طورخم بارڈر پر سختی سے سینکڑوں مزدوروں کا چولہا بجھ گیا

طورخم بارڈر پر سختی سے سینکڑوں مزدوروں کا چولہا بجھ گیا

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)پاک افغان بارڈر طورخم بارڈر پر سختی کی وجہ سے سینکڑوں دیہاڑی مار مزدور اور ہتھ گاڑیاں چلانے والے فاقوں پر مجبور ہو گئے ہتھ گاڑیوں میں پاکستان سے افغانستان سامان لے جاتے تھے جس سے بچوں کیلئے حلال کی ورزی کماتے تھے لیکن بارڈر پر پابندی اور سختی سے طورخم میں کام کرنے والے دیہاڑی مار اور ہتھ گاڑیاں چلانے والے بے روز گا رہو گئے لنڈیکوتل پر یس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہتھ گاڑیاں چلانے والے دیہاڑی مار مزدورروں تواب ،خطاب ،حضرت عمر،عزت ،گل راج ،گل نظر اور مجیب شنواری نے کہا کہ انکے علاقے میں نہ کوئی فیکٹریاں ہیں اور نہ زراعت ہیں جس سے اپنے بچوں کیلئے روزی کما سکے حکومت روزگار فراہم کریں پھر طورخم بارڈر پر سختی کریں ہزاروں لوگ طورخم میں محنت مزدوری کرکے گزارے کر تے ہیں لیکن اب طورخم بارڈر پرہتھ گاڑیوں میں پاکستان سے افغانستان سامان لے جانے پابندی لگا دی ہیں جس سے وہ بے روز گار ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ تمام بارڈر زپر پاسپورٹ اور ویزہ رکھنے والے لوگوں کیلئے علیحدہ اور مزدوروں کیلئے علیحدہ راستہ ہو تا ہیں وہ روزانہ افغانستان گمرگ آتے جاتے ہیں اور انکے ہتھ گاڑیاں باقاعدہ پولیٹکل انتظامیہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اس لئے مزدوروں دیہاڑی مار مزدوروں اور ہتھ گاڑیاں چلانے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں انہوں نے کہا کہ بارڈر پا سکے رینول فیس پانچ ہزار روپے رکھ دیا ہیں جو انکے دست سے باہر ہیں وہ ہتھ گاڑیاں میں ممنوعہ اشیاء نہیں لے جاتے بلکہ جس مال کو حکومت پاکستان نے اجازت دی ہیں وہ لے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ انکا یہی زریعہ معاش ہیں اور اس کی کمائی سے اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں جبکہ پانی بھی پیسوں سے خریدتے ہیں اس لئے اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ طورخم میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں کیلئے مزید مواقع پیدا کریں نہ کہ اسے بند کریں کیونکہ بند ہو نے ہزاروں لوگ بے روز گا رہو گئے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر