فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 176

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 176
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 176

  

اس زمانے میں پاکستان کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سربراہ جب لاہور آتے تھے تو ایورنیو سٹوڈیوز بھی انہیں بڑے اہتمام سے دکھایا جاتا تھا۔ فلمی صنعت کے ممتاز افراد اکٹھے ہوتے تھے اور مہمان کی چائے یا کھانے سے تواضع کی جاتی تھی۔ ترکی کے صدر جلال بایار لاہور آئے تو ان کے اعزاز میں آغا جی اے گل نے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ خوبرو ہیرو‘ حسین و طرح دار ہیروئنیں‘ ہدایتکار‘ فلم ساز اور فلموں سے وابستہ دوسرے قابل ذکر اشخاص بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ صدر جلال بایار پاکستان کے ہیروز سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ سنتوش کمار‘ درپن‘ اسلم پرویز‘ سدھیر‘ یوسف خان اور کمال کو دیکھ کر انہوں نے یہ ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے ہیرو یہاں کی ہیروئنوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ ہیرو حضرات کافی عرصے تک اس فقرے کو سند کے طور پر استعمال کرتے اور ہیروئنوں پر فقرے بازی کرتے رہتے تھے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 175 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس تقریب میں شہر کے معززین اور اعلی افسروں کے علاوہ آغا صاحب کی بیگم بھی موجودہ تھیں۔ اختر نواز خان سفید قمیض‘ سیاہ پتلون پہنے‘ سیاہ رنگ کی بو لگائے دیکھ بھال میں مصروف تھے اور نمایاں نظر آ رہے تھے۔ آغا صاحب کی بیگم نے مخاطب کرنے کے لئے ’’شش‘‘ کی آواز نکالی اور انہیں پاس بلایا۔ اختر نواز صاحب کی رگ پٹھانی جوش میں آ گئی۔ غصے کے مارے آگ بگولا ہو گئے۔ اگلے دن آغا گل اپنے ہیڈ آفس میں پہنچے تو ان کی میز پر اختر نواز صاحب کا استعفی پڑا ہوا تھا۔ آغا صاحب خود بھی پٹھان تھے اور بڑے وضع دار آدمی تھے۔ اختر نواز کی خودداری سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے اس موضوع پر اختر نواز صاحب سے بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نہ ہی انہیں منانے کی کوشش کی۔ ان کا استعفٰی تومنظور کر لیا مگر اسی روز انہیں اپنے ہیڈ آفس میں جنرل مینجر کے عہدے پر فائز کر دیا۔ اختر نواز کے لئے ایک علیحدہ کمرے کا بندوبست کیا گیا اور تمام دفتری امور ان کو سونپ دئیے گئے۔ اختر نواز صاحب نے بھی اپنے فرائض بڑی خوبی سے سرانجام دئیے۔ آخری عمر میں چار فٹ اونچی دیوار سے گرنے کی وجہ سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ کافی عرصے ان کی ٹانگ پلاسٹر میں رہی مگر آغا گل کی طرف سے تنخواہ کی ادائیگی میں ناغہ نہیں ہوا۔ اختر نواز صاحب جیسے ہی چلنے پھرنے کے قابل ہوئے‘ چھڑی سنبھال کر پلاسٹر سمیت دفتر میں آنے لگے۔ بعد میں پلاسٹر تو اتر گیا تھا مگر وہ باقاعدگی سے چھڑی لے کر دفتر آتے تھے او یہ معمول زندگی بھر قائم رہا۔ وہ انگریزی خط و کتابت میں مہارت رکھتے تھے۔ کاروباری سوجھ بوجھ کے بھی مالک تھے۔ آخری عمر میں بھی اپنے کمرے میں بیٹھے اخبار کا مطالعہ کرتے یا کھانستے کھنکارتے رہتے۔ دفتر میں حاضری انہوں نے مرتے دم تک نہیں چھوڑی۔ وہ جانتے تھے کہ آغا گل انہیں گھر بیٹھے تنخواہ دیتے رہیں گے اور یہ ان کی پٹھانی غیرت کو گوارا نہ تھا۔ اس لئے آغا صاحب کے کہنے کے باوجود باقاعدگی سے دفتر آتے رہے حالانکہ ان کے فرائض بہت کم ہو گئے تھے۔

اختر نواز صاحب سے ہماری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ نشاط سینما لاہور کے مینجر تھے۔ یہ بہت اچھا سینما تھا۔ بھارتی فلمیں اس زمانے میں سینما گھروں میں دکھائی جاتی تھیں اور یہ سینما فلموں کے انتخاب کے سلسلے میں مشہور تھا۔ ہم صحافی بھی تھے اور فلم بینی کے رسیا بھی۔ سینما ٹکٹ کی قیمت برائے نام تھی مگر کئی بار دو چار روپے بھی جیب میں نہیں ہوتے تھے اور ہم شیر زماں پان فروش سے پیسے ادھار لے کر فلمیں دیکھتے اور دوستوں کو دکھاتے تھے۔ اختر نواز صاحب تعلیم یافتہ اور باشعور آدمی تھے۔ صحافیوں کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے اس لئے ہم سے بہت اخلاق اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ہمارے ساتھ تو ٹکٹ حاصل کرنے میں رعایت کرتے ہی تھے مگر ہمارے ساتھیوں کو بھی ٹکٹ دے دیا کرتے تھے۔ مفت فلم دیکھنے کی نہ کبھی ہم نے کوشش کی اور نہ ہی انہوں نے اس کی پیشکش کی۔ جب وہ ریکس سنیما (کراچی) کے مینجر ہوئے تو وہاں بھی ان سے ملاقاتیں رہیں لیکن ایورنیو سٹوڈیو کے زمانے میں تو ان سے بہت زیادہ ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا۔ وہ خالص اور کھرے پٹھان تھے مگر ہمارے ساتھ مہربانی کرتے تھے اور ہماری ضد سے بھی صرف نظر کر لیتے تھے۔

وہ ایورنیو پکچرز کے ہیڈ آفس پہنچے تو وہاں بھی ان سے ملاقات ہوتی رہی۔ ہم جب بھی آغا صاحب سے ملنے کے لئے ایبٹ روڈ کے اس دفتر میں جاتے تھے تو اختر نواز صاحب سے صاحب سلامت ضرور ہوتی تھی۔

ایک دن ہم وہاں پہنچے تو چپراسی نے بطور خاص پیغام دیا کہ اختر نواز صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کے کمرے میں گئے تو چھڑی لئے بیٹھے تھے اور ایک موٹی سی فائل سامنے کھلی رکھی تھی۔ وہ ایک فلم کا سکرپٹ لکھ رہے تھے اور ہماری رائے لینے کے خواہش مند تھے۔ ہم نے پاکستان میں پہلی بار کسی فلم کا سکرپٹ نہایت مفصّل اور خوبصوتی کے ساتھ انگریزی میں ٹائپ شدہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ظاہر ہے کہ خان صاحب اردو میں تو لکھ نہیں سکتے تھے۔ انگریزی پر انہیں عبور حاصل تھا اس لئے انگریزی میں سکرپٹ لکھ ڈالا‘ یہاں تک کہ مکالمے اور گانوں کے بول تک انگریزی میں تھے۔

ہم نے کہا ’’خان صاحب‘ کیا انگریزی فلم بنا رہے ہیں؟‘‘

بولے ’’شرارت مت کرو‘ یہ فلم اردو میں ہو گی۔‘‘

’’مگر مکالمے تو انگریزی میں ہیں۔‘‘

کہنے لگے ’’آپ کو کس لئے بلایا ہے؟ اس لئے کہ اس مفہوم کو اردو میں لکھ دیں۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’اور گانے؟‘‘

ہنسنے لگے اور کہا ’’تم جانتے ہو کہ گانے شاعر ہی لکھ سکتا ہے۔ میں نے تو صرف سچویشن کے موڈ کے مطابق گانوں کا مفہوم لکھا ہے۔ بول تو شاعر ہی لکھے گا۔‘‘ پھر پوچھا ’’تم شاعری کرتے ہو؟‘‘

ہم نے عرض کیا ’’کرتے تو نہیں۔ آپ کہیں گے تو وہ بھی کر لیں گے۔‘‘

کہنے لگے ’’صرف وہی کام کرنا جو تم جانتے ہو۔‘‘

ہم نے کہا ’’آپ حکم دیں گے تو شاعری بھی سیکھ لیں گے۔‘‘

ہنسنے لگے ’’میں اناڑی شاعر سے گیت نہیں لکھواؤں گا۔‘‘

انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ یہ سکرپٹ مکمل ہو جائے گا تو نظرثانی کرنے کے بعد ہمارے حوالے کر دیں گے۔ مگر وہ سکرپٹ مکمل نہ ہو سکا۔

افسوس کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئی اور اختر نواز صاحب یہ نوکری بھی چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ یہ تو ان کی پرانی عادت تھی اس بار فرق یہ تھا کہ وہ دنیا ہی سے رخصت ہو گئے تھے۔

اختر نواز صاحب کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ اگر کوئی باقاعدہ فلمی ریکارڈ مرتّب کیا جائے تو اختر نواز صاحب کا نام نمایاں ہو گا۔ انہوں نے گریجویشن کرنے کے بعد فلمی صنعت کا رخ کیا تھا۔ حالانکہ بڑی سے بڑی سرکاری ملازمت کر سکتے تھے۔ 1923ء سے 1931ء تک وہ خاموش فلموں میں ہیرو کے طور پر نمودار ہوتے رہے اور وقت کی ممتاز ترین ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا اور بہت مقبولیت حاصل کی۔ مردانہ وجاہت اور دلکشی کے باعث کئی ہیروئنیں ان کی طرف ملتفت بھی ہوئیں مگر خان صاحب کی پٹھانیت راہ میں حائل رہی۔ فلمی ہیروئن کے ساتھ اپنا نام وابستہ کرنا وہ اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے بمبئی کی امپیریل فلم کمپنی سے اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد کولہا پور سینے ٹون نامی فلم ساز ادارے سے وابستہ ہو گئے۔

اختر نواز صاحب نرے ہیرو ہی نہ تھے انہوں نے کئی فلموں کی ہدایتکاری بھی کی تھی۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے۔ نہ ہی باتوں باتوں میں اپنی جوانی کے دنوں کے قصّے سناتے تھے۔ ان کا فلمی پس منظر جاننے کے بعد ہم نے بارہا انہیں کریدا اور اس زمانے کے واقعات بیان کرنے پر اکسایا مگر وہ ہنس کر خاموش ہو جاتے تھے۔ ثناء اﷲ خان گنڈاپور سے ان کی صاحب زادی ہما کی شادی ہوئی تو ہم بھی خاص طور پر اس میں مدعو تھے۔ ثنا اﷲ خان ہمارے گہرے دوست تھے مگر اختر نواز صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ یاد رکھو‘ تم لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں شرکت کرو گے۔

سمن آباد میں شادی سادگی سے ہوئی البتہ کھانے پر بہت زور دیا گیا تھا۔ فلمی صنعت کے قریباً سبھی قابل ذکر افراد موجود تھے۔

ثناء اﷲ خان نے دلہا ہونے کے باوجود ہمیں یاد دلایا ’’آفاقی تم میری طرف سے مہمان ہو‘ ٹھیک ہے نا؟‘‘

’’بالکل‘‘ ہم نے جواب دیا۔

اختر نواز صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لوگوں سے کہا ’’آفاقی میری طرف سے شریک ہوا ہے۔ یہ میرا‘ ثناء اﷲ سے پہلے کا واقف ہے۔ کیوں نا؟‘‘ انہوں نے ہم سے تصدیق چاہی۔

دو مُلاؤں میں مرغی حرام والی کہاوت تو آپ نے بھی سنی ہو گی مگر دو پٹھانوں میں مہمان کی مشکل کا علم نہ ہو گا۔ اختر نواز صاحب اعلٰی تعلیم یافتہ پٹھان تھے اس لئے روشن خیال بھی تھے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا مگر لڑکیوں کو انہوں نے اعلی تعلیم دلوائی تھی۔ ثناء اﷲ خان گنڈاپور کی بیگم ہما بھی ایم اے پاس ہیں۔ بعد میں انہوں نے بنک میں ملازمت کر لی۔ ہم نے انہیں روز اوّل ہی بتا دیا تھا کہ آپ کے بینک میں ایک اکاؤنٹ نہیں کھولیں گے کیونکہ اس کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ایک تو خاتون اوپر سے پٹھان۔ جب وہ بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہو گئیں تو ایک دن ہم سے کہا ’’اب تو اپنا اکاؤنٹ ہمارے بینک میں کھول سکتے ہیں۔ دیکھو تو اتنے عرصے کے بعد بھی یہ بینک چل رہا ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’بھابھی بینک اور دل کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ جانے کب بند ہو جائے۔‘‘

ہم اپنی فلم ’’سزا‘‘ کی روداد بیان کر چکے ہیں۔ یہ ہماری بنائی ہوئی تیسری فلم تھی۔ اصولاً تو ہمیں پہلی فلم سے بسم اﷲ کرنی چاہئیے مگر پہلے عرض کر چکے ہیں کہ یہ داستان ترتیب وار بیان نہیں کی جا رہی ہے اور شاید یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ واقعات‘ خیالات اور شخصیات کا اس قدر ہجوم ہے کہ دماغ میں افراتفری کا عالم ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے چھوڑیں اور کہاں سے شروع کریں۔ بات میں سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور داستان کی داستان بھی جاری رہتی ہے۔ پھر بھی مناسب ہے کہ ہم اپنی پہلی فلم کی کہانی بھی بیان کر دیں۔ یہ فلم سازی میں ہماری پہلی پہلی کوشش تھی اس لئے اس میں مشکلات بھی زیادہ پیش آئی تھیں۔ بطور فلم ساز ہماری اوّلین فلم ’’کنیز‘‘ تھی۔ مگر سب سے پہلے تو یہ سنئے کہ آخر ہم نے فلم سازی کا آغاز کیوں کیا بلکہ یہ کہ اچھی خاصی صحافت چھوڑ کر فلم کی وادی میں کیوں نکل گئے؟

جب 1958ء میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا تو چند روز کے اندر ہی ہمیں بدلے ہوئے حالات اور ناساز گار ماحول کا احساس ہو گیا تھا۔ اس ضمن میں کچھ واقعات ہم پہلے تحریر بھی کر چکے ہیں۔ ہم نے صحافت کا پیشہ اختیار ہی اس لئے کیا تھا کہ یہ ہمارا پسندیدہ شعبہ تھا اور یہاں ہمیں عزت نفس اور ہر طرح کی آزادی حاصل تھی مگر مارشل لاء لگتے ہی ہمیں جمہوریت اور مارشل لا کا فرق معلوم ہو گیا۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ کافی وقت گزارنے کے بعد اب ہمیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ جمہوریت میں بھی مارشل لا کے طور طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے مدیر اور اپنے سابق باس جناب حمید نظامی صاحب سے ہماری مارشل لا کا اعلان ہوتے ہی ملاقات ہوئی تھی۔ ہم خاص طور پر گھبرائے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے اس شام اپنی ٹمپل روڈ والی کوٹھی کے سادہ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر حالات پر جو تبصرہ فرمایا تھا وہ آج بھی ہمیں لفظ بہ لفظ یاد ہے اور ہمیشہ یاد رہے گا۔ اس روز وہ بے حد دل برداشتہ اور مغموم تھے اور خلاف عادت سوچ میں گم تھے۔

ہم نے پوچھا ’’نظامی صاحب۔ آپ کے خیال میں اب کیا ہو گا؟‘‘

نظامی صاحب نے کہا ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں پاکستان بھی مشرق وسطیٰ کا ایک ملک بن کر نہ رہ جائے جہاں آئے دن فوجی انقلابات برپا ہوتے رہتے ہیں اور حکومتوں کے تختے الٹ جاتے ہیں‘‘ پھر انہوں نے انگریزی میں کہا۔

"This is the beginning of the end"

مزید ستم یہ ہوا کہ ان ہی دنوں ہماری ’’آفاق‘‘ کے چیئرمین صاحب سے ٹیلی فون پر جھڑپ ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ یہاں کے حالات سے مطمئن نہیں تو بخوشی نوکری چھوڑ کر چلے جائیں۔

ہم نے عرض کیا ’’ہم آج ہی چلے جائیں گے بشرطیکہ آپ ہمارے واجبات ادا کر دیں۔‘‘

ظہور عالم شہید صاحب اور دوسرے ساتھیوں نے بہت سمجھایا بجھایا مگر ہم نے صرف ’’آفاق‘‘ ہی سے نہیں بلکہ صحافت ہی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 177 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ