وہی قومیں عزت پاتی ہیں جو اپنے قومی ر ہنماؤ ں کی تقلید کرتی ہیں،صغرا ا صدف

وہی قومیں عزت پاتی ہیں جو اپنے قومی ر ہنماؤ ں کی تقلید کرتی ہیں،صغرا ا صدف

لا ہور (پ ر) ادارہ قومی تشخص کے صدر ڈاکٹر صدف علی نے کہا ہے کہ یومِ آزادی 1947 کے تاریخ ساز موقع پر مسلمانان بر صغیر کا سر فخر سے بلند تھا کیونکہ قائداعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت کی بدولت ہندوؤں سے الگ دنیا کا سب سے بڑا سلامی ملک دو قومی نظریہ کی بنیادپر حاصل کیا گیا تھا جس میں قائداعظم ؒ فلاحی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے ۔انہوں نے قیام پاکستان کے ستر سالہ یومِ آزادی کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ آج آزادی کیلئے بر سرِ پیکار قوموں کی جدوجہدِ آزادی کو دیکھ کرتحریک آزادی کے قارئین کی عزت و عظمت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے انہوں کہا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ہم نے اپنے مخلص قائدین اور لا کھوں افراد کی قربانیوں سے کیا سبق سیکھا ہے ۔ دنیا میں صرف وہی قومیں عزت کی حقدار سمجھی جاتی ہیں جو اپنے قومی تشخص اور اپنے قومی ہنماؤ ں کی تقلید کرتی ہیں ۔

قائداعظم نے حصولِ پاکستان کے بعد لباسِ غلامی نیکٹائی سوٹ کو اسی لئے اتار پھینکا تھا ، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی کا مقصد محض خطہ زمین حاصل کرناہی نہیں ، بلکہ ایک آزاد اسلامی مملکت میں اپنے مسلمان رہنماؤں کی عملی تقلید کرکے قوم کی تربیت اور ایک ترقی یافتہ قوم بناتا تھا ۔تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آپ نے سر زمین پاکستا ن پر پہلا قد م، پہلے گور نر جنرل کا حلف ،پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطا ب ، سٹیٹ بنک کا افتتاح مسلح افواج سے خطاب اور دیگر تمام سرکاری فرائض قومی لباس میں انجام دیکر یہ ثابت کردیا تھا کہ ہم آئندہ انگریزوں کے کلچر کی بجائے اپنے اسلامی اور قومی تشخص کو فروغ دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے قومی قائدین کے فرمودات اور نظریات کو نظر انداز کردیا جس کے نتیجہ میں دوبارہ غلا می کی طرف جانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔اپنی نئی نسل کو اسلامی روایات اور قومی رہنماؤں سے روشناس کرانے کی بجائے اہلِ مغرب کے افکار کی تربیت دے رہے ہیں ۔انگلش میڈیم سکولوں میں انگلش زبان اور مغربی لباس بڑے شوق سے رائج ہے ، جس پر کبھی حکومت نے توجہ نہیں دی ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گندم کی فصل بو کر چاول اُگنے کی اْمید لگائے رکھیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4