200ارب ڈالر کی وطن واپسی کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کروانا ہوگی،ٹیکس ماہرین

200ارب ڈالر کی وطن واپسی کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کروانا ہوگی،ٹیکس ماہرین

لاہور)کامرس رپورٹر) ایف بی آر بیرونِ ملک منتقل کیے گئے 200ارب ڈالر کی واپسی کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائے، ستمبر 2016میں او ای سی ڈی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے انتہائی دانشمندانہ اقدامات کیے جائیں، لندن ، امریکہ ، سوئٹزر لینڈ سمیت دیگر ملکوں میں 200ارب ڈالر سے بھی کئی گُنا زیادہ منتقل کیے گئے پاکستانیوں کی رقوم کی واپسی کیلئے ایف بی آرکو انتہائی شفاف، آسان، اور سادہ طریقہ کار کے ذریعے حکمتِ عملی طے کرنا ہوگی۔گزشتہ روزضیاء حیدر رضوی سابق صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، ذوالفقار خان چیئرمین پاکستان ٹیکس فورم ،رمضان چوہدری سابق وائس چیرمین پاکستان بار کونسل ،راشد لودھی نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ،خواجہ ریاض حسین ایگزیکٹو ممبر پاکستان ٹیکس ایڈوائزر ایسوسی ایشن ،سابق صدر ٹیکس بار حبیب الرحمن زبیری ،سید تنصیر بخاری نائب صدر اسلام آباد ٹیکس بار ،نعیم صدیقی نائب صدر اسلام آباد چیمبر ز،ٹیکس ماہرین، محمد فاروق شیخ، شفیق احمد چاولہ، نعیم خان، عائشہ افتخار قاضی سابق صدر لاہور ٹیکس بار ،غلام فرید سنوترہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ،عابد حفیظ عابد صدر گوجرانوالہ ٹیکس بار ،عبدالعزیز تاجانی صدر کراچی ٹیکس بار و دیگر ٹیکس ماہرین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بیرون ممالک سے انوسٹمنٹ کو واپس لانے کیلئے سیاستدان ،بیورو کریٹس اور تاجروں کو ایمنٹسی سکیم دینا وقت کی ضرورت ہے ،ریٹرن آف لون اکاؤنٹ کھول کر پیسوں کو جمع کریں کیونکہ ورلڈ بنک اور یو این کا پروگرام on disclose income پورے ا ثاثوں کی تفصیلات دے سکتا ہے ،ایمنٹسی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے سرمایہ کاروں کوایمنسٹی سکیم کے بعد میں اثاثوں کو ضبط کر لیا جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اپنے اثاثے جات اور بلیک منی کو چھپانہ سکے ایف بی آر کے جدید آئی سسٹم سے بچنا اب محال ہے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کرپشن اور بلیک منی پر قابو پا سکتے ہیں صرف پولٹیکل ول کی ضرورت ہے ۔ رانا منیر حسین سابق صدر پاکستان ٹیکس بار پاکستان ٹیکس بار کے صدر محسن ندیم و دیگر ٹیکس ماہر قوانین کا کہنا تھا اقامہ رکھنے والوں سے صرف اکاؤنٹس نمبر لے لیے جائے تو تمام بلیک منی کا پتہ چل سکتا ہے احتساب کا نظام سب کیلئے یکساں ہونا چائیے سوئس بنکوں سے پاکستانی عوام کا پیسہ واپس لانے کیلئے اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور انوسٹمنٹ کو واپس لانا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایف بی آر کے چیرمین طارق پاشا وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،وزیر مملکت ہارون اختر ایسے قوانین اور اقدامات یقینی بنائے کہ متحدہ عرب امارات سے اقامہ کے ذریعے جِن پاکستانیوں نے اپنے اربوں ڈالر بیرونِ ممالک منتقل کیے اُن کی واپسی کیلئے ایمنسٹی سکیم کی طے شدہ تاریخ کے بعد تمام اثاثہ جات حکومتِ پاکستان کی تحویل میں دے دیئے جائیں۔

مزید : صفحہ آخر