’’اللہ کی لعنت اُن کے چہروں پر ۔۔۔۔۔۔‘‘ صدرپاکستان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا

’’اللہ کی لعنت اُن کے چہروں پر ۔۔۔۔۔۔‘‘ صدرپاکستان نے تو پہلے ہی کہہ دیا ...
’’اللہ کی لعنت اُن کے چہروں پر ۔۔۔۔۔۔‘‘ صدرپاکستان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا

  

بالآخر سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا اور یوں طویل عرصے سے پانامہ لیکس کی بنیاد پر اٹھائی گئی تحریک مختلف مراحل طے کرتی ہوئی جزوی طو رپر اپنے انجام تک پہنچ گئی۔ پانچ ججوں پر مشتمل بنچ میں سے دو سینئر ترین معزز جج صاحبان نے پہلے منقسم فیصلے میں آئین کی شق 62اور63کی رو سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ باقی ماندہ تین فاضل جج حضرات نے مزید تحقیقات کو ضروری سمجھا ۔ ان کے اکثریتی فیصلے کی رو سے ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم .....جے آئی ٹی..... تشکیل دی گئی اور اسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے لئے کہا گیا۔ ان تینوں فاضل ججز پر مشتمل بنچ کو اس ٹیم کی کارکردگی پر نظر بھی رکھنا تھی اور جے آئی ٹی نے ان کے سامنے ہر پندرہ روز بعد اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی اور ایسا ہی ہوا۔

رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعطیلات کے باوجود کمیٹی نے بڑی محنت اور تن دہی سے تفویض کردہ کام کو سرانجام دیا اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ مدت کے مطابق تقریباً 64روز میں ، اپنی مکمل رپورٹ 10جولائی2017ء کو پیش کردی۔ تین رکنی بنچ نے اس رپورٹ کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں سبھی فریقوں کے دلائل تفصیل سے سنے۔ 21جولائی کو دلائل مکمل ہوتے ہی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ایک ہفتے تک سوچ بچار ، غور و خوض اور فیصلہ قلم بند کر لینے کے بعد پانچ رکنی اصل بنچ نے جمعۃ المبارک 28جولائی کو متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے ، ان کے تینوں بچوں (حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز)، داماد کیپٹن (ر) صفدر ، وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف چھ ہفتوں کے اندر ریفرنس تیار کرکے احتساب عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں چھ ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند کیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن اور ان کی غیر موجودگی میں جسٹس اعجاز افضل خاں کو فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کی ذمہ داری تفویض کی۔

عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کو بلاشبہ تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی مختلف حکم رانوں کے خلاف مقدمات چلے اور انہیں سزائیں سنائی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خاں کے قتل کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا لیکن اقتدار چھن جانے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا سنائی گئی اور اس کے نتیجے میں انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ خود میاں محمد نواز شریف کو اس سے قبل طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی اور پھر غیر معمولی حالات میں کی گئی اپیل میں اسے ختم بھی کر دیا گیا۔ لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی بھی مقتدر حکم ران کو کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمے میں آئین کی شق نمبر62اور 63کی روسے نااہل قرار دیا گیا ہو۔

اس امر میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں کرپشن ایک خوف ناک کینسر کی طرح ہمارے جسد قومی کے ایک ایک عضو اور ایک ایک رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان صرف بدحال ہی نہیں ہوا بلکہ وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ایک چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ ترین ایوانوں میں فروکش بے شمار لوگ کرپشن کے دھندے میں سر تا پاؤں ملوث ہیں، الّا ماشاء اللہ۔ گزشتہ دورِ حکومت ..... ن لیگ کی حکومت سے معاً پہلے ..... میں مبینہ طور پر ایوانِ صدر کرپشن اور بدعنوانی کا سب سے بڑا گڑھ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 2013ء کے انتخابات میں جن مسائل کو سب سے زیادہ زیر بحث لایا گیا، کرپشن ان میں سرِفہرست تھی۔ن لیگ کے ہی بڑے قائدین نے انتخابی مہم کے دوران تقریباً ہر جلسے میں زرداری کا پیٹ چاک کرکے لوٹی ہوئی دولت عوام کو واپس لوٹانے اور زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے وعدے کئے تھے۔ یہ وعدے تو پورے نہ ہوئے لیکن پانامہ لیکس نے وعدے نہ پورے کرنے والوں کو اپنے شکنجے میں کس لیا اور نتیجتاً وہ نااہل ہو کر ایوانِ اقتدار سے رخصت ہو چکے ہیں۔

ہمیں یہ کہنے میں بھی ذرہ بھر تامل نہیں ہے کہ کرپشن کے الزامات صرف شریف فیملی تک ہی محدود نہیں ہیں ۔ اس ملک کے بیورو کریٹس ، جنرلز، سیاست دانوں، صحافیوں اور دیگر طبقات میں بھی ایسے اَن گنت لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے، اس کی معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کیا ہے، ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت کے انبار بیرونِ ملک منتقل کئے ہیں، اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے اندرون و بیرونِ ملک عظیم الشان محلات بنائے ہیں، اور نتیجتاً یہاں کے کروڑوں عوام کو مفلوک الحال کیا ہے، ان کے لئے نانِ جویں کے حصول کو بھی مشکل تر بنایا ہے، اس ملک کوقرضوں کے جال میں جکڑ کر عوام کو مہنگائی کے عفریت کے سامنے بے دست و پا پھینکا ہے۔ خود ان کے لئے اس ملک میں بھی اور دیگر ممالک میں بھی دنیا کی ہر چیز ، ہر سہولت اور ہر آسائش میسر ہے اور یہاں کے باسیوں کو نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے، نہ انہیں پیٹ بھر کر کھانے کو غذا ملتی ہے۔ہسپتالوں میں ان کے لئے علاج معالجے کی مناسب سہولتیں موجود ہیں اور نہ ہی انہیں معیاری تعلیم کے حصول کے مواقع حاصل ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان شعبہ جات اور بنیادی ضروریات کے لئے جو فنڈز مختص کئے جاتے ہیں ، ایک محتاط اندازے کے مطابق کم وبیش ان کا نصف حصہ کمیشن اور کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ مقتدر اور بااختیار لوگ ان رقوم پر بھی ڈاکہ ڈالنے سے باز نہیں آتے ۔ وہ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ بھی شیر مادر سمجھ کر ہضم کر جاتے ہیں ۔

اس خوف ناک اور الم ناک صورت حال میں اس امر کی شدید ضرورت تھی کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک زور دار تحریک چلائی جاتی ۔ اقتدار میں آنے سے پہلے خود ن لیگ کی قیادت بھی اسی نظریے کی علم بردار تھی، اور مالی کرپشن کے خاتمے کے لئے اس کی آتش بیانی کسی آتش فشاں پہاڑ سے ابلتے ہوئے لاوے سے کم نہ تھی ۔ اقتدار کی سنگھا سن پر فروکش ہونے کے بعد ن لیگ کی قیادت کا ابلتا ہوا یہ لاوا درجہ انجماد سے دسیوں ڈگری نیچے کے ماحول میں اترتے ہوئے کسی بوسیدہ سی لحد میں مدفون ہوگیا ، لیکن کرپشن کے مسئلہ کو لحد میں نہ اتارا جاسکا ۔یہ کسی نہ کسی طور زندہ رہا ، پانامہ لیکس نے اس کے خاتمے کی جدوجہد کرنے والوں کو ولولۂ تازہ دیا ۔ یہ تائید غیبی تھی ان لوگوں کے لئے جو پاکستان سے مالیاتی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے بے تاب و

بے قرار تھے ۔صدر ممنون حسین کے بقول پانامہ لیکس والا معاملہ تو قدرت کی طرف سے اٹھایا ہے ، ان کے الفاظ یہ تھے:

’’ کرپٹ لوگوں میں بھی مختلف درجات ہیں ۔ کوئی بہت زیادہ کرپٹ ہے ، کوئی درمیانہ کرپٹ ہے ، کوئی تو ایکسٹرا آرڈینری (Extra Ordinary) کرپٹ ہے۔ یہ جو ایکسٹرا آرڈینری کرپٹ ہے ، کبھی آپ دیکھئے گا ، منحوس چہرے ہوتے ہیں منحوس۔ چہرے پر نحوست ٹپک رہی ہوتی ہے ۔ اللہ کی لعنت ان کے چہروں پر موجود ہوتی ہے ، جو نظر آتے ہیں ، کہ یہ کوئی بہت بڑا کرپٹ آدمی ہے ۔ کبھی غور کیجئے گا اس بات پر۔ یہ جو پانامہ لیکس ہے، جو آپ نے دیکھا ہے نا، یہ معاملہ جو اٹھا ہے ، یہ بھی قدرت کی طرف سے اٹھا ہے ۔ اور اس کی وجہ سے پتہ نہیں کون کون سے معاملات اٹھیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت سارے جو لوگ ہیں ، جو اپنے بڑے اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں کہ صاحب! ہم نے تو یہ کرلیا ، وہ کرلیا ، ان کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔ آپ دیکھئے گا کہ کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے ۔ یہ بات میری یاد رکھیئے گا ۔ کبھی کوئی واقعہ دو ماہ کے بعد ہوگا ، کوئی چار ماہ کے بعد ہوگا ، کوئی چھ ماہ کے بعد ہوگا ، کوئی ایک سال کے بعد ہوگا ۔ یہ اللہ کا ایک نظام ہے۔‘‘

کیا الہامی کلمات ہیں یہ! جو حکومت پانامہ لیکس کو ردی کے ٹکڑے قرار دیتی رہی، ان میں موجود انکشافات کو پاکستان اور ن لیگ کی قیادت کے خلاف عالمی سازش سے تعبیر کرتی رہی ، پانامہ لیکس میں مذکورہ افراد کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے والوں کو ملک میں ہونے والی ’’بے مثال ترقی‘‘ اور سی پیک منصوبے کے دشمن گردانتی رہی ، اسی حکومت کے صدر پانامہ لیکس کو’’قدرت کی طرف سے اٹھا ہوا معاملہ‘‘اور جلد یا بدیر اس کے شکنجے میں کسے جانے کے عمل کو ’’قدرت کا نظام‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

قدرت کی طرف سے اٹھا ہو ایہ معاملہ ، اسی کے نظام کے تحت آگے بڑھا۔ اس کے حوالے سے سے کی جانے والی جدوجہد مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی قانونی و آئینی ذریعے سے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے ۔ جن جماعتوں اور افراد نے اس جدوجہد کو جس بھی انداز میں آگے بڑھایا ، وہ سب لائق تحسین ہیں ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے اس کے لئے عملی جدوجہد کی اور عوامی سطح پر اس مسئلے کو زندہ رکھا۔ تحریک انصاف کا کردار بلاشبہ نہ صرف سب سے فعال رہا بلکہ بسا اوقات اس پر ہی سب کچھ کرنے کا گمان ہوتا رہا ۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے طرز تخاطب ، اندازِ گفتگو اور ردِ عمل کی شدت پر کئی ایک سنجیدہ تحفظات کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنا ناانصافی ہوگی کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے تمام تر تابڑ توڑ حملوں کے باوجود کرپشن کے خلاف جدوجہد کو ماند نہیں پڑنے دیا ۔ جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لگایا اور اپنی بساط کے مطابق میدانِ عمل میں متحرک وفعال رہی ۔ ان دونوں جماعتوں کے علاوہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ یقینی طور پر لائق صد ستائش ہے کہ اس نے مقتدر اشرافیہ کے ایک طبقے کو قانون کی گرفت میں لانے اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے جرأت کا نیا باب رقم کیا ۔ حکم ران ، موجودہ ہوں یا سابق ، ان پر چلنے والے مقدمات کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے امیدوں کے چراغ ٹمٹماتے ہوئے بھی دکھلائی نہیں دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ رکنی بنچ کا منقسم فیصلہ 3-2 کی صورت میں آیا تو یہ محسوس ہورہاتھا کہ شائد اس ملک میں کبھی کسی مقتدر پر قانون کے اطلاق کا خواب دیکھنا دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہ ہوگا ۔ تین رکنی اکثریتی فیصلے کی رو سے جب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا گیا تو ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں ’’خیر کی توقع‘‘ کم کم ہی تھی ، لیکن عدالت عظمیٰ کی براہ راست نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تمام تر دباؤ ، دھمکیوں ، دھونس اور الزامات کی بوچھاڑ میں جس جرأت وشجاعت ، پامردی و استقلال ، حکمت و بصیرت اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ کام کیا، وہ بلاشبہ ہماری تاریخ کا انتہائی تابناک اور روشن باب ہے ۔ پوری قوم کو جے آئی ٹی کے سبھی ارکان کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ ہماری آنے والی نسلیں یقیناًان کی احسان مند رہیں گی ، انہوں نے یہ دکھلا دیا کہ کس طرح ماتحت کام کرتے اور تمام تر دباؤکو سہتے ہوئے بھی حق وصداقت کا علم سر بلند کیا جاسکتا ہے ۔ اداروں کے استحکام اور ان کے بااختیار ہونے اور رہنے کی طرف یہ ایک بہت بڑا اقدام ثابت ہوگا ۔ اے کاش! ہماری انتظامیہ میں ایسے جرأت مند وغیور اور قانون کی پاس داری کرنے والے افراد بکثرت ہوں جو ظفر حجازی کی بجائے جے آئی ٹی کے دبنگ ارکان ۔۔۔ بالخصوص اس میں سویلین اداروں کے نمائندوں۔۔۔ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور اپنے سے بالاتر آفیسر ز اور حکم رانوں کے غیر آئینی و غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ہیرا پھیری کی ہر قسم کی کوشش کو ناممکن بنا دیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اس تابندہ کردار کا بڑی حد تک کریڈٹ ملک کی عدالت عظمیٰ کو بھی جاتا ہے جس کے تین رکن بنچ کے فاضل ججز نے کمیٹی کو اپنا کام بغیر کسی خوف اور دباؤ کے نمٹانے کے لئے مواقع بہم پہنچائے۔ اس کے ارکان پر کی جانے والی ناروا تنقید اور الزامات کی مسموم فضا میں انہیں بھرپور اعتماد سے نوازا۔ انہیں بروقت اپنا کام مکمل کرنے کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا ، جس کے لئے فاضل ججز کو عدالتی تاریخ میں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا رہے گا۔

اس پورے عدالتی عمل کے دوران ن لیگ بالخصوص شریف فیملی اور اس کے حواریوں کا کردار بھی یقیناًناقابل فراموش رہے گا۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ان سب کے میڈیا پر متضاد بیانات نے اس مقدمے کے آغاز سے پہلے ہی ہر با شعور فرد کو اس کے انجام سے باخبر کردیا تھا ۔ ان بیانات نے ہی شریف فیملی کے مقدمے کا کچا چٹھا کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا تھا ۔’’جھوٹ کے پاؤں نہ ہونے‘‘ کا محاورہ کیس شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو حقیقت ثابتہ کے طور پر منوا چکا تھا ۔ مقدمے میں وکلاء کے دلائل ،پانچ رکنی بنچ کا منقسم فیصلہ ، جے آئی ٹی کا قیام ، اس کی دس جلدوں پر مشتمل رپورٹ اور پھر پانچ رکنی بنچ کا متفقہ فیصلہ ، یہ سب کچھ تو محض رسمی کارروائی تھی ۔ اس کارروائی نے ن لیگ اور اس کی قیادت کو پوری طرح ایکسپوز کرکے رکھ دیا۔

پانچ رکنی بنچ میں سماعت کے دوران ، شریف فیملی کے بیانات میں ناقابل توتصور تضادات کی موجودگی میں قطری شہزادے کا خط نہلے پر دہلا تھا ۔ اس خط نے اس حقیقت کو پوری طرح اجاگر کردیا تھا کہ شریف فیملی دلائل کے اعتبار سے ایک بھربھرے ٹیلے پر کھڑی ہے ، جس کی ریت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے پاؤں تلے سے سرکتی جارہی ہے ۔ شریف فیملی اور اس کے ن لیگی حو اریوں کے ذہنی افلاس کا اس سے بڑاثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ منقسم فیصلے پر انہوں نے ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں اور بانٹیں، حالانکہ اس فیصلے کے بعد تو ان کے ہاں صف ماتم بچھ جانی چاہیے تھی ۔ دو معزز جج صاحبان نے تو یہ فیصلہ دے دیا تھا کہ دستیاب مواد کی روشنی میں میاں نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے ،جبکہ باقی ماندہ تین فاضل ججوں نے بھی انہیں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات سے بری قرار نہیں دیا تھا، وہ مزید تحقیقات اس حوالے سے چاہتے ہیں ۔ چنانچہ جے آئی ٹی بنا دی گئی ۔

مٹھائیاں کھانے اور کھلانے کے اس ماحول میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل پاتی ہے تو مقتدر اصحاب کا شاید یہ واہمہ تھا کہ ماضی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی طرح وہ اس ٹیم پر اثر انداز ہو کر اپنے مطلب کی رپورٹ تیار کروا لیں گے، ان کے ذہن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن والی جے آئی ٹی تھی ۔ وہ شائد یہ بھول گئے کہ اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل اور کار گزاری دونوں ہی عدالت عظمیٰ کی نظر میں رہیں گی۔ حکم رانوں نے اس میں اپنی مرضی کے بندے ڈلوانے کی کوشش کی تو عدالت عظمیٰ نے اسے ناکام بنادیا ۔ یوں ماضی میں اختیار کئے جانے والے ہتھکنڈے ابتداء میں ہی ناکامی سے دوچار ہوگئے ۔ اس ناکامی نے مزید نامرادیوں کے دروازے وا کردئیے اور بالآخر پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے کی رو سے نااہلی ماتھے کا جھومر بن گئی ، حالانکہ پوری شریف فیملی کی نااہلی تو جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران ہی واشگاف انداز میں سامنے آچکی تھی جب اس کا ہر فرد جے آئی ٹی کی پیشی بھگتنے کے بعد باہر آکر یہ اعلان کرتا تھا کہ اسے تو یہی پتہ نہیں چل رہا کہ اسے پر الزام کیا ہے ، حتیٰ کہ چھ چھ پیشیاں بھگت کر بھی انہیں الزام کا ادراک نہ ہوسکا ۔ جب سوجھ بوجھ کا یہ عالم ہو تو پھر نااہلی سے کہیں زیادہ اہلیت کو ثابت کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔

صرف یہی نہیں، متفقہ فیصلے کے بعد بھی یہی کہا جارہا ہے کہ کس بنیاد پر نااہل قرار دے یا ۔ صرف ایک اقامہ پر ۔ صرف بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے پر؟ حیرانی اس امر پر ہوتی ہے کہ جن حقائق کو چھپایا گیا ،اگر قانون کی روسے انہیں ظاہر کرنا ضروری تھا تو کیوں غلط بیانی کی گئی ؟ اور پھر غلط بیانی کہاں کہاں نہیں کی گئی؟ سابق وزیراعظم سے لے کر ان کی آل اولاد تک کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ۔ سابق وزیراعظم کے اپنے بیانات حقائق کے منافی۔ ان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں صداقت کا فقدان۔ قطری خط بادئ النظر میں محض ایک ڈرامہ جے آئی ٹی کو فراہم کردہ دستاویزات کا جعلی ثابت ہونا ، منی ٹریل کا ثابت نہ کرسکنا، ظاہر کردہ آمدنی سے کہیں بڑھ کر رہن سہن کا انداز اور پھرا س سب کچھ سے جڑے ہوئے بدعنوانی ، کرپشن اور ٹیکس کے معاملات ، کیا یہ سب کچھ ریکارڈ پر نہیں ہے؟ اگر ہے تو صرف اقامہ اور تنخواہ کا بار بار ذکر کیوں؟کیا یہاں بھی فہم و ادراک کا کوئی مسئلہ درپیش ہے؟ ابھی ریفرنسز تو کھلنے دیجئے اور پھر عدالت عظمیٰ کی متعین کردہ مدت چھ ماہ میں ان کے فیصلے تو آنے دیجئے ، فیصلے پر آپ کا یہ اعتراض ختم ہوجائے گا اور تب شائد آپ کا فہم و ادراک اس قابل ہوسکے کہ فیصلے کی اصل بنیاد کو آپ جان پائیں۔

پانامہ کیس کے دوران ہمارے لئے یہ امر حیران کن رہا کہ شریف فیملی کے دفاع کے لئے ملک کے سبھی سیکولر ، لبرل ، بھارت نواز ، اور دین دار حضرات و طبقات کی معتدبہ اکثریت یک جان ہوگئے ۔ سیکو لر، لبرل اور بھارت نواز طبقات کا تو اس لئے ان کا پشتیبان بن جانا سمجھ میں آتا ہے کہ ن لیگ کی قیادت نے اپنے موجودہ اقتدار سے قبل ہی اپنے آپ کو سیکو لر اور لبرل کہلانا شروع کردیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد اس نے عملاً یہ ثابت بھی کردکھایاتھا۔ دینی سیاسی جماعتوں میں سے تو ایک ہمیشہ اقتدار پارٹی کا دست بازو بنتی رہی ہے ۔ اسے نظریاتی اعتبار سے بعد المشرقین کے فاصلے رکھنے والی پارٹیوں کے ساتھ شریک اقتدار ہونے کے لئیلحظہ بھرکا تامل بھی گوارا نہیں رہا۔ اگر تامل رہا بھی تو صرف اس وقت تک جب تک ’’مطلوبہ اہداف‘‘ حاصل نہیں ہو پاتے رہے ۔ جبکہ ایک اور جماعت بھی اپنی سیاسی زندگی کو دامے ، درمے ، سخنے شریف فیملی کے ساتھ منسلک رہنے کا مرہون منت سمجھتی رہی ۔ ان جماعتوں کی طرف سے اسلام کا نعرہ تو بس۔۔۔چلئے مزید کیا کہنا ۔ عقلمند را اشار کافی است۔۔۔

ہم انتہائی عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ کرپشن کے خلاف جس مہم کا آغاز ہوا ہے اور اس ضمن میں کامیابی کی طرف جو پہلا قدم اٹھا ہے ، وہ یہیں تک محدود نہ رہے ۔ اس ملک کے ہر کرپٹ شخص کو ، خواہ اس کا تعلق کسی ادارے ، طبقے ، یا کسی جماعت سے ہو، و ہ کتنا ہی صاحب اثرو رسوخ کیوں نہ ہو ، وہ کتنا ہی بااختیار اور مقتدر کیوں نہ ہو، اس کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے اور تیز رفتار مقدمات کے ذریعے اسے اس کی بدعنوانی کی سنگین ترین سزائیں دی جانی چاہئیں۔ اب کسی بھی زرداری ، کسی بھی عاصم حسین ، کسی بھی شریف ، کسی بھی بیورو کریٹ ، کسی بھی لینڈ مافیا ، کسی بھی جرنیل ، کسی بھی صحافی ، کسی بھی جج ، کسی بھی تاجر اور صنعت کار وغیرہ کو ،جو بدعنوانی میں ملوث ہے، قانون کی گرفت سے بچنے نہیں رہنا چاہیے ۔ عدالت عظمیٰ نے ایک قابل تحسین سلسلے کا آغاز کیا ہے ، اسے تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ ذمہ داری حکم رانوں کی ہوتی ہے کہ وہ بدعنوان افراد و عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لائیں اور پوری دیانت وامانت کے ساتھ پاکستان کو کرپشن کے کینسر سے نجات دلانے میں مصروف عمل ہوں ۔ حکم ران اپنی کمزوریوں کی بنا پر یہ نہ کرسکیں تو عدالتوں کو اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہیے ۔ اس کی بدولت ہی پاکستان کو وہ صادق و امین لوگ میسر آسکیں گے جو اس ملک کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگا سکیں اور اسے اس کی نظریاتی منزل کی راہ پر گام زَن کرتے ہوئے حقیقی ترقی اور فلاح و کامرانی کو اس ملک کا مقدر بنا سکیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ