ریلی رنگ لائے گی یا پھنسوائے گی؟

ریلی رنگ لائے گی یا پھنسوائے گی؟
ریلی رنگ لائے گی یا پھنسوائے گی؟

  

یہ ریلی کس کے خلاف ہے۔ سازش کون کر رہا ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو مانتے ہیں مگر قبول نہیں۔ سیاسی مخالفین کو اور کنٹینر کا طعنہ لیکن خود کنٹینر پر چڑھ گئے ۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کوعدلیہ کے ذریعے نکلوانے والے میاں نواز شریف خود عدلیہ کا احترام بھول گئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں دوسروں کو جمہوریت کے آداب سکھانے والے میاں صاحب خود درس جمہوریت بھی بھول گئے۔ عدالت عظمٰی میں کمزور مقدمے کے فریق اوّل احترام عدلیہ واقعی بھول گئے۔ لگتا ہے میاں محمد نواز شریف اور ان کے ٹیم ملک کے اعلیٰ اداروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں انہی کا سکہ چلتا ہے۔ نواز شریف اور اس کی موجود حکومت اس وقت شدید پھنسے ہوئے ہیں ، ان کی حرکت انہیں مزید پھنسانے میں کردار ادا کرے گی۔اقتدار تو چیز ہی کچھ ایسی ہے ، جو ایک دفعہ چین گیا بندہ آخری وقت تک ہاتھ پاوں مارنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے ۔ کیونکہ میاں نواز شریف کو یقین ہے کہ اب وہ کسی بھی طرح عدالتی مقدمات ، نیب ریفرنس اور شہبازشریف حدیبیہ پیپر کیس اور سب سے بڑھ کر عوامی تحریک کے چودہ معصوم اور بے گناہ کارکنوں کے دن دھاڑے قتل کے مقدمے سے بچنا مشکل ہے۔ چونکہ پاناما سے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور حدیبیہ پیپر کیس زیادہ سخت ہیں۔ ان ہر دو مقدمات کے حوالے سے کافی ثبوت موجود ہیں۔عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کینیڈا سے پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ وہ پر عزم ہیں کہ شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے مقدمے سے ہی جیل جائیں گے۔ جو مقدمات کا میاں نواز شریف سامنا کرنے جارہے ہیں ، وہ کافی ہیں۔ اب اگر میاں شہبازشریف پر سانحہ ماڈل ٹاؤن اور حدیبیہ کے مقدمہ عدالت کی جانب سے درج ہوں۔ تو پھر یہ اللہ کے لاٹھی اور مقتولین کا خون ہوگا۔

ریاست کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی طاقتور شہنشاہ وقت اور دو تہائی اکثریت کے دعویٰ دار کے خلاف قانون حرکت میں آیا ہے۔ اس ملک میں قانون ہمیشہ نواز شریف جیسے لوگوں کے جیب میں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے تصوّر اور وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ حاکم الوقت کو کسی دن اس طرح قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ پہلی دفعہ عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ عوام کو یقین ہونے لگا ہے کہ قانون صرف عام آدمی کے لئے نہیں ہے بلکہ وقت کے حاکم سے بھی باز پرس کی جاتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف صاحب آپ کو تین دفعہ اس ملک پر حق حکمرانی کا اچھا خاصا موقع ملا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی قانون کی بالادستی کو قبول نہیں کیا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ قانون ہو مگر کتابوں میں۔ قانون ہو ، عدالتیں ہوں مگر عام آدمی کے لئے۔ میاں صاحب کاش تمہیں یاد ہو افتخار احمد چوہدری کے معزولی اور عدلیہ بحالی کی تحریک کے دوران آپ کتنے سرگرم عمل تھے۔ اب سب کو معلوم ہے کہ آپ اس وقت بھی آزاد عدلیہ نہیں چاہتے تھے لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے آپ اس پورے مومنٹ میں حصہ دار رہے۔ وکلا تحریک کے ایک بھی وکیل رہنما آج آپ کے ساتھ نہیں۔ سوائے عاصمہ جہانگیر کے ۔ آپ جیسے سیاستدانوں کی وجہ سے عاصمہ جہانگیر کی شخصیت متاثر ہو رہی ہے۔ اب لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ تمہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے وہ چہرے نظر نہیں آتی۔ آپ تو انسانی حقوق کی دعویٰ دار ہو۔ نواز شریف کی غلط وقت میں مدد کرنے والے سیاستدان ہوں ، یا وکیل رہنما وہ عوام کی نظروں سے نہیں بچ پائیں گے۔ نواز شریف جتنی بڑی ریلی لیکر اور جس حد تک دیر سے لاہور پہنچیں گے اتنا ہی زیادہ تنقید کا نشانہ بن جائیں گے۔ کیونکہ اس وقت عام آدمی کا سوال ایک ہے کہ میاں نواز شریف کیس کے خلاف ریلی نکال رہے ہیں۔ اور اس وقت یہ سب کچھ کر رہے ہیں جب ہماری فوج ملک کے سرحدوں پر ردالفساد لڑ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ