پشتو زبان کو سکولوں اور کالجوں میں لازمی مضمون کی حیثیت دی جائے،رحمت شاہ

پشتو زبان کو سکولوں اور کالجوں میں لازمی مضمون کی حیثیت دی جائے،رحمت شاہ

بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) پشتو زبان کو سکولوں اور کالجوں میں لازمی مضمون کی حیثیت دی جائے ۔ کوئی بھی زبان شعر و ادب کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ۔ ان خیالا ت کا اظہار پشتو زبان کے صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف شاعر اور ادیب رحمت شاہ سائل نے کوپر تحصیل درگئی میں انتخاب پختوادبی جرگہ کے زیر اہتمام اپنے اعزاز میں منعقدہ مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مشاعرہ میں کثیر تعداد میں چارسدہ ، تخت بھائی ،سوات اور صوابی سمیت مقامی شعراء اور سامعین نے شرکت کی۔صدارت رحمت شاہ سائل نے کی جبکہ پشتو کے ممتاز شاعر عزیز مانیروال ،پروفیسراقبال شاکر اورفضل سبحان عابد اس موقع پرمہمانان خصوصی تھے ۔ اس موقع پر انتخاب پختو ادبی جرگہ ملاکنڈ کے طرف سے رحمت شاہ سائل نے پروفیسر اقبال شاکر ، نیازک خان نیازک ، مکرم خان صبا ،فیض محمد مظلوم ، فضل سبحان عابد ، سید امیر قاسم ہاشمی ، اکمل لیونے،نور الامین یوسفزئی ، انور مانیروال اور جرگہ کے صدر فضل داد فضل کو پشتو ادب میں گرانقدر خدمات پر ایوارڈ دئیے ۔ جبکہ عزیز مانیروال نے رحمت شاہ سائل کو جرگہ کی طرف سے ایوارڈ پیش کیا۔تقریب سے رحمت شاہ سائل، پروفیسر اقبال شاکر ، عزیز مانیروال ، انور مانیروال اور مکرم خان صبا نے خطاب کیا ۔ مقررین نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پشتو زبان کے ہردلعزیز شاعر اور ادیب رحمت شاہ سائل کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازیں ۔ آخر میں ایک غیر طرحی مشاعرہ ہوا جس میں غلام حسین غلام ، وحد اکرم افغان، شیر محمد وفا ، انتخاب عالم ، محمد جنید جنید ،نوشاد تاثیر ، نیازک خان ، عرفان اللہ عرفان ،انور سادہ ، حسین ملنگ ، کامران خان ارمان ، نیازبین یوسفزئی ، عبدلحکیم صدا بہار ، امان خان احرار ، عنایت الرحمان عنایت ، فضل داد فضل ، احسان جلبل ، مبصر مومند ، شمس الحق شمس ، عجب گل عجب ، مشتاق احمد مشتاق ، سید رحمان سائل ، ذاکرخان ،گلزار، جواد شاہد منگا وال ، محمد شاہ صافی ، صدام حسین ، بوستان ، نوید احساس ، اکبر شاکر ، سراج الدین سراج ، فیض محمد مظلوم ، سید امیر قاسم ہاشمی ، مکرم خان صبا ، پروفیسر اقبال شاکر ، عزیز مانیروال ، لعل بادشاہ خیالی ۔ انور منیروال، محمد عالم عالم ، خان عمرزئی اور رحمت شاہ سائل نے اپنا کلام سنایا ۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر