جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56

  

شام کو عمران مجھے اپنے گھر لے گیا اور زبردستی کھانا کھلایا۔ ساڑھے گیارہ بجے میں گھر آگیا۔ رادھا تقریباً بارہ بجے آیا کرتی تھی میں اس سے پہلے پہنچ گیا۔ میں شدت سے رادھا کا منتظر تھا اور خود اپنی حالت پر حیران بھی۔ کچھ دیر لان میں ٹہلتا رہا پھر آکر لاؤنج میں بیٹھ گیا۔ بیڈم روم اسی طرح بند تھا جیسے صائمہ اسے کر گئی تھی۔ وقت گزارنے کے لئے میں نے ٹی وی آن کر لیا لیکن اس میں بھی دل نہ لگا۔میری حالت اس لڑکے جیسے تھی جس سے پہلی بار اس کی محبوبہ نے ملنے کا وعدہ کیا ہو۔ وقت کاٹے نہ کٹ رہا تھا۔ ہر آہٹ پریوں محسوس ہوتاجیسے وہ آگئی ہے۔ دو تین بار میں نے باہر جاکربھی دیکھا پھر خود ہی اپنی حالت پر ہنسی آگئی۔ رادھا کوئی عام عورت تو تھی نہیں کہ اسے دروازے سے آنا تھا۔ وہ تو جہاں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ جب بے چینی حد سے بڑھی تو میں باہر نکل آیا۔ سردی اب بھی تھی لیکن اس میں وہ شدت نہ رہی تھی۔ ہوا رات کو خنک ہو جاتی جبکہ دھوپ کی وجہ دن گرم۔ بارہ بج گئے رادھا نہ آئی۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اب مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہوگئی تھی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر55  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کہیں پھر توکوئی مسئلہ نہیں ہوگیا‘‘ میں اسی سوچ میں الجھا رہا۔ دو بجے کے قریب تو میں تقریباً مایوس ہونے کو تھا۔ میرا خیال تھا وہ اب نہیں آئے گی۔ میں اس شش و پنج میں تھا کہ بیڈ روم میں جاؤں یا نہ جاؤں۔ اچانک میرے کان میں رادھا کی آواز آئی اور میں اچھل پڑا۔

’’پریم ! میں تمہرا انتجار کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی آواز سے خمار ٹپک رہا تھا۔

’’تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’وہیں جہاں میں تمہرے آنے سے پہلے رہتی تھی۔ ترنت اسی کوٹھے میں چلے آؤ جہاں تم اپنی پتنی سنگ سوتے ہو۔‘‘ میں جلدی سے اٹھا اور بیڈ روم کی طر ف چل پڑا۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔

خوابگاہ حجلہ عروسی بنی ہوئی تھی۔ ہر طرف گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں جن کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔ نہایت خوشنما اور خوشبودار پھولوں کی لڑیاں بیڈ کے اردگرد لٹکی ہوئی تھی۔ کمرہ کسی دلہن کی طرح سجاہوا تھا۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں میں ہر رات سویا کرتا لیکن آج اسکی حالت ہی بدلی ہوئی تھی۔ میں دروازے میں کھڑا آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ کمرے کے بیچوں بیچ رادھا کھڑی تھی۔ آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ نرم نازک پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر ملکوتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ سارے جہاں کا حسن اس کے اندر سمٹ آیا تھا۔ سرخ رنگ کی ساڑھی میں وہ شلعہ جوالہ بنی بانہیں پھیلائے میری منتظر تھی۔

’’آؤ پریم!۔۔۔میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ اسکی خمار آلود آواز آئی تو میں یوں اس کی طرف کھنچا چلا گیا جیسے لوہامقناطیس کی طرف۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اسکی سانسیں دہک رہی تھیں۔ نیم باز آنکھوں سے جیسے شراب بہہ رہی تھی۔ ہم ایک دوسرے میں گم ہوگئے۔

’’پریم! آج کی رینا مجھے اتنا پریم کرو کہ میری بیاکل آتما کو شانتی مل جائے۔‘‘ اس کی بہکی ہوئی سرگوشی میرے کانوں میں گونجی۔ میرے پیروں کے نیچے گلاب کی نرم و نازک پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور بانہوں میں رادھا کا ریشمی وجود۔ میں جیسے کوئی خواب دیکھ رہاتھا۔

’’پریم‘‘ وہ خود کومیرے اندر جذب کرتے ہوئے بولی۔

’’ہوں‘‘ میری آواز بھی بہکنے لگی تھی۔

’’پریم! من کرتاہے تمرے شریر میں سما جاؤں‘‘

’’روکا کس نے ہے؟‘‘ میں نے کہا۔ اس کے بعدکیا ہوا۔۔۔قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ لکھ سکے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ اس رات کی روداد بیان کر سکوں۔ بس یوں سمجھءئے ساری رات خوابوں کی وادی میں سفر جاری رہا۔ صبح دم اس نے کہا۔

’’پریم ! میرا انتجار کرنا۔ اگلی پور نماشی کو میں دوبارہ آؤں گی۔‘‘

’’اتنا طویل انتظار؟‘‘ میں نے تڑپ کر رہ گیا۔ میں اپنے ہوش میں کب تھا؟

’’پریم! میں نے تمری رکھشا کا پربند کر دیا ہے۔ میری سکھیاں ہر پل تمرے سنگ رہیں گی۔ یدی کوئی مشکل گھڑی آپڑے تو کیول بنستی کو پکارلینا وہ تمری سہائتا کرنے آجائے گی‘‘ پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔

’’میں بنستی کو تم سے ملوانے کے کارن بلانے لگی ہوں‘‘ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ رادھا نے آنکھیں بند کرکے کسی اجنبی زبان میں کچھ کہا تھوڑی دیر بعد جیسے کمرے میں چاند نکل آیا۔ اچانک میری نظروں کے سامنے ایک نہایت حسین بلاؤز اور گھاگر اپہنے نمودار ہوئی۔ لڑکی کیا تھی پرتی تھی۔ ہاں وہ اتنی ہی حسین تھی کہ اس پر پریوں کا گمان ہوتا تھا۔ اس کے سامنے رادھا کا حسن بھی مانند پڑ گیا۔ میں گنگ رہ گیا۔ پلک جھپکنے کا ہوش بھی نہ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ باندھ کرپہلے رادھا کے آگے جھکی پھر میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔

’’پرنام مہاراج!‘‘ جیسے کسی مندر میں گھنٹیاں بج اٹھیں ہوں۔ اسکی بڑی بڑی حسین و سحر کار آنکھیں مجھے اپنی طرف کھنچ رہی تھیں۔ میں ہر چیز سے بے نیاز اسے دیکھا رہا تھا۔ اتنا خیال بھی نہ رہا کہ رادھا مجھے دیکھ رہی ہے۔ بے اختیار میرے ہاتھ بالکل اسی انداز سے اٹھ گئے اور میرے منہ سے نکلا ’’پرنام دیوی!‘‘

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں )

مزید : رادھا