریشی ہاؤس بستی ککوانی والا ملتان روڈ پہنچا تو ہیڈ پنجند کی طرف سے آئل ٹینکرجوکہ انتہائی تیز رفتاری سے آرہاتھا کانسٹیبل غلام اکبر پر چڑھ دوڑا جس سے غلام اکبر کے دونوں بازو،سر،دونوں ٹانگیں ،پیٹ کچلے گئے غلام اکبر ضربات کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہوگیا ۔مذکورہ آئل ٹینکراورڈرائیور کو پولیس نے قبضہ میں لے کر کاروائی شروع کردی۔ احمد پور شرقیہ ‘ ہیڈ راجکاں سے سٹی رپورٹر‘ نمائندہ پاکستان کے مطابق مقامی ہاکی کلب کے کپتان اورمعروف اتھلیٹ اور نجی ٹی وی کا نمائندہ وسیم غوری سکنہ محمود کالونی اپنے دوست ماما طفیل کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار آرہے تھے کہ شاھی والا کے قریب رکشہ سے تصادم کے نتیجہ میں دونوں شدید زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کو فوری طو رپر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایاگیا اور انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد نازک صور ت حال کے باعث بہا ول وکٹوریہ ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ مگر وسیم غوری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ مرحوم کے ساتھی ماما کی دونوں ٹانگیں شدید متاثر ہوئیں انہیں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں داخل میں داخل کرادیاگیا۔ کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق بستی گانمن شاہ کے رہائشی حبیب رفیق کمپنی کے ملازم محمد افضل کی 10سالہ بیٹی عائشہ جو کہ دوسری کلاس کی طالبہ تھی گھر کے قریب دکان سے سودا سلف لینے گئی کہ اسی اثناء میں عقب سے آنیوالی مٹی سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالی نے اسے روند دیا جس پر وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی، نامعلوم ٹریکٹر ڈرائیور ٹرالی ٹریکٹر موقع پر چھوڑکر فرار ہو گیا ، علاقہ کے سابق کونسلر غلام یٰسین بھٹہ نے جاں بحق ہونے والی بچی عائشہ بی بی کو فوری طور ہسپتال پہنچایااطلاع پر پولیس کوٹ ادو بھی موقع پر پہنچ گئی،پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی،اہل علاقہ نے ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جتوئی سے نامہ نگار کے مطابق جتوئی کے نواحی علاقہ سبائے والا میں باپ نے اپنی سگی بیٹی شازیہ کو غیرت کے نام پر کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر کے فرار ہو گیا زرائع سے یہ معلوم ہوا کہ شازیہ بی بی اتاش نوناری سے پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی مگر والدین اس رشتے سے راضی نہ تھے اسی رنجش پر شازیہ بی بی کاوالد نزیر نے صبح کے وقت اپنی بیٹی کو کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر کے فرار ہو گیا اہل علاقہ نے قتل ہونے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جتوئی پولیس کو اطلاع دی جتوئی پولیس موقع پر آ کر لاش کو قبضہ میں لا کر THQہسپتال جتوئی لایا گیا اس دوران شازیہ بی بی کے دادا نے صحافیوں کو گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شازیہ بی بی کو میرے سگے بیٹے نزیر حسین نے کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر دیا اور موقع پا کر فرار ہو گیا۔ دائرہ دین پناہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق دائرہ دین پناہ کے نواحی علاقہ ٹوپل اڈا کے رہائشی عبدالرشید کی تیس سالہ بیوی س جو کہ گھر اپنے مکان کو لیپا پولا ،کر رہی تھی کہ اسی دوران ننگی تاروں کو چھونے سے بجلی کا جھٹکا لگا جس سے موقع پر جان بحق ہو گئی۔ چوک سرور شہید سے نامہ نگار کے مطابق ملتان روڈ نزد غلہ منڈی چوک سرورشہید پنجاب آٹو الیکٹریشن کا مالک محمد شہزاد آرائیں اپنے کام میں مصروف تھا ۔ شام ساڑھے پانچ بجے اچانک کام کرتے ہوئے کرنٹ لگا اور بے ہوش ہوکر گر گیا۔ اس کے شاگردوں نے شور مچایا نزدیکی دوکانداران اسے فوری طور پر ہسپتال لے گئے۔ لیکن ہسپتال پہنچنے تک محمد شہزاد جاں بحق ہوچکا تھا۔ متوفی کی عمر 37 سال اور غلہ منڈی چوک سرورشہید کے معروف آڑھتی چوہدری محمد شریف کا بیٹا تھا۔ نعش گھر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر