وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر38

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر38
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر38

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہندو اور سکھ رستم دہلی منگل سنگھ کی نذر اتار کر اسے تانگے پر سوار کر کے لائے تھے۔ اس روز ہندوؤں اور سکھوں کا اتحاد بھی ایک عجیب مثال تھی۔ چونکہ دونوں کا مقصد ایک تھا لہٰذا دونوں قوموں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف میدان مارنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔اس ضمن میں اپنے پہلوان کی تعریف اور برتری کا نت نیا اظہار پیش کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا جوش بھی دیدنی تھا۔ انہیں یقین تھا کہ رستم زماں گاماں کا شاگرد عزیز جیجا گھیئے والا انشاء اللہ سرخرو ہو گا اور منگل سنگھ کو اس کی بڑھک کا ایسا جواب دے گا کہ آئندہ کسی بھی غیر مسلم پہلوان کو یوں مسلمانوں کی بے عزتی کرنے کی جرأت نہ پڑے گی۔

دنگل میں گھمسان تھا۔ بندے پر بندہ چڑھا ہوا تھا۔ پولیس مسلمانوں کو ہندو سکھوں کی اکھاڑہ گاہ سے دور بیٹھنے پر مجبور کر رہی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں کسی پہلوان کی جیت کے نتیجے میں اس کے مخالف اسے مار ہی نہ دیں۔ وقت مقررہ پر دونوں پہلوان اکھاڑے کو سلامی دینے کے بعد آمنے سامنے ہو گئے۔ منگل سنگھ نے منصف کے پرے ہٹتے ہی جیجا کو دھوبی پاٹ مارا۔ جیجا کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا اور وہ اکھاڑے کے کنارے جا پڑا مگر حیرت انگیز طور پر اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ منگل سنگھ نے اسے مکمل کھڑے ہونے کا موقع نہ دیا اور ایک زوردار کسوٹا دے مارا۔ جیجا کی آنکھوں تلے اندھیرا آ گیا اور وہ دھڑام سے اکھاڑے میں گر گیا۔ جیجا کا یوں دوبارہ گرنا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں نے نعرے مار مار کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ان کا ہر نعرہ طعن و تشنیع سے بھرپور تھا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اوئے مسلیو! اے کی بلیل لے آئے او‘‘۔

’واگرو دی، ساڈا منگل سنگھ شیر جے، اوئے ساڈے شیر نے شیرنی ماں دا دودھ پیتا جے! ایدھے جیا دھرتی نے کسے ماں نے پت نئیں جمیا؟‘‘

مسلمانوں کے سر ندامت سے جھکنے لگے۔ انہیں امید ہو چکی تھی کہ جیجا منگل سنگھ کی مزید تاب نہ لا سکے گا۔ منگل سنگھ نے مسلمانوں کو مزید شرمسار کرنے کیلئے گرے ہوئے جیجا پر سواری ڈالی اور اسے خوب رگیدا۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ جیجا مکمل طور پر جواب دے چکا ہے تو اس نے داؤ بدلا جیجا کی گردن پر گوڈا رکھ کر اسے الٹ دیا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ کر ببلیاں مارنے لگا۔ منصف نے منگل سنگھ کو جیجا سے اٹھنے کیلئے کہا۔

’’منگل سنگھ! جیجا گر چکا ہے لہٰذا اسے چھوڑ دو‘‘۔

سانہوں اج سارے چا تے پورے کر لینے دو بادشاہو‘‘۔ منگل سنگھ نے ببلی ماری اور کہا۔ ’’اوئے مسلیو جلدی نال میرے واسطے دوسرا بکرا لے کر آؤ۔ میری اجے بھک نئیں گئی‘‘۔

منگل سنگھ جیجا کی چھاتی سے اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔مسلمانوں کو اس کے لاف زنی کی بجائے اب جیجا کی فکر پڑ گئی تھی، جو بے سدھ اکھاڑے میں منگل سنگھ کے نیچے تھا۔ انہوں نے ٹھیکیداروں سے کہا۔

’’جیجا کو اس سکھ سے بچاؤ کہیں اسے مار ہی نہ ڈالے‘‘۔

اسی دوران حمیدا پہلوان اکھاڑے کی طرف بڑھا۔ اس کے تیور بڑے خطرناک تھے۔ وہ جارحانہ انداز میں منگل سنگھ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

’’منگل سنگھ تیری خیر اسی میں ہے کہ جیجا کو چھوڑ کر پرے ہٹ جا۔ جب وہ گر چکا ہے تو تجھے یوں اس کو رسوا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔

منگل سنگھ حمیدے سے آشنا تھا۔ اس نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا۔ ’’اوئے جا چلا جا۔ بڑا آیا توں حمایتی۔ تیرے وچ اینی ہمت ہندی تے آپ ساڈے مقابلہ تے نہ آوندا!‘‘

’’منگل سنگھ!‘‘ حمیدا پہلوان نے گرج کر کہا۔ ’’ہمیں صرف پہلوانی کے آداب نے قابو میں رکھا ہوا ہے ورنہ خدا کی قسم جس طرح تیری زبان چل رہی ہے اسے اسی رفتار سے نہ کاٹ دیتا تو میرا نام بھی حمیدا نہیں‘‘۔

منگل سنگھ جیجا کے اوپر سے اٹھا اور حمیدے کے گریباں تک پہنچنے لگا۔ اسی اثناء میں ٹھیکیدار اور انتظامیہ درمیان میں آ گئی۔

’’اوئے ایس نوں کہو میرے نال کشتی لڑے‘‘۔ منگل سنگھ نے حمیدے کو للکارا۔ ’’تے جے کراے میرے نال کشتی نہ لڑیا تے میں سمجھا گا کہ اینے شیرانی ماں دا دودھ نہیں پیتا‘‘۔

’’مجھے تمہارا چیلنج قبول ہے منگل سنگھ! خدا کی قسم میں تجھے نتھ ڈال دوں گا‘‘۔ حمیدا نے جواب دیا اور یوں ان دونوں کے درمیان کشتی باندھ دی گئی جو ٹھیک سات روز بعد اسی مقام پر ہونا قرار پائی۔

حمیدا پہلوان نے جیجا گھیئے والے کی خوب گت بنائی۔

’’اوئے نامراد! جب توں لڑنے کے قابل نہیں تھا تو کیوں اسے للکارا تھا‘‘۔

’’پہلوان جی! ایمان بھی تو کوئی چیز ہے‘‘ جیجا نے کہا۔

’’ایمان دے پتر! تو جو حرکتیں کرتا ہے وہ ایمان کے مطابق ہیں۔ تجھ میں تو اپنے استاد کے نام کی لاج رکھنے کی ہمت نہیں رہی اور ساری پہلوانی کو ایک طوائف کی نذر کر دیا ہے۔ اس طرح سمجھتا ہے تو نے بڑا اہم کام کیا ہے۔ تجھے عقل سے کام لینا چاہئے تھا۔ پہلے خود کو تیار کرتا پھر مقابلے پر آتا‘‘۔

’’پہلوان جی! اگر آپ اکھاڑے میں نہ آتے تو میں یقیناً مشکل سنگھ کا برا حال کر دیتا‘‘۔ جیجا نے کہا۔

’’بکواس نہ کر! تیرا نشہ ابھی تک نہیں اترا۔ تو تو اس سکھ دے پتر کے نیچے مرے چوہے کی طرف پڑا ہوا تھا‘‘۔ حمیدے نے اسے طنز کیا۔ ’’جیجا لنگوٹ پھاڑ دے اور طوائفوں کے کوٹھے پر جا کرموتیے کے ہار بیچا کر۔پہلوانی اب تیرے بس میں نہیں رہی‘‘۔ جیجا خجالت آمیز لہجہ میں بولا۔ ’’پہلوان جی! بندہ بشر سے غلطی تو ہو ہی جاتی ہے۔ دیکھیں ناں اپنے چھوٹے استاد امام بخش حضور بھی تو گونگے سے گر گئے تھے۔۔۔ کچھ عادتیں تو ان کی بھی بگڑ گئی تھیں‘‘۔

’’پھر تو نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ بھاجی نے اپنی رسوائی کا داغ کیسے دھویا تھا۔اگر تو اپنی غلطی اور شکست کو بھاجی کی مثال دے کر دلیل نباہتا ہے تو پھر ان کے نقش قدم پر چل پڑ۔‘‘

جیجا گھیئے والا جس رسوا کن انداز میں گرا تھا، اس سے مسلمانوں کی گردنیں جھک گئی تھیں مگر عین وقت پر حمیدا پہلوان نے فتح اور وقار کی ایک نئی کرن روشن کر دی تھی۔مسلمانوں نے جیجا کی خوب خبرلی تھی۔ وہ سب جانتے تھے کہ رستم زماں کا یہ شاگرد اتنا بڑا شاہ زور تھا کہ منگل سنگھ جیسے کئی شاہ زوروں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا کجا آج اسے خود منگل سنگھ کے ہاتھوں ذلت اٹھانی پڑی تھی۔ جیجا حقیقتاً اتنا طاقتور اور فن شناس تھا کہ اس کا کسوٹا اور انی بڑے سے بڑا پہلوان بھی برداشت نہ کرپاتا تھا۔ اس کا ماضی کبھی اتناداغدار نہ ہوتا اگر وہ ایک طوائف کی زلف کا اسیر نہ ہو جاتا۔ اس نے ایک مدت بعد غیرت ایمانی کے ہاتھوں منگل سنگھ کی للکار کا جواب دیا تھا مگر اس سے قبل وہ جتنی کشتیاں لڑا، ہمیشہ فاتح رہا۔رستم زماں گاماں کو اپنا یہ شاگرد بے حد عزیز تھا۔جیجا بھی استاد کی ناموس پر مرٹنے والا تھا۔ یہ اسی کا دبدبہ تھا کہ جب بھی کوئی گاماں جی طرف بڑھتا جیجا اسے راستے میں روک لیتا اور گامے کی ڈھال بن کر رستم زماں کو ناقابل تسخیر بنا دیتا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں